اعلیٰ نسل کے لئے اعلیٰ تعلیم

اعلیٰ نسل کے لئے اعلیٰ تعلیم
 اعلیٰ نسل کے لئے اعلیٰ تعلیم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عالمانہ چکا چوند سے آنکھوں کو خیرہ کرنے والے اِس موضوع پہ لکھنے کی ترغیب مجھے کیسے ملی ؟ جواب دینے سے اِس لئے ہچکچا رہا ہوں کہ ایک طرف توانگریزی محاورے کے مطابق، دیانتداری بہترین پالیسی ہے (حالانکہ یہ پالیسی نہیں ، اصول ہونا چاہیے) اور دوسری جانب بات کھُل کر کہہ دوں تو عجیب تاثر پیدا ہوگا ۔

یعنی بقول علامہ اقبال ’آپ بھی شرمسار ہو ، مجھ کو بھی شرمسار کر‘ ۔ میری شرمساری کا باعث میرے پسندیدہ اخبار میں چند روز پہلے شائع ہونے والا ایک خط ہے جس میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

مراسلہ نگار نے اعداد و شمار کا حوالہ تو نہیں دیا لیکن یہ ضرور کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی فیسوں اور بے روزگاری کے شدید چیلنج کے باوجود آج کے نوجوان سے جس کارکردگی کی توقع ہے ، اُس کا دباؤ ماضی سے شدید تر ہے اور یہ ہے مسئلے کی جڑ ۔

اگر مَیں ٹاک شو والا دانشور ہوتا تو مراسلہ نگار کے نکات پہ غور یا اظہارِ ہمدردی کئے بغیر اپنی نوجوان نسل کے خلاف دلائل کے انبار لگا دیتا ۔ ’دلائل‘ کا لفظ محض زورِ کلام کی خاطر کہہ دیا ہے ، وگرنہ ایسے موقعوں پہ بس دو ایک پُر اثر واقعات دُہرا دئے جاتے ہیں اور اِس کے بعد بزرگوں کا سا مخصوص پیرایہ کہ ’’وہی حساب آپ کا ہے‘‘ ۔ جیسے یارِ عزیز ، پروفیسر طاہر بخاری کو پبلک سروس کمیشن میں پہنچنے والا ایک اندوہناک صدمہ جب ایم فل کی ڈگری سے مسلح اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کی ایک امیدوار یہ بتانے سے قاصر رہیں کہ سعودی عرب پاکستان کے لحاظ سے کِس سمت میں واقع ہے ۔ واقعہ سُن کر میرے ذہن میں سوال اٹھا کہ آیا یہ گرد و پیش سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے یا امیدوار میں منطقی سوچ کی کمی جنہوں نے انٹرویو میں خود کہا تھا کہ وہ ہر روز باقاعدگی سے قبلہ رو ہو کر نماز ادا کرتی ہیں ۔ پھر کیا ہوا؟ یہ اگلے پیرا گراف میں ۔

ہوا یہ کہ مَیں یہ واقعہ اپنے گھر میں سنائے بغیر نہ رہ سکا ۔ اُس وقت بیگم کے ساتھ کچھ بھانجیاں اور بھتیجیاں بھی تھیں جو غیر ملکی تعلیم سے آراستہ ہیں ۔ ایک کی آواز آئی ’’انٹرویو کِس سبجیکٹ کا تھا؟‘‘ ’’انگلش کے لئے ۔ ‘‘ ’’تو سعودی عرب کا انگلش سے تعلق؟‘‘ وضاحت کی کہ امیدوار نے اپنے مضمون کے بارے میں کسی سوال کا صحیح جواب نہیں دیا تھا ، اِس لئے ممتحن نے ایک ایسی بات پوچھ لی جو آسانی سے بتائی جا سکے۔

’’یہ کوئی بات نہیں ۔ میں پوچھ رہی ہوں کہ اِس سوال کا انگلش سے کیا تعلق ہے ، انکل؟‘‘ انکل چُپ کے چُپ رہ گئے کیونکہ ایک تیزی سے بدلتے ہوئے معاشرے میں چند ہی دن پہلے انہوں نے ہر وِیک اینڈ بذریعہ کار لاہور سے اسلام آباد جانے والے ایک پچاس سالہ دوست سے پوچھ لیا تھا کہ کیا کبھی جی ٹی روڈ سے بھی جانا ہوا ۔ جواب ملا ’’مجھے تو وہ راستہ آتا ہی نہیں‘‘ ۔

دوست کا کہنا اِس لئے درست ہو گا کہ میرے پرائمری اسکول میں جس مضمون کو ضلع سیالکوٹ کا جغرافیہ اور اُس سے اونچی سطح پہ جنرل نالج کہا جاتا ، ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے اُس کا نام پاکستان اسٹڈیز رکھ دیا گیا تھا ۔ اِس سبجیکٹ کے اکثر سوال ہوتے ہی آؤٹ آف کورس ہیں، لہٰذا اِن کی بدولت امتحانات ملتوی کرانے میں بہت مدد ملتی ہے ۔ جغرافیہ کے بر عکس تاریخ کے مضمون میں اتنی پے در پے تبدیلیاں نہیں ہوئیں۔ پھر بھی گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے ہمکار اور بعدازاں وفاقی سیکرٹری قاضی آفاق حسین پنجاب پبلک سروس کمیشن کی رکنیت کے دنوں کا ایک واقعہ مزے لے کر سناتے ہیں۔ جب یہ واقعہ ہوا اُس روز بھی لیکچرار سے براہِ راست اسسٹنٹ پروفیسر تقرری کے انٹرویو ہو رہے تھے ، جس کے لئے ایم فل اور سات سالہ تدر یسی تجربہ کی شرط تھی ۔ تو واقعہ سنتے ہیں قاضی صاحب سے ۔

’’سلیکشن بورڈ میں ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے نمائندے کے علاوہ دو سینئر پروفیسر بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ موجود تھے اور میں پبلک سروس کمیشن کے رکن کی حیثیت سے بورڈ کا صدر تھا ۔ شرعی وضع قطع کے حامل ایک امیدوار تشریف لائے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ اسلامک اسٹڈیز میں گولڈ میڈلسٹ ہیں ۔ میں نے اُن کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ تین غزوات کے نام لیں ، یعنی وہ جنگیں جن میں رسول کریمؐ نے خود شرکت فرمائی ۔

امیدوار نے غزوۂ بدر اور غزوۂ احد کے نام ٹھیک ٹھیک بتا دئے اور خاموش ہو گئے ۔ مَیں نے مدد کرنے کے لئے اُس غزوہ کا اشارہ دیا جس میں اللہ کے نبی ؐنے یہ کہہ کر کہ آج جسے عَلَم عطا کروں گا فتح اُس کا مقدر ہو گی ، پرچم حضرت علیؓ کے ہاتھ میں دے دیا تھا ۔ امیدوار نے کہا ’جنگِ سومنات‘۔ یہ سن کر مجھے لگا کہ یہ طالب علم کے لئے نہیں ، ممتحن کے لئے خود کشی کا مقام ہے ‘‘ ۔

غور طلب نکتہ یہ ہے کہ ہمارے مراسلہ نگار نے پاکستانی تعلیمی اداروں میں خود کشی کے حقیقی یا خیالی رجحان کا قضیہ تو اب چھیڑا جبکہ دنیا کی دو مشہور و معروف یونیورسٹیوں آکسفورڈ اور کیمبرج میں یہ بحث کب سے چھڑی ہوئی ہے ۔ چند ہی سال پہلے برطانیہ میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین کے ایک سروے میں یہ انکشاف کیا گیا کہ یونیورسٹی سطح پر دس میں سے ایک طالب علم کسی نہ کسی مرحلے پہ خود کشی کے بارے میں سوچتا ہے اور کیمبرج میں کئی لوگ سالانہ امتحانات کے بعد پہلی اتوار کو طنز کے طور پر ’سوئے سائیڈ سنڈے ‘ بھی کہتے ہیں ۔ اِس یونیورسٹی میں ذہنی صحت کے ضمن میں مشورے یا کونسلنگ کی جو سہولت فراہم کی گئی ہے ، سال بھر میں اوسطاً چالیس سے بچاس تک ایسے طلبہ و طالبات نے اُس سے رجوع کیا جن میں مذکورہ رجحان شدید نوعیت کا تھا ۔ تو اگر یہ رجحان پایا جاتا ہے تو اِس کی وجوہات بھی ہوں گی ۔

نفسیاتی اور اعصابی موضوعات پہ تحقیقی کام کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے نے اِس ضمن میں دو بڑے عوامل کی نشاندہی کی ہے ۔ ایک ہے کسی شخص کا جینیاتی وجود اور دوسرے اُسے لاحق ہونے والا نا قدری کا احساس۔ عام الفاظ میں کہیں گے کہ بنیادی معاملہ شخصیت کی زمرہ بندی کا ہے۔

اگر آپ پیدائشی طور پہ کمزور اعصاب کے مالک ہیں تو یہ امکان زیادہ ہو جاتا ہے کہ شخصیت پہ کسی بھی خلافِ طبیعت واقعہ کا منفی اثر پڑے ۔

یہ بھی عین ممکن ہے کہ اِس نوعیت کے تجربہ سے دوچار ہوتے ہی آپ غصہ میں آ جائیں یا مایوسی کا شکار ہونے لگیں ۔ چنانچہ پیدائشی طور پہ مخصوص اعصابی و نفسیاتی وجود کے حامل افراد بہت جلد اپنے بارے میں ناقدری کے تاثر کا شکار ہو جاتے ہیں ، یعنی یہ سوچ کہ ہم کوئی ایسا کام دکھانے میں ناکام رہے جس کی بدولت دوسروں کی نظر میں ہماری قدرو قیمت میں اضافہ ہو جاتا ۔

تحقیقی رپورٹ میں ایسے اعداد و شمار کا کوئی حوالہ نہیں جن سے پتا چلے کہ دنیا میں آنے والے سب بچوں میں سے پیدائشی کمزور شخصیت رکھنے والوں کا تناسب کیا ہے ۔ البتہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ کمزوری زندگی کے تجربات سے ضرب کھا کر ہی پیچیدہ مسائل کی شکل اختیار کرتی ہے ۔

آکسفورڈ اور کیمبرج کی مثال اِس لئے سب سے اوپر ہے کہ پوسٹ گریجویٹ تعلیم کو ایک طرف کر دیں تو بھی اِن یونیورسٹیوں میں انڈر گریجویٹ سطح پہ طالب علم کو جس تعلیمی پریشر سے گزرنا پڑتا ہے ، ہمارے اداروں میں اُس کا تصور مشکل سے کیا جائے گا ۔ کیمبرج میں لٹریچر کے ایک اسٹوڈنٹ نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ امتحان سر پہ ہیں اور یومیہ کلاسیں اِس کے علاوہ ۔ پھر بھی اختتامِ ہفتہ تک دو الگ الگ لکھاریوں پہ پیپر تیار ہونے چاہئیں جن کے ایک ایک ناول کی ضخامت پانچ پانچ سو صفحات ہوگی ۔

یہاں تک پہنچ کر قارئینِ کرام آئندہ پاکستانی نسلوں کی فلاح و بقا کی خاطر مجھ سے کسی انقلابی تجویز کی توقع کر رہے ہوں گے ۔ میرا حالیہ تدریسی تجربہ صرف نشریاتی صحافت تک محدود ہے ، جس کی افادیت میں علمی سے زیادہ اطلاقی پہلو غالب رہتا ہے ۔ خیر ، اِس مضمون میں دلچسپی لینے والے طلبہ و طالبات ہر سال ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے خبری مواد کی تیاری اور پیشکش کے ضمن میں کچھ نہ کچھ سیکھ بھی جاتے ہیں اور خود کشی کرنے کی نوبت بھی عموماً نہیں آتی۔

پھر بھی آپ دل سے پوچھیں کہ اُن کی تعلیم کی نوعیت کیا ہونی چاہئیے تو عرض کروں گا کہ ہائر ایجوکیشن نہیں بلکہ خواندگی کا اعلی معیار ۔ مطلب ہے زبان کی سمجھ اور استعمال ، تھوڑی سی ریاضی ، تاریخ جغرافیہ اور اسلامیات ، اِس حد تک کہ یہ نوجوان مشرق و مغرب کا فرق جانتے ہوں اور یہ بھی کہ سومنات کی لڑائی غزوات میں شمار نہیں ہوتی ۔

مزید : کالم