پی سی ایس آئی آر کے سائنسدانوں نے خام مال کو تحقیق کر کے قیمتی بنا دیا، رانا تنویر حسین

پی سی ایس آئی آر کے سائنسدانوں نے خام مال کو تحقیق کر کے قیمتی بنا دیا، رانا ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)پی سی ایس آئی آر منسٹری آ ف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک ذیلی ادارہ نے معاشی ترقی میں پی سی ایس آئی آر کے کردار اور اس کے اثرات پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی رانا تنویر حسین وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے اپنے خطاب میں کہاکہ PCSIR کے سائنسدانوں نے ملک کے خام مال کو سائنسی بنیادوں پر تحقیق کرکے قیمتی بنادیا ہے جس سے مختلف کارخانے اپنی مصنوعات برآمد کرکے ملک کے لئے زرمبادلہ کمارہے ہیں۔ اور ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس موقع پرانہوں نے سوات میں ایک جدید سائنسی لیبارٹری کے قیام کا اعلان بھی کیا۔وفاقی وزیرنے امید ظاہر کی کہ اس سائنسی لیبارٹری کے قیام سے یہاں کی معدنیات، جڑی بوٹیوں، ذراعت اور ماربل وغیرہ کو سائنسی بنیادوں پر بروئے کار لایا جائے گا اور ملک کی برآمدات میں اضافہ سے کثیر زرمبادلہ بڑھانے میں مدد گار ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس لیبارٹری سے یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے وسیع مواقع ملیں گے۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے وزارت کا قلم دان سنبھا لنے کے بعد انڈسٹری اور ریسرچ اداروں کے درمیان رابطوں کے فقدان کو شدت سے محسوس کیا۔ اور چیئرمین صاحب کو ہدایت دی کہ مختلف چیمبرز اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز سے رابطے بڑھائیں اورصنعتی مسائل کو انکی دہلیز پر حل کریں۔ وزیر صاحب نے مزید کہا کہ ہم نے حلال فوڈ اتھارٹی قائم کی ہے۔ جس سے گوشت کے علاوہ ہمارے ہر قسم کی صنعتی و زرعی اشیاء کی سرٹیفیکیشن حاصل کرنی چاہئے ۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ سوات پورے ملک کیلئے ایک فروٹ باسکٹ کی حیثیت رکھتی ہے اوراقتصادی راہداری کی تعمیراوراس سے منسلک ہونے کے بعدیہاں کی فروٹ کی پیداوارعالمی منڈیوں تک رسائل حاصل ہوگی۔چیئرمین PCSIRڈاکٹرشہزادعالم نے کہا کہPCSIRپاکستان کی سب سے بڑی ریسرچ لیبارٹری نے صنعت کی ترقی کیلئے مختلف قسم کی اشیاء کے فارمولے تیا ر کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صنعت کار ان کی بدولت اپنی مصنوعات کو بہتر بنائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، اس وقت پاکستان میں ماربل کی تراش خراش اور پالش کی کوالٹی بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے اس لئے پاکستانی خاص طور پر سواتی سنگ مر مر کی بہترین کوالٹی کی پیداوار کو ممکن بنانے کیلئے PCSIR نوجوانوں کو تربیتی کورس کروائیگی۔انہوں نے فارمولیشن اور مفت تربیت دینے کا بھی اعلان کیا۔ سوات میں بہترین آڑو ، سیب اور جاپانی پھل پیدا ہوتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے اس کو بین الاقوامی منڈی میں ابھی تک بیچنے کے قابل نہیں بنایا جاسکا،PCSIR اپنے اداروں کے ذریعے مقامی کسانوں کو اپنے پھل برآمد کرنے میں مددے گی،اس کیلئے دسمبر 2016 سے چھ ماہ کے فوڈ پراسسنگ کے تربیتی کورس کا آغاز کیا جارہا ہے۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر ظفر اقبال نے کہاکہ سوات میں گزشتہ سال 35000(پینتیس ہزار) ٹن آڑو ،80000 (اسی ہزار) ٹن سیب اور 40000(چالیس ہزار) ٹن جاپانی پھل پیدا ہوا لیکن اس کو بین الاقوامی منڈی تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی، ان پھلوں کو ویلوایڈیشن کے ساتھ درآمد کرکے نہ صرف ہم سوات کے مقامی لوگوں کو کثیر زر مبادلہ کمانے کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جسکا کا سب سے بڑفا ئدہ یہ ہوگا کہ جب مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے تو وہ پیسوں کی خاطر دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی نہیں بنیں گے۔ اسی طرح سنگ مر مر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرکے برآمد کرنے سے بھی سوات میں معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔سوات چیمبر آف کامرس کے صدر حمید الرحمان صاحب نے مطالبہ پیش کیا کہ سڑکیں خراب ہونے کی وجہ سے علاقے کی سیاحتی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں تاہم وفاقی وزیر کے توسط سے ہم حکومت پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ کالام تک سڑک کو بحال کیا جائے تاکہ ہمارا مقامی ذرائع آمدن دوبارہ فعال ہو جائے۔ صدر سوات ہوٹل ایسو سی ایشن حاجی زاہد صاحب نے بھی سڑکوں کی زبوں حالی پر روشنی ڈالی اور حاضرین کو بتایا کہ نئی سڑکیں بنانے کیلئے حکومت نے بیس ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ پہلے سے موجود سڑکوں کی مرمت اس سے کہیں کم لاگت سے کی جاسکتی ہے۔ اس لئے ہماری گزارش ہے کہ نئی سڑک بچھانے کے ساتھ ساتھ پرانی سڑکوں کی مرمت پر بھی توجہ دی جائے اس سے ہماری ہوٹل اور سیاحتی صنعت کو دوبارہ کھڑے ہونے میں بہت مدد ملے گی۔ حاجی زاہد صاحب نے پی سی ایس آئی آر کو سوات میں لیبارٹری بنانے کیلئے دو کنال اراضی دینے کا بھی اعلان کیا۔

مزید : پشاورصفحہ اول