کپاس ،چاول اور گنے کے کاشتکاروں کا تحفظ

کپاس ،چاول اور گنے کے کاشتکاروں کا تحفظ
کپاس ،چاول اور گنے کے کاشتکاروں کا تحفظ

  

گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے صوبے کے 5 لاکھ چھوٹے کسانوں کو 100 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کو قرضوں کی فراہمی کے لئے ٹیلی نار ٹیکنالوجی پارٹنر ہے، ان قرضوں کا سود پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔ قرضے شفاف طریقے سے دیئے جائیں گے۔

پنجاب حکومت اور بینکوں کے مابین کسانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لئے معاہدے پر دستخطوں کی تقریب ایوان وزیر اعلیٰ میں ہوئی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ابتدائی طور پر چھوٹے کاشتکاروں کے لئے مختص رقم 77 ارب روپے تک بڑھانے کا اعلان کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں 23 ارب روپے کے اضافے سے لاکھوں مزید چھوٹے کاشتکار فائدہ اٹھائیں گے۔ ملک کی 70سالہ تاریخ میں کبھی بھی کسانوں کو بلاسود قرضے نہیں دیئے گئے۔ یہ ملک کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ لاکھوں کسان اس پیکیج سے مستفید ہوں گے۔ کھاد کی قیمتیں کم کرنے سے زراعت پر مثبت اثرات پڑے ہیں۔ بلاسود قرضوں کی فراہمی کا تاریخ ساز پروگرام معاشی و سماجی اورسبز انقلاب برپا کرے گا۔ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان ترقی کرے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے مال روڈ پر جو دھرنے ہوتے تھے، اب نہیں ہوں گے، بلکہ اب انہیں اس 100 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کے پروگرام پر ایک دوسرے کو گلے لگانا چاہیے اور مٹھائیاں باٹنی چاہئیں، کیونکہ حکومت پنجاب نے پیکیج چھوٹے کاشتکارو ں کی خوشحالی کے لئے دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے تقریب میں موجود بینکرز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بینکر قرض دیتے وقت ہمیشہ یہ سوچتا ہے کہ مالدار شخص کو قرض دیا جائے، جہاں رقم ڈوبنے کا اندیشہ نہ ہو، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ اربوں روپے کے قرضے اس ملک کی اشرافیہ نے ہڑپ کئے ہیں۔ محنت سے روزی کمانے والا غریب آدمی قرضے ہضم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیلی نار اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بینک نے پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔

ٹیلی نار پاکستان کے سی ای او عرفان وہاب خان نے کہا کہ قرضوں کی رقم ایزی پیسہ موبائل اکاؤنٹ کے ذریعے کسانوں تک پہنچے گی۔ زراعت سے متعلق بہت سی ایپلی کیشنز کا دائرہ کار مزید بڑھایا جارہا ہے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے کسانوں کے لئے انڈر رائیڈ ایپلی کیشن تیار کی ہے، جس کے لئے سروسز ٹیلی نار پاکستان فراہم کرے گی۔

سابق وزیر اعظم نے ایک بڑے کسان پیکیج کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں کھاد کی قیمتوں میں کمی اور ٹیوب ویل کی بجلی پر سبسڈی، گنے اور چاول کے کسانوں کو نقد معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے ثمرات کسانوں کو منتقل نہیں کئے جاسکے۔ بہت سے چھوٹے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اس سکیم سے ان کا شتکاروں کو فائدہ نہیں ہوگا۔ جن کے پاس زمین کی ملکیت کی کمپیوٹرائزڈ ستاویزات نہیں اور دوسرے یہ کہ بعض دور دراز علاقوں کے کسانوں کے پاس اس اچھی اسکیم کے بارے میں ضروری اطلاعات بھی نہیں ہیں۔ حکومت پنجاب کی جانب سے بلاسود قرضوں کی فراہمی بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے، تاہم ضرورت ہے کہ اس کی مانٹیرنگ کا بہتر انتظام کیا جائے تاکہ ضرورت مند اور چھوٹے کاشتکاروں کو یہ سہولت ان کے گھر پہنچائی جاسکے۔

2017-18ء میں صوبہ پنجاب میں .1 4 ملین ایکڑ رقبہ دھان کے زیر کاشت لایا گیا ہے، جس سے 3.6 ملین ٹن پیداوار حاصل ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان رائس ملز ایسوسی ایشن والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2015-16ء میں سپرکرنل باسمتی مونجی (Paddy )کسانوں سے خرید کی تھی، جس کی سزاانہیں یہ ملی کہ ان کے پاس دوسال کا سپر کرنل باسمتی چاول سٹاک ہے اور وہ سپرکرنل باسمتی کی وجہ سے زندہ مرچکے ہیں اور گوداموں میں چاول کی بوریاں نہیں، بلکہ ان کی نعشیں (Dead Bodies ) پڑی ہوئی ہیں، جوبینکوں میں Pledge ہیں، لہٰذاحکومت سے گزارش ہے کہ پاسکو کے ذریعے گوداموں سے چاول اٹھالیا جائے اورپے منٹ براہ راست بینکوں کوکردی جائے،اس کے بعد ہی حالیہ سیزن کے لئے وہ کاروبار کو جاری رکھ سکیں گے۔

آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانی کو محفوظ کرنے کے لئے مناسب اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مستقبل میں صنعت وتجارت اور زرعی شعبے کو اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔کالا باغ ڈیم سے صرف پنجاب نہیں، بلکہ سارے ملک کو فائدہ ہوگا، لہٰذا سول سوسائٹی سمیت تمام طبقات ہائے فکر کوکالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پاکستان میں پانی اور توانائی کی قلت کے مسائل نے بہت پیچیدہ صورت اختیارکرلی ہے۔کالا باغ ڈیم تعمیر کرکے ان دونوں مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ 1960ء میں ورلڈ بینک کالا باغ اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کی سفارش کرچکا ہے، لہٰذا اس پر اعتراضات کا کوئی جواز نہیں۔ یہاں پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی کا انکشاف ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت یہ سطح 1100 مکعب میٹر پانی دستیاب ہے جو آئندہ دس سال کم ہوکر 800 مکعب میٹر ہوجائے گا۔ شعبہ زراعت میں 92 فیصد پانی کا استعمال ہوتاہے۔

کتنی بدقسمتی ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود مربوط زرعی پالیسی تاحال وضع نہیں کرسکا، 60 فیصد پانی آج بھی ضائع ہو رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کپاس کی پیداوارکم، جبکہ گنے کی پیداوار گذشتہ چار برسوں کے مقابلے میں زیادہ رہی، بڑا قابل کاشت رقبہ بنجر ہے۔ رپورٹ کے مطابق چنے کی فصل میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ پاکستان میں چنے کو62 فیصد کی حد تک خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں آج بھی زراعت کے قدیم طریقے رائج ہیں۔ بنجر زمینوں کوقابل کاشت نہیں بنایا جارہا۔ حکومت کی طرف سے زراعت کے شعبے پر ٹیکس ختم نہ کرنے کے باعث 2016ء میں کسانوں کی مشکلات کم نہ ہوسکیں۔ کاشتکار زرعی مداخل پرجی ایس ٹی سمیت دیگر ٹیکسوں کے خلاف سراپا احتجاج رہے۔ کسان گندم، گنے، چاول اورکپاس کی سپورٹ پرائس نہ ملنے پر پورا سال حکومتی پالیسیوں کوکوستے رہے۔

بتایا جارہا ہے کہ ملک میں زراعت کی طرف توجہ نہ دینے سے زرعی شعبے میں ترقی اور خوراک کی خود کفالت کا خواب 2016ء میں بھی پورا نہ ہوا۔ کپاس کی قیمت 5000 سو روپے فی من مقرر کی گئی، جبکہ کسانوں سے 35 سو روپے سے چار ہزار روپے فی من تک کپاس خریدی جاتی رہی، سپر باسمتی چاول کی قیمت 1600 سو روپے، جبکہ گنے کی 190 روپے قیمت مقرر کی گئی، مگر کسانوں سے 150 روپے سے 160 روپے تک گنا خریدا جاتا رہا، جس سے کپاس کی فصل پر کسانوں کو 43 ارب روپے، باسمتی چاول پر 25 ارب روپے، گنے کے کم نرخ دینے پر 25 ارب روپے کانقصان ہوا۔ چاول سپر مونجی کی امدادی قیمت 3000 روپے۔کپاس 5500، جبکہ گنے کی 280 روپے فی من مقرر کی جائے۔دوسری جانب بھارتی کسانوں کی پاکستان کی منڈیوں میں مکمل رسائی ہونے پرٹنل فارمنگ کو بھی نقصان ہوا۔ انہوں نے بتایاکہ پاکستان کو پانی کی دستیابی بھی کم رہی، ملک کی زرعی درآمدات بڑھ رہی ہیں، اگر صورت حال یہی رہی تو زرعی درآمدات کابل 5 سو ارب روپے سے بڑھ کر 8 سو ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

کسان ماہر ڈاکٹر عامرسلمان نے بتایا کہ اگر تمام اضلاع کے ڈی سی اوز لینڈ ریکارڈ کاشتکاروں کا مکمل کرے اور سبسڈی دی جائے تو زراعت کے شعبے میں ترقی آسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے پر جی ایس ٹی مکمل ختم ہونا چاہئے۔

محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ سیزن میں گندم کی فصل 19 اعشاریہ 5 ملین ٹن رہی،کاٹن بیلز 9 اعشاریہ 90 ملین رہی، چاول 3 اعشاریہ 5 ملین ٹن رہی۔گنے کی فصل 39 اعشاریہ7 ملین ٹن رہی، کئی کی فصل 3 اعشاریہ 63 ملین رہی۔

مزید : کالم