تنازعہ کشمیر اور بھارتی ہٹ دھرمی

تنازعہ کشمیر اور بھارتی ہٹ دھرمی

پاکستان کے شمال میں ریاست کشمیر کا علاقہ ہے، وہاں 80 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔

1947ء میں ہندوستان کی تقسیم کے قانون کے مطابق مسلمانوں کی اکثریت کے علاقے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے تھے، لیکن بھارت نے ریاست کے حکمران ڈوگرہ مہاراجہ سے مل کر کشمیر پر قبضہ کر لیا، اُس وقت سے کشمیریوں نے بھارت سے آزادی کی جدوجہد شروع کر دی۔

1948ء میں بھارت خود کشمیر کا مسئلہ لے کر اقوام متحدہ میں گیا۔اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کوتسلیم کیا گیا۔اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرونے اقوام عالم کے سامنے وعدہ کیا کہ وہ کشمیر میں استصواب رائے کرائیں گے،لیکن بھارت آج تک اس وعدے سے منحرف ہے۔1947ء سے لے کر آج تک کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، لیکن اُنہوں نے بھارتی حاکمیت کوتسلیم نہیں کیا۔بھارت اچھی طرح جانتاہے کہ کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ رشتے کی بنیاد لاالہ الااللہ ہے، اُن کا پاکستان سے رشتہ محبت کا رشتہ ہے ۔

بھارت سے وہ شدید نفرت کرتے ہیں۔بھارتی حکمرانوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پاکستان کے 20 کروڑ عوام کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھاتے رہیں گے۔حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہو ں، حکومت پاکستان کشمیریوں کی حمایت سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گئی۔

بھارت کشمیر کی حریت قیادت کو نظر انداز کر کے کشمیر پر تسلط نہیں جما سکتا، وہ ایک بڑے مقصدکے حصول کے لئے موت کے خوف سے ماورا ہوکر آزادی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، اس لئے اُنہیں بند وق کے زور پرکوئی طاقت غلام نہیں بنا سکتی۔

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسے پاکستان سے کسی بھی صورت میں جدا نہیں کیا جاسکتا ۔کشمیر کی آزادی نا گزیر ہے۔

عالمی برادری کو اس بات کا ادراک کرنا چا ہیے کہ کشمیر ہی وہ واحد مسئلہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے۔ اس مسئلے پر پاک بھارت جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور عالمی برادری کو بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں اس مسئلے کو حل کروائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر کے تنازعے پر بھارتی حکمران ہمیشہ تاخیری حربے استعمال کرتے آرہے ہیں۔ بھارتی حکومت کشمیر کی تحریک آزادی کو دبانے کے لئے اپنے وسائل کا بڑا حصہ خرچ کر رہی ہے۔ بھارت کی تقریباً سات لاکھ فوج کشمیر میں موجود ہے جو کشمیریوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہی ہے۔

کشمیری نوجوانوں کو ٹارچرسیلوں میں بند کر کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ جدوجہد آزادی کو دبانے کے لئے خواتین کے بالوں کی چٹیا کاٹی جا رہی ہیں، لیکن کشمیر ی آزادی سے کم کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے اور جنیوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہزاروں کشمیری جن میں بچے بھی شامل ہیں، معذور اور اندھے ہوچکے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے۔ عالمی برادری جس قدر جلد کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے مواقف کو سمجھے گی، اتنا ہی عالمی امن کے لئے بہتر ہو گا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ 70سال گزرجانے کے باوجود بھارت کشمیریوں کے دل سے پاکستان کی محبت ختم نہیں کر سکا۔ کشمیری اپنی آزادی اور پاکستان کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔

ان ستر سالوں میں کشمیری ایک لمحہ کے لئے بھی ہمت نہیں ہارے، بلکہ دن بدن ان کی تحریک آزادی میں شدت آ رہی ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد آزادی کی اس تحریک میں مزید شدت آ گئی ہے، جس نے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں لوگ کشمیری شہداء کے جنازوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جو اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ کشمیر کی آزادی قریب ہے۔ 1990ء سے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔

کشمیر کے معاملے میں عالمی برادری کی بے حسی انتہائی افسوسناک ہے۔ کشمیر کی صورت حال عالمی ضمیر اور انصاف کے علمبرداروں کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال میں مسلسل کرفیو اور احتجاج کی وجہ سے خوراک، دوائیوں اور دیگر بنیادی سہولتوں سے کشمیری عوام کو محروم رکھا جا رہا ہے۔

کشمیری اپنے جان و مال اور کاروبار کی صورت میں قربانیاں دے رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ ان کی جدوجہد کا مقصد صرف بھارتی تسلط سے آزادی ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی دراصل کشمیریوں کے دل کی آواز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنی تمام تر طاقت اور اثر و رسوخ کے باوجود آزادی کی اس تحریک کو کچلنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

کشمیر پر بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے پورا خطہ کسی بڑی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، اس کے خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں اور پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سر فہرست ہے۔ پاکستانی قیادت ہمیشہ سے اس مسئلے کو عالمی برادری کے سامنے اٹھاتی رہی ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی موقف کو مدلل انداز میں پیش کیا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اقوام متحدہ کشمیر پر اپنی قرار دادوں کا وعدہ پورا کرے۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ سے کشمیر میں فیکٹ اینڈ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔کشمیر میں احتجاج کی موجودہ لہر سے کشمیریوں کو سیاسی و سفارتی سطح پر کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، جن کے مثبت نتائج نکلیں گے اور ان شاء اللہ فتح کشمیریوں کی ہو گی۔

کشمیری ہر سال 27اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں کہ شاید دنیا کو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا احساس ہو جائے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عالمی امن اور انصاف کا پرچار کرنے والے 70سال گزرجانے کے باوجود کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں دلا سکے۔ کشمیر کے تنازعے پر اقوام متحدہ کی سرد مہری لمحہ فکریہ ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...