نیب ملتان غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کیخلاف کارروائی کیلئے متحرک

نیب ملتان غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کیخلاف کارروائی کیلئے متحرک

ملتان( نمائندہ خصوصی )نیب ملتان بیورو میٹروپولٹن زون میں بننے والی ہاؤسنگ سکیمیوں کے خلاف حرکت میں آگیاہے۔ گزشتہ روز ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نیب (بقیہ نمبر49صفحہ12پر )

الطاف حسین ساریو نے نیب آفس بہادرپور میں ڈائریکٹر جنرل نیب ملتان بیورو بریگیڈیئرناصر اعوان کو ایم ڈی اے کے ماسٹر پلان پربریفنگ دی اس دوران اے ڈی جی ایم ڈی اے نے میٹرو پولٹن زون میں بننے والی تین ہاؤسنگ سیکیموں رائیل آرچرڈ ، الفلاح اوربلیسنگ سٹی میں سامنے آنے والی بے قاعدگیوں کو تسلیم کرلیا۔ ان ہاؤسنگ سیکیموں کی قسمت کے بارے میں فیصلہ کرنے کیلئے دوہفتوں کی مہلت فراہم کرنے کی استدعا کی ۔ جس پر ڈی جی نیب نے انہیں فوری ایکشن لینے کاحکم معلوم ہوا ہے کہ ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے نیسپا ک کے ذریعہ 2008ء سے2028ء تک کاماسٹر پلان تیار کرایا گیا ۔ نیسپاک نے ایم ڈی اے کیلئے جوماسٹر پلان تیار کیا اس کو سٹیٹ آف آرٹ قرار دیاگیاآخر کار ایم ڈی اے کی گورنینگ باڈی کی منظور کے بعد اسے 2013ء میں لاگو کردیاگیامعلوم ہوا اس ماسٹر پلان کی تیاری پر ایم ڈی اے الاسٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے پچاس پچاس فیصد صرف کئے ۔ اس ماسٹرپلان کی لاگت پر تین کروڑ خرچ ہوئے ماسٹر پلان کے نفاذ کے بعد ایم ڈی اے حکام نے خود ہی اس کی خلاف ورزی شروع کردی اس کا انکشاف اس وقت ہوا جب شعبہ ٹاؤن پلانینگ کی ملی بھگت سے میٹروزون میں دھڑا دھڑ ہاؤسنگ سکیمیں بنناشروع ہوگئیں 2013ء میں الفلاح ہاؤسنگ سٹی کا کیس منظوری کیلئے شعبہ ٹاؤن پلانینگ میں پیش ہوا تو اس وقت کے ڈی جی ایم ڈی اے نے اس ہاؤسنگ سکیم کانقشہ منظورکرنے سے انکار کردیا اور کمنٹس دیتے کہ میٹروپولیٹن زون میں کسی قسم کی کالونی نہیں بن سکی وقت گزرتا رہا اس دوران ایم ڈی اے کی باگ ڈور ڈیپوٹیشن پرآنے والے ڈی ایم جی گروپ نے سنبھال لی اس گروپ کے افسران نے میٹرو پولیٹن زون اورماسٹر پلان کی کھلی خلاف ورزی کی اجازت دے دی ۔2014میں موضع درانہ نگانہ میں ایک حکومتی حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے ایک گروپ نے اپنی ہاؤسنگ سکیم کاکیس تیار کیا اور ایم ڈی اے میں منظوری کیلئے پیش کردیا ۔ معلوم ہوا ہے یہ گروپ اس وقت ملتان میٹروبس پروجیکٹ پربھی کام کررہاہے ایم ڈی اے کی موجودہ انتظامیہ نے اس گروپ کونواز نے کیلئے ماسٹر پلان کی کھل کرخلاف ورزیاں کیں۔ تجربہ کارافسران کی جانب سے مخالفت پر انہیں ڈرایا گیا ۔آخر کار انہیں طویل رخصت پربھیج کرجونیئر سطح کے افسران سے میٹرو پولیٹن زون میں بننے والی ہاؤسنگ سیکیموں کے کیسز پرکارروائی کرائی گئی ان افسران نے اپنے اعلی افسران کی آشیر بادسے پرانے اور تجربہ کار آفسران کوبھی مات دے دی بتایا جاتاہے میٹروپولٹن زون میں کالونی کانقشہ منظور کرنے کیلئے ساراماسٹر پلان ہی نظرانداز کردیا گیا ۔ متی تل روڈ پر گیٹ شو کرنے کی بجائے ملتان پبلک سکول روڈ پر مرکزی گیٹ تیار کرنے کا مشورہ دیاگیا ۔کیو نکہ متی تل روڈ پر مرکزی دروازہ شو کرنے کی صورت میں میں ایم ڈی اے حکام کو نقشہ منظور کرنے کیلئے قانونی مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا تھا۔ ایم ڈی اے حکام کی اس ملی بھگت کیو جہ سے میٹرون پولٹن زون میں رائیل آرچرڈ کانقشہ منظورکرلیا گیا۔ بعدازاں ترمیمی نقشہ بھی منظور کرلیاگیا رائیل آرچرڈ کامنظور شدہ نقشہ8مربع پرمشتمل ہے لیکن سائیٹ پر25مربع سے بڑھ چکاہے ۔ اسی طرح بلیسنگ ہومز اورالفلاح ہومز کی صورتحال ہے ۔ جب ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے کی توجہ اس قسم کی غیر قانونی کالونیوں کی جانب مبذول کرائی گئی توانہوں نے کہا میٹرو پولٹن زون کی خلاف ورزی کے بارے میں نیسپاک سے پوچھا جائے۔ جب انہیں بتایاگیا کہ نیسپاک کی بجائے ایم ڈی اے جوابدہ ہے توانہوں نے کہا ہمارے اندرونی معاملات میں میڈیا مداخلت نہ کرے۔ ہم اپنے قوانین کانفاذ احسن طریقے سے کرسکتے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر