تحریک انصاف کا اھرنا روکنے کیلئے حکومت فسطائیت پر اترآئی: سراج الحق

تحریک انصاف کا اھرنا روکنے کیلئے حکومت فسطائیت پر اترآئی: سراج الحق

لاہور(خبر نگار خصوصی)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت دھرنا روکنے اور عوام سے احتجاج کا آئینی حق چھیننے کیلئے فسطائیت پر اتر آئی ہے ۔حکمران چاہتے ہیں کہ عوام انہیں گریبانوں سے پکڑ کر اقتدار کے ایوانوں سے نکالیں ۔کارکنوں کی پکڑدھکڑ اور خواتین کارکنوں پر تشدد کھلی جارحیت اور ریاستی جبر کی بدترین مشال ہے ۔حکومت پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بلا جواز گرفتار کرکے خوف و ہراس پھیلانے اور لوگوں کو احتجاج کے حق سے محروم کررہی ہے ۔عدلیہ اس ظلم و جبر کا فوری نوٹس لے اور حکومت کو گرفتار کارکنوں کی رہائی کا حکم دے ۔حکمران اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔صحت کا شعبہ سب سے زیادہ عدم توجہی کا شکار ہے ،سرکاری اداروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔منصورہ ہسپتال میں علاج معالجہ کا معیار اتنا اچھا بنائیں گے کہ اگر خدا نخواستہ کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت کو دل کا دورہ پڑ جائے تو اس کا علاج کیا جاسکے ۔ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے منصورہ ہسپتال میں گائنی کے نئے بلاک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ہسپتال کی گورننگ باڈی کے صدر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،ایم ایس ڈاکٹر انوار احمد بگوی ،طارق شفیق اور ہسپتال کا عملہ بھی موجود تھا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے 90کی دہائی کی سیاست کی یاد تازہ کردی ہے ،حکومت سرکاری اداروں کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کررہی ہے اور ملک میں خانہ جنگی کو دعوت دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں عوام کی خدمت نہیں بلکہ اسے بنیادی سہولتوں سے محروم رکھ کر اس کی خوشیاں چھیننا اور اپنی اور اپنے خاندان کی مراعات میں اضافہ کرنا ہے ۔ حکومت عام آدمی کو تعلیم ،صحت روز گار اورچھت کی سہولت تو دے نہیں سکتی اب اس سے احتجاج کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے ۔حکمران طبقہ کو اپنے قومی اداروں اور ڈاکٹروں پر اعتماد ہوتا تو وہ زکام کا علاج کرانے کیلئے بھی بیرون ملک نہ جاتے ۔انہوں نے ہسپتال کے عملہ کو ہدایت کی کہ منصورہ ہسپتال کو صفائی ،ستھرائی اور علاج کے اعلیٰ معیار کا مرکز بنائیں ،یہ محض جسمانی نہیں بلکہ روحانی علاج گاہ ہونی چاہئے ۔جہاں ہمارے حکمران بھی علاج کرانا پسند کریں ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں صحت کیلئے صرف 22ارب 40کروڑ رکھے گئے ہیں ، ایک پاکستانی کے حصہ میں صرف 111 روپے سالانہ آتے ہیں ۔جبکہ حکمرانوں کو ایک چھینک آجائے توقومی خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کردیئے جاتے ہیں ۔قبل ازیں جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قیام پاکستان سے اب تک ملک پر 35سال فوجی آمریت اور اتنا عرصہ ہی نام نہاد جمہوریت رہی ،جمہوریت کے نام پر امریکہ و مغرب کے ذہنی غلاموں نے شخصی آمریتیں مسلط کئے رکھیں اور آئین کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کے قوانین چلائے ۔لیکن اس پورے عرصہ میں ایک دن کیلئے بھی اسلامی نظام کو موقع نہیں دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی بات کرنے والوں کو ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ چور چور کا احتساب نہیں کرسکتا ،ملک میں بے لاگ اور بلا امتیاز احتساب کے نظام کیلئے دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے جوصرف جماعت اسلامی دے سکتی ہے ۔ہمارے مخالفین بھی ہمارے اجلے دامن کی گواہی دیتے ہیں ،کراچی میں ہمارے مخالفین آج نعمت اللہ خان کی دیانتداری اور کراچی کے شہریوں کی خدمت کی تعریف کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 70سال میں کارکنوں کی ایک ایسی ٹیم تیار کی ہے جو ملک و قوم کو ترقی اور خوشحالی میں دنیا کی باوقار قوموں کی صف میں کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ہم ڈنڈے اور بندوق کے زور پر نہیں آئینی طریقے سے تبدیلی چاہتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ دن بہت جلد آنے والا ہے جب ملک میں نظام مصطفی کا نفاذ ہوگا اور عوام ان ظالم و جابر حکمرانوں کے چنگل سے آزادی حاصل کرلیں گے ۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر