’’بھلیاں راہواں‘‘ کی تقریب پذیرائی

’’بھلیاں راہواں‘‘ کی تقریب پذیرائی
 ’’بھلیاں راہواں‘‘ کی تقریب پذیرائی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مادری زبان سے محبت فطری جذبہ ہے۔میرے اندر یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔اپنی ماں بولی پنجابی زبان سے محبت میرا بڑا اثاثہ ہے ۔

جو بھی اپنی ماں بولی سے محبت کرے مجھے اس سے بے پناہ محبت ہو جاتی ہے۔رسول حمزہ طواف سے بے پناہ محبت کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس نے اپنی مادری زبان سے محبت کی اور بے پناہ کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جب اپنے خیالات ، مشاہدات اور تاثرات کو قرطاس پر منتقل کیا تو اپنی مادری زبان کا سہارا لیا۔’’میرا داغستان ‘‘رسول حمزہ طواف کے اعلیٰ خیالات ، حقیقت پسندانہ مشاہدات اور عمدہ ترین تاثرات کا مجموعہ ہے۔

جن لوگوں نے رسول حمزہ طواف کی ’’میرا داغستان‘‘ پڑھ رکھی ہے، یقینی طور پر وہ بھی میری طرح اس کے سحر میں گرفتا ر ہو ں گے۔’’میرا داغستان‘‘ کی ابدی عظمت کا سبب یہی ہے کہ رسول حمزہ طواف نے اسے اسی زبان میں قلمبند کیا جس میں اس نے سوچ بچار کی۔اپنی قومی زبان ’’رشین‘‘ کی بجائے اس نے اپنی مادری زبان کو ترجیح دی اور داغستانی زبان میں اظہار خیال کر نا پسند کیا یہی اس کی بے پناہ شہرت کا سبب بن گیا۔

میرے نزدیک عربی زبان کے بعد پنجابی زبان دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے۔عربی زبان کی وسعت کی تو انتہا نہیں۔ ایک ایک چیز کے لئے بیسیوں نہیں سینکڑوں متبادل لفظ موجود ہیں۔مثلاًشیر کے لئے ہی صرف پانچ سو لفظ استعمال کئے جاتے ہیں جو شیر کی مختلف کیفیا ت کے مطابق ہوتے ہیں۔

میری ذاتی لائبریری میں ’’اسماء الاسد‘‘ کے نام سے کتاب موجود ہے جس میں شیر کے لئے پانچ سو لفظ موجود ہیں ۔ اسی طرح گھوڑے کے لیے تقریباً ایک ہزار اور تلوار کے لئے پندرہ سو کے لگ بھگ متبادل لفظ عربی زبان میں موجود ہیں۔

یہ عربی زبان کا خاصہ ہے اور دنیا کی دوسری کوئی زبان اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ عربی کے بعد میرے نزدیک دوسری بڑی زبان پنجابی ہے جس میں بھی متبادل لفظوں کی تعداد کافی ہے مثلاً ایک لفظ ’’وٹ‘‘ کے تنوع سے ہی اس کی وسعت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

پنجابی بڑی زرخیز زبان ہے۔ اس میں سوچنے کا مارجن بہت زیادہ اور بیان کرنے کا اس سے بھی کہیں زیادہ موجود ہے۔میاں محمد بخش ؒ ، وارث شاہ ؒ ، حضرت سلطان باہوؒ ، بابا فریدؒ ، شاہ حسینؒ ، پیر مہر علی شاہؒ ، دائم اقبال دائم اور محمد بوٹا گجراتی وغیرہ نے پنجابی زبان کی عظمت کو نہ صرف ذاتی طور پر سمجھا بلکہ اپنے اظہاریے کے ذریعے سے اس بات کو منوایابھی ۔پنجابی زبان کا اعجاز ہے کہ اس نے اپنی زلفیں سنوارنے والوں کو ابدی شہرت بخشی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جب تک یہ زبان زندہ رہے گی اس کی آبیاری کرنے والوں کے نام بھی زندہ جاوید رہیں گے۔صدام ساگر نے اپنے اسلاف کے اس فلسفے کو بخوبی سمجھ لیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے اظہاریے کے لئے بھی اپنی مادری زبان کا ہی انتخاب کیا ہے۔

’’بھلیاں راہواں‘‘ صدام ساگر کا اولین شعری مجموعہ ہے جس میں انہوں نے اپنے احساسات ، خیالات، تجربات اور مشاہدات کو بڑی چابکدستی سے پیش کیا ہے۔

غالباً ان کے پہلے ’’ عشق‘‘ کی رودادبھی اس کتاب میں شامل ہے۔ ’’بھلیاں راہواں‘‘ کوئی انوکھا تجربہ تو قرار نہیں دیا جا سکتا ،البتہ نیا ذائقہ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ صدام ساگر اپنی اس کتاب کے ذریعے ہمیں اسی ذائقے سے آشنا کراتا ہے جس کی لذت سے وہ بخوبی واقف ہے۔اس نے نئی راہیں تلاش کرنے کی بجائے گمشدہ راہوں کا انتخاب کیا ہے او ر ہمیں ان کی سیر کرنے پر مجبور کرتا نظر آتا ہے۔ان راہوں کا جن کی مسافت طے کرتے کرتے کئی عاشقِ صادق اپنی آخری سانس تک کھو بیٹھے اور دارلفنا کی راہ لی۔

’’بھلیاں راہواں‘‘ صدام ساگر کا وہ مشاہدہ ہے جو زندگی کے قریب تر ہے ۔یہ اس کا ذاتی تجربہ بھی ہے جو مستعار لئے ہوئے تجربے سے کہیں بہتر ہے ۔ہر چند اسے سو فیصدی پختہ دم قرار نہیں دیا جا سکتا۔مَیں ذاتی طور پر صدام ساگر کے اس تجربے سے متاثر ہوا ہوں۔

اس نے راہیں تو نئی تلاش نہیں کیں، بلکہ صدیوں پہلے دریافت کی گئی راہوں پر ہی سفر جاری رکھا ہے بلکہ اپنے قارئین کو بھی ان بھولی ہوئی راہوں پر اپنے ساتھ سفر کرنے کی دعوت دی ہے لیکن یہ بات نہایت توجہ طلب ہے کہ اس کا مشاہدہ حقیقی ہے اور زندگی کے بہت قریب بھی ۔

گزشتہ دنوں ’’بزم جانِ ادب‘‘ نے صدام ساگر کی اس کتاب ’’بھلیا ں راہواں‘‘ کی تقریب پذیرائی کا اہتمام کیا۔ معروف شاعر جان کاشمیری کی صدارت میں ہونے والی اس تقریب میں ملک کے نامور اہلِ علم و ادب نے اظہار خیال کیا۔جناب ڈاکٹر سعید اقبال ، عرفانہ امر، عصمت نذیر ، سید عباس زیدی، سید واجد علی نقوی، افتخار علی گل،وسیم عالم، خواجہ آفتاب عالم ایڈووکیٹ ، ڈاکٹر امین جان اور شریف فیاض وزیر آبادی سمیت دیگر نے اپنی قیمتی رائے سے حاضرین کو نوازا۔فیاض اروپی اور فیصل بٹ نے باقاعدہ موسیقی کے ساتھ صدام ساگر کے کلام کو حاضرین کے سامنے پیش کیا۔تقریب کی نظامت کی ذمہ داری پر وفیسر نائلہ بٹ نے بخوبی سرانجام دی۔

مجھے خوشی ہوئی کہ اردو کی استاد (جو گورنمنٹ کالج برائے خواتین کی پرنسپل بھی ہیں ) نے کمال مہارت سے اپنی مادری زبان پنجابی میں تقریب کو یادگار بنا دیا۔اقصیٰ لیاقت نے اپنی مسحور کن آواز میں نعت پڑھ کر حاضرین کو عشق رسولؐ میں جھومنے پر مجبور کر دیا۔نامور نعت خواں سید عباس زیدی کی آواز کا تو زمانہ مداح ہے۔جب وہ نعت پڑھتے ہیں تو دل کے تار براہ راست مدینہ سے جڑ جاتے ہیں اور آپ بیٹھے بیٹھے روضۂ رسول ؐ کی زیارت کرنے لگتے ہیں۔

سید عباس زیدی نے نعت پڑھی تو حاضرین پر وجد طاری ہو گیا۔اس تقریب کے مہمانان خصوصی افتخار علی بٹ صدر پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن ،ملک توصیف اقبال کشمیری صدر گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹ ،عرفان علی مہر چیف ایڈیٹر روزنامہ’’ڈویژنل ٹائمز‘‘نے اس تقریب کو شہر کی یادگار تقریب قرار دیا۔

اس تقریب کے ذریعے صدام ساگر نے ادبی فضا میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہر آنے والادن صدام ساگر کی شہرت میں اضافے کا سبب بنے گا۔

وہ دن دور نہیں جب صدام ساگر ادبی تقریبات کی ضرورت بن جائے گا۔یہ میری دعا بھی ہے اور خواہش بھی، کیونکہ صدام ساگر اپنی ماں بولی سے سچی محبت کرتا ہے جو میرے لئے متاثر کن بات ہے ۔ دعا ہے صدام ساگر بھی رسول حمزہ کی طرح عالمی شہرت حاصل کرے۔

لیکن اس کے لیے صدام ساگر کو بے پناہ جدوجہدکرنا ہو گی۔امید ہے ’’بھلیاں راہواں‘‘ محض آغازِسفر ثابت ہوگاحتمی پڑاؤ نہیں۔

مزید : کالم