مزدوری کیلئے دبئی جانے والا یہ پاکستانی نوجوان صرف چند سال میں ہی کہاں سے کہاں جاپہنچا؟ تفصیلات جان کر آپ کو بھی اس پر بے حد فخر ہوگا

مزدوری کیلئے دبئی جانے والا یہ پاکستانی نوجوان صرف چند سال میں ہی کہاں سے ...
مزدوری کیلئے دبئی جانے والا یہ پاکستانی نوجوان صرف چند سال میں ہی کہاں سے کہاں جاپہنچا؟ تفصیلات جان کر آپ کو بھی اس پر بے حد فخر ہوگا

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک)تخلیقی ذہن، مثبت سوچ اور کچھ کرنے کی لگن ہو تو کسی بھی شخص کی زندگی بدل سکتی ہے اور یہ بات محنت مزدوری کے لیے دبئی جانے والے پاکستانی نوجوان علی نے ثابت کر دی ہے جو آج ایک کامیاب پروفیشنل ویڈیو میکر اور فوٹوگرافر بن چکا ہے۔ خلیج ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق علی 2006ء میں مزدوری کی غرض سے دبئی آیا۔ اس وقت اس کی عمر 18سال تھی۔ علی کا کہنا تھا کہ ’’میں نے یہاں آ کر ایک تعمیراتی منصوبے پر مزدوری شروع کر دی۔ میرا فورمین بہت مہربان آدمی تھا۔ حالانکہ میں نوجوان تھا، اس کے باوجود وہ مجھے آسان کام دیتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں نے کچھ بننے کا سوچا۔ سب سے پہلے میرے ذہن میں جو خیال آیا وہ یہ تھا کہ میں سول فورمین بن جاؤں۔ اس کے لیے میں نے کچھ فورمینز سے دوستی کی جنہوں نے مجھے کنسٹرکشن سائٹ ڈرائنگ کے متعلق بہت کچھ سکھایا۔ میں نے چھوٹے چھوٹے مقاصد متعین کرنے شروع کر دیئے اور ان کے حصول میں جت گیا۔ میں نے کبھی اپنے لیے کوئی بڑا مقصد متعین نہیں کیااور کبھی ایک جست میں چاند کو چھونے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔‘‘

چھوٹی سی بچی کی ویڈیو نے انٹرنیٹ پر تہلکہ برپا کردیا، دبئی کے حکمران نے ملاقات کیلئے پاس بلالیا کیونکہ۔۔۔

علی نے مزید بتایا کہ ’’8ماہ بعد مجھے 10مزدوروں کا انچارج بنا دیا گیا۔ اس سے اگلا مقصد یہ تھا کہ میں کسی طرح ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر لوں۔ یہ بھی میں نے ایک سال میں حاصل کر لیا۔ اس کے بعد کنسٹرکشن کمپنی کی گاڑیاں چلانی شروع کر دیں۔ اس کے بعد مجھے لیموزین ڈرائیور کی نوکری کی پیشکش ہوئی جس کے لیے انگریزی بول چال لازمی تھا۔ چنانچہ میں نے انگریزی سیکھنی شروع کر دی۔ میں روزانہ اخبار پڑھتا، نوٹس بناتا اور زیادہ تر وقت انگریزی بولنے کی کوشش کرتا۔ میرے روم میٹ اس پر میرا مذاق اڑاتے تھے مگر میں اس چیز سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ بالآخر میں نے لیموزین ڈرائیور کی نوکری حاصل کر لی۔ اس نوکری کے دوران میری ملاقات ایک انٹرنیشنل فوٹو جرنلسٹ سے ہوئی۔ وہ میری گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔ اس نے میری حوصلہ افزائی کی اور اپنے کیمرے سے مجھے تصویریں بنانے کو کہا۔ تصویریں اتفاق سے اچھی بن گئیں جس پر اس نے کہا کہ مجھ میں ٹیلنٹ ہے۔ اس کے بعد میں نے فوٹوگرافی کو اپنا مقصد بنا لیا۔ میں نے ایک چھوٹا سا کیمرہ خریدا اور فوٹوگرافی گروپ جوائن کر لیے اور ان کی ورکشاپس میں شرکت کرنے لگا۔ 5سال اس مقصد کے حصول کی جدوجہد کرنے کے بعد مجھے اسسٹنٹ پروڈکشن کی نوکریوں کی پیشکش ہونے لگی۔ پھر ایک روز گلف فوٹوپلس کے محمد سومجی نے مجھے نوکری پر رکھ لیا۔ اب میں پروفیشنل پروڈکشن اسسٹنٹ کی پوسٹ پر کام کررہا ہوں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق علی نے حال ہی میں ’’آئی واس ناٹ ہیپی‘‘ کے نام سے ایک ڈاکومنٹری بھی بنائی ہے جس کی نمائش پاکستان میں ایک فلم فیسٹیول میں کی گئی۔

مزید : عرب دنیا