فلپائن کا میئر پولیس مقابلے میں ہلاک، کیا کرتا تھا اور کیوں مارا گیا؟ حیران کن وجہ

فلپائن کا میئر پولیس مقابلے میں ہلاک، کیا کرتا تھا اور کیوں مارا گیا؟ حیران ...
فلپائن کا میئر پولیس مقابلے میں ہلاک، کیا کرتا تھا اور کیوں مارا گیا؟ حیران کن وجہ

  

منیلا (مانیٹرنگ ڈیسک) فلپائن کے صدر روڈریگو ڈیوٹریٹ کی جانب سے جرائم کے خلاف کریک ڈاﺅن تیز کرنے کی دھمکی کے بعد منشیات سمگلنگ کے ملزم فلپائن کے ایک میئر اپنے 9 باڈی گارڈز کے ساتھ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

’مجھے خدا کی آواز آئی کہ یہ کام فوری کردوں ورنہ وہ میرا جہاز گرادے گا‘ فلپائن کے صدر نے ایسی بات کہہ دی کہ دنیا حیران پریشان رہ گئی

سمسودین دیماﺅ کوم سعودی امپاٹوان کے جنوبی ٹاﺅن کے میئر تھے اور پولیس اور ججوں سمیت ان 150 افراد میں شامل تھے جنہیں فلپائنی صدر کی جانب سے منشیات کی غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی تھی۔ فلپائن میں جاری جرائم کی جان لیوا جنگ میں اب تک 3,800 افراد مارے جا چکے ہیں جس پر امریکہ ، اقوام متحدہ اور عالمی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی اور پولیس پر لوگوں کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا۔

پولیس کے ترجمان سپرنٹنڈنٹ رومیو گالگو نے کہا کہ مکیلالا ٹاﺅن میں مقتول مئیر کی گاڑی کو جب منشیات کی سمگلنگ کے شبہ میں ایک چیک پوائنٹ پر روکا گیا تو انہوں نے فائر کھول دیا جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور تمام افراد مارے گئے۔ ملزم بھاری اسلحہ سے لیس تھے اور پولیس کو فائرنگ کر رہے تھے جس کے باعث جوابی فائرنگ کرنے پر مجبور ہوئے۔“

آدمی کی آنکھ ہر رات 3 بجے پراسرار آوازوں سے کھل جاتی، بالآخر راز معلوم کرنے کیلئے خفیہ کیمرہ لگادیا، دراصل کس چیز کی آواز تھی؟ ایسا انکشاف کہ کبھی خوابوں میں بھی تصور نہ کیا تھا

مقتول میئر کو اپنے ٹاﺅن میں امن کے نام پر ایک مسجد قائم کرنے پر شہرت حاصل ہوئی جو پرتشدد مظاہروں کے باعث متاثر ہوئی تھی۔ مسلمان باغی لمبے عرصے سے اس علاقے میں علیحدگی پسند بغاوت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فلپائن کے صدر، جو مئی میں منشیات کے خاتمے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے، نے اپنے ناقدین کو ”بیوقوف“ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مجرموں کو مارنے کی بات کر کے کوئی قانون نہیں توڑ رہے۔

جاپان کے دورہ سے واپسی پر انہوں نے پولیس کو منشیات کے جرم میں ملوث افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا کام تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ”ملک میں منشیات کے خاتمے کی میری خواہش پوری نہیں ہوتی تو آپ 20 سے 30 ہزار مزید اموات کی توقع کر سکتے ہیں۔ یہاں ایک جنگ جاری ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس