مقبوضہ کشمیر، مجاہدین کا گھات لگا کر حملہ، بھارتی فوجی ہلاک، پرتشدد مظاہروں میں سکول، گاڑیاں نذر آتش

مقبوضہ کشمیر، مجاہدین کا گھات لگا کر حملہ، بھارتی فوجی ہلاک، پرتشدد مظاہروں ...

سرینگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کا گھات لگا کر حملہ ، ایک بھارتی فوجی ہلاک ،ایک زخمی، وادی میں پر تشدد احتجاج جاری ،احتجاج کے 111ویں روز بھی جھڑپیں ،متعدد زخمی اور گرفتار، مزاحمتی خیمے کی ہڑتال ناکام بنانے کیلئے خار دار تاروں کا جال بچھا دیا گیا، پر اسرار نقاب پوشوں کی سرگرمیاں جاری،سکول اور گاڑیاں نذر آتش،مشتعل مظاہرین کا فورسز پر پتھراؤ، جواب میں آنسو گیس اور پیلٹ گنوں سے شیلنگ ،وادی میں فوجی بکتر بند گاڑیوں،جدید سازو سامان اور فوجی اہلکاروں کی تعنیاتی میں اضافہ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 111ویں روز بھی حالات کشیدہ ہیں اس دوران ٹنگڈار سیکٹر میں اس وقت ایک فوجی اہلکار مارا گیا جب ایک پٹرولنگ پارٹی پر مبینہ مجاہدین نے گھات لگا کر حملہ کیا۔پولیس کے مطابق غنڈہ پوسٹ کے نزدیک فائرنگ کے نتیجے میں رائفل مین سندیپ کمار ہلاک اور ایک اہلکار زخمی ہو گیا جس کی شناخت پردیپ بھنڈاری کے نام سے ہوئی ہے ۔ان دونوں اہلکاروں کا تعلق بھارتی فوج کی چھ گڈ وال سے بتایا جا رہا ہے۔ کارروائی میں حملہ آور موقع سے آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور فوجی اہلکاروں کا اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے ۔ادھراحتجاجی لہر کے111ویں دن وادی کے شرق و غرب میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ سرینگر،بجبہاڑہ،ترال سمیت کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے اور سنگبازی کے واقعات کے بعد فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے داغے۔اس دوران اسکولوں کے پراسرار طور پر نذر آتش ہونے کا سلسلہ جاری رہا جبکہ پارمپورہ اور رعناواری میں آٹو اور ایک ٹرک بھی پراسرار انداز میں خاکستر ہوگئے۔اس دوران شہر میں گزشتہ دنوں کے مقابلے میں سخت ہڑتال دیکھنے کو ملی جبکہ سوپور میں خوانچہ فروشوں پر پیٹرول بم سے حملہ کیا گیا۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مکمل ہڑتال اور سیاہ پرچم لہرانے کی کال کے پیش نظر انتظامیہ نے امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پائین شہراوردیگر حساس علاقوں میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے ۔ شہر خاص میں سڑکوں پر آواجاہی کو ناممکن بنانے کیلئے جگہ جگہ خار دار تاریں بچھا کر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں۔شہری علاقوں اور محلوں میں فورسز کی اضافی تعیناتی کی گئی تھی جبکہ جگہ جگہ پر پولیس اور فورسز اہلکار گشت کر رہے نظر آرہے تھے۔حساس علاقوں میں فوجی بنکرگاڑیوں اور جدید ساز و سامان سے لیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔پائین شہر کے نوہٹہ ،رعناواری، خانیار، بہو ری کدل، صراف کدل، راجوری کدل،حبہ کدل، کاوڈارہ، صفاکدل، نواکدل، نواب بازار، گوجوارہ،مہاراج گنج،فتح کدل ،کنہ کدل اور دیگر علاقوں میں بیشتر سڑکوں چوراہوں اور پلوں پر پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعداد تعینات رہی ۔ادھر ہڑتال کی وجہ سے شہر سرینگرمیں تمام طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے،بازار،بینک،تعلیمی ادارے او رغیر سرکاری دفاتر 111 روزبھی بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔

مزید : صفحہ آخر