ہم سندھ سے اسلام آباد جانیوالوں کو نہیں روکیں گیں :مراد علی شاہ

ہم سندھ سے اسلام آباد جانیوالوں کو نہیں روکیں گیں :مراد علی شاہ

حیدرآباد(بیورو رپورٹ)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ احتجاج کرنا سب کا جمہوری حق ہے اس لئے ہم سندھ سے اسلام آباد جانے والوں کو نہیں روکیں لیکن احتجاج کرنے والوں کو بھی خیال رکھنا چاہئے کہ عوام کو تکلیف نہ ہو، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر تحفظات کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ اس پر پوری طرح عملدرآمد ہو، بلدیاتی اداروں کے اکاؤنٹس اس لئے منجمد کئے گئے ہیں تاکہ نئے وجود میں آنے والے بلدیاتی اداروں کو بھی فنڈز سے ان کا حصہ دیا جا سکے، صوبائی فنانس کمیشن فوری بن جائے اورایک ماہ میں وہ مالی وسائل کی تقسیم کا فارمولہ طے کر لے۔وہ پیپلزپارٹی کے ایم این اے نوید قمر شاہ کی رہائشگاہ پر لطیف آباد میں آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، اس موقع پر میزبان بھی موجود تھے، وزیراعلیٰ کی آمد پر اطراف کے تمام راستے سیکورٹی کے لئے بند کر دیئے گئے تھے۔ایک سوال پر ووزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم اسلام آباد جانے والوں کو روکنے کے لئے کوئی راستہ بلاک نہیں کریں گے احتجاج کرنا سب کا حق ہے کوئی جمہوری طریقے سے دھرنا دے یا ریلی نکالے لیکن اس بات کا خیال رکھا چاہئے کہ عوام کو تکلیف نہ ہو، کراچی میں احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو میں نے یہی پیغام دیا ہے کہ احتجاج ضرور کریں مگر عوام کی تکالیف کا بھی خیال رکھیں، انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کی قیادت میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پیپلزپارٹی نے اپنی ریلی اسی لئے اتوار کو رکھی تھی کہ عوام کو کم سے کم پریشانی ہو، پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے ایک سوال پر سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آصف علی زرداری نے صدر پاکستان کی حیثیت سے اس منصوبے کا تصور پیش کیا تھا اور اس کے لئے انہوں نے چین کے کوئی 22 دورے کئے تھے ایوان صدر میں آصف علی زرداری نے اس منصوبے کا ایک نقشہ بنا کر لگایا ہوا تھا یہی اب آگے بڑھایا گیا ہے اس منصوبے پر ہمارے تحفظات ضرور ہیں جس کا ہم وقتاً فوقتاً اظہار بھی کرتے رہے ہیں آل پارٹیز کانفرنس میں بھی ہم نے ان کا اظہار کیا تھا ہم اس منصوبے کے ہرگز خلاف نہیں ہیں، ہم اس پر عملدرآمد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں جس جس کے بھی منصوبے کے بارے میں تحفظات ہیں ان کو دور کیا جائے، انہوں نے کہا کہ نومبر کے آخر میں چین میں سی پیک منصوبے کی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے ہو سکتا ہے کہ میں خود بھی اس میں جاؤں یا سینئر افراد پر مشتمل کوئی وفد شریک ہو گاہم کوشش کر رہے ہیں کہ کیٹی بندر پاور پروجیکٹ کے علاوہ سی پیک انڈسٹریل زونز میں سے ہمیں مناسب حصہ دیا جائے امید ہے کہ ان دونوں چیزوں کو سی پیک میں شامل کرنے کے سلسلے میں وفاقی حکومت تعاون فراہم کرے گی، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دھرنے کے موقع پر سندھ سے اسلام آباد فورس بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہمارے پاس پہلے ہی پولیس نفری کم ہے اس لئے نئی بھرتیاں کر رہے ہیں، شادی ہال اور بازار بند کرنے کے بارے میں حکومت کے فیصلے کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں نے تجویز دی ہے وزیر صنعت اور وزیر بلدیات دونوں تاجروں سے رابطے میں ہیں ہمارا مقصد کوئی نیا مسئلہ پید اکرنا نہیں ہے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ اسٹیک ہولڈرز کی رائے شامل کرکے ہو گا، 50 ہزار نئی بھرتیوں کی شفافیت اور 13 ہزار غیرقانونی بھرتی بلدیاتی ملازمین کو نکالنے کے فیصلے کے بارے میں سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پوری کوشش کی جائے گی کہ نئی بھرتیاں میرٹ پر ہوں، انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ملازمین کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی ذاتی طور پر کسی ملازم کو نکالنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں یہ عدالت کا حکم ہے تاہم جن لوگوں نے انہیں غیرقانونی بھرتی کیا تھا انہیں ضرور سزا ملے گی، اس طرف توجہ دلانے پر کہ وزراء، سیکریٹریز سمیت اعلیٰ سرکاری افسران بھی ان غیرقانونی اور میرٹ کے خلاف بھرتیوں میں ملوث ہیں کیا ان کے خلاف بھی کاروائی ہو گی اس کا وزیراعلیٰ نے جواب نہیں دیا، محکمہ تعلیم میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ کل ہفتے کو مجھے احلف اٹھائے ہوئے تین ماہ ہوں گے انہوں نے جام مہتاب ڈھر جیسے تجربہ کار کو وزارت تعلیم دی ان کے ساتھ کئی اجلاس کرکے فیصلے کئے جس کے نتیجے میں اسکول اور کالج کی تعلیم کو الگ الگ کر دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کو برطرف کیا جا رہا ہے مالی معاملات درست کئے جا رہے ہیں کیونکہ اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہی تھیں خصوصاً پرائمری تعلیم کی حالت بہت خراب رہی ہے اس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے میں نہیں کہتا کہ پورا تعلیمی نظام درست ہو جائے گا مگر اس کی درست سمت ہم ضرور متعین کر دیں گے، سیکورٹی کے لئے صوبے کے وسائل کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وسائل محدود تو ہیں لیکن ہم نے ترجیحات مقرر کر رکھی ہیں صحت تعلیم اور امن و امان کے لئے ہم مالی وسائل میں کمی نہیں آنے دیں گے، پولیس کا بجٹ اس وقت 70 ارب سے زائد ہے یقیناً اور بھی ضروت ہو گی، انہوں نے کہا کہ جب نوید قمر شاہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ تھے تو میری ان سے بھی بات چیت رہتی تھی اور میں ان سے مالی وسائل کے لئے دباؤ ڈالتا تھا لیکن گذشتہ تین سال میں حالات کچھ اور خراب ہو گئے ہیں بدقسمتی سے وفاقی حکومت کی طرف سے صحیح طور پر مالی وسائل نہیں مل رہے ہیں ہم سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہیں وہ جلدی سمجھ جاتے ہیں اور کہیں دیر کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اپنی ترجیحات کے مطابق ان تینوں شعبوں میں کسی طرح بھی مالی وسائل کمی نہیں آنے دیں گے، امن و امان کے لئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے تعاون نہ ملنے کی شکایات کے حوالے سے سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ دو اڑھائی سال پہلے وزیراعظم نوازشریف نے ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس میں میں شریک نہیں تھا شائد انہوں نے امن و امان کے لئے سندھ کو 5 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا مگر ان میں سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا، سید قائم علی شاہ نے اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو کئی خط بھی لکھے تھے جس پر وفاقی حکومت نے کہا کہ ہم رقم کی بجائے آپ کو اسلحہ سمیت ضروریات کی چیزیں دیں گے مگر اس وقت ہماری ضروریات کا اسلحہ دستیاب نہیں تھا اس لئے پھر فوج سے ہم نے رقم ادا کرکے کچھ اسلحہ لیا تھا، انہوں نے کہا کہ امن و امان کا مسئلہ مکمل طور پر صوبائی معاملہ ہے اور میں اس کا انچارج ہوا وفاق کا اس سے براہ راست کوئی تعلق نہیں جو وفاقی ایجنسیاں ہیں وہ بھی میرے ماتحت کام کرتی ہیں اور ہمارا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سزا کے طور پر کسی بلدیاتی ادارے کے فنڈز منجمد نہیں کئے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کئی سطح کے نئے بلدیاتی ادارے قائم ہوئے ہیں ان کو بھی فنڈز مہیا کرنے ہیں، دو روز پہلے مجھے صوبائی فنانس کمیشن کی تشکیل کے لئے سمری موصول ہوئی ہے میری کوشش ہے کہ فنانش کمیشن فوری تشکیل پا جائے جس کے چار ممبران ہوں گے اور میں وزیر خرانہ کی حیثیت سے اس کا چیئرمین ہوں گے ان شاء اللہ ایک مہینے میں بلدیاتی اداروں کو فنڈز کی تقسیم کا فارمولہ طے کر لیا جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول