سینئر صحافی احمد نورانی پر تشدد کا واقعہ

سینئر صحافی احمد نورانی پر تشدد کا واقعہ

سینئر صحافی احمد نورانی پر تشدد کی وجہ سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ایک بار پھر بے چینی بڑھ گئی ہے۔صحافتی تنظیموں نے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے مُلک بھر میں احتجاج شروع کر رکھا ہے اور اس افسوسناک واقعے کو آزادئ صحافت پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔یہ قابلِ مذمت اور افسوسناک واقعہ دن دیہاڑے اسلام آباد میں زیرو پوائنٹ پر ہُوا، جب احمد نورانی اپنی گاڑی میں وہاں پہنچے تو تین موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے اُنہیں روکا اور گاڑی سے باہر نکال کر چاقو سے زخمی کیا۔ احمد نورانی کے سر پر وار کر کے لہو لہان کر دیا گیا،انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف،وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب و دیگر حکومتی شخصیات اور سیاست دانوں نے اِس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ میڈیا سے متعلق افراد پر تشدد کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر اُن کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔میڈیا سے وابستہ لوگوں کو دباؤ اور خوف کے بغیر آزادی سے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کا موقعہ ملنا چاہئے۔موجودہ دور میں اخباری نمائندوں کے لئے مختلف مافیاز کی طرف سے خطرات بڑھ گئے ہیں۔صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ احمد نورانی پر حملہ کرنے والوں کو جلد گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔تاکہ میڈیا سے وابستہ لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو اور انہیں تحفظ کا احساس ہو۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...