سچ دبایا نہیں جا سکتا،تشدد نہیں دلیل!

دانا کہتے ہیں کہ تشدد پر وہ اترتا ہے جس کے پاس دلیل ختم ہو گئی ہو، دوسرے معنوں میں یہ کہا گیا کہ بات کا جواب دلیل سے دو،اور دوسرے ہتھکنڈوں سے مرعوب کرنے یا روکنے کی کوشش نہ کرو،اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے،کیونکہ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ طاقت کے زعم میں کسی کو روکنے یا دبانے کی کوشش کریں تو وہ سیر کا سوا سیر ثابت ہو جائے۔اگرچہ یہ مثال کسی صحافی پر تشدد کے حوالے سے درست نہیں،لیکن ذرا ماضی میں جھانک لیں تو یہ بات بالکل ٹھیک اور فِٹ بیٹھتی ہے کہ تب صحافتی اقدار بھی تھیں تو صحافی بھی متحد تھے اور ان کی یونین اور فیڈریشن اتنی مضبوط ہوتی تھیں کہ غلطی کرنے والے کو فوراً ہی احساس ہو جاتا کہ اس سے اچھا کام نہیں ہو اور اُسے لینے کے دینے پڑ جاتے تھے،افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ آج کے دور میں اتحاد کی جتنی ضرورت ہے،اتنا ہی صحافی بکھر چکے ہیں،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوئے ہوئے ہیں تو کچھ غلط نہیں ہو گا،تاریخ ساز صحافتی فیڈریشن پی ایف یو جے مفادات کی بھینٹ چڑھ کے چار پانچ حصوں میں تقسیم ہے اور پھر اس دورِ افراتفری میں مفاد پرستوں نے اپنی اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بھی الگ بنا لی ہوئی ہے،ایسوسی ایشن اور انجمنوں کے نام سے ایسی ایسی تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں کہ کانوں کو ہاتھ لگا کر ویرانے میں گم ہو جانے کو جی چاہتا ہے۔

ہم نے ابھی تین چار روز قبل ہی کالم لکھ کر گزارش کی تھی کہ افواہ اور اطلاع خبر نہیں ہوتی اور ہمارے صحافتی بھائی بھی معاشرے کی طرح حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں اور غیر جانبداری یا دیانت سے رائے دینے کا سلسلہ ختم ہو چکا اور باقی جو بچا اس کو کالے چور لے جانے کے در پے ہیں۔

یہ سوفیصد درست کہ صحافی(شرط یہی) کے قلم سے سے جو خبر یا رائے نکلتی ہے وہ سب کے لئے قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ کسی کے حق میں چلی جاتی اور کسی کے خلاف ہو جاتی ہے یوں ایک ہی وقت میں دو فریق مختلف رائے کے حامل ہوں گے،اس سلسلے میں یہ اصول ہے کہ اگر کسی صاحب کو کسی خبر یا رائے سے اختلاف ہو تو اس کی تردید،وضاحت یا خود اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے اور اگر کوئی صاحب یہ حق استعمال کریں تو صحافی کو بھی بُرا منائے بغیر ان کا یہ حق تسلیم اور وہ وضاحت یا تردید شائع یا نشر کرنا چاہئے،دونوں فریقوں کو بُرا منانے کی ضرورت نہیں، اس سے معاشرتی بگاڑ بھی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی دِل شکنی ہوتی ہے تاہم اگر کوئی متاثرہ فریق کسی صحافی کے قلم یا نشریئے کو تشدد سے روکنا چاہے تو یہ بالکل مناسب نہیں،بلکہ اسے مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس سلسلے میں ایک گزارش اور کر دیں کہ مُلک میں معمول کے قوانین ایسے بھی ہیں جو متاثرہ فریق کے ازالہ کے لئے بنے ہوئے ہیں۔ازالہ حیثیت عرف(DEFAMATION) ایک ایسا ہی حق اور قانون ہے جسے متاثرہ فریق استعمال کر سکتا ہے یہ دیوانی اور فوجداری دونوں طرز سے ازالے کا ذریعہ ہے،ہرجانہ طلب کرنے کے لئے دیوانی دعویٰ اور سزا کے لئے فوجداری استغاثہ کیا جا سکتا ہے۔


ہم نے اپنی پوری صحافتی زندگی پیش�ۂ صحافت، آزادئ صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے گزاری ہے۔اس سلسلے میں ریاستی تشدد، تھانہ کچہری اور جیل بھی بھگتی،اگر جنرل(ر) ضیاء الحق کے مارشل لاء کی صعوبت برداشت کی تو پیپلزپارٹی کے دور میں خود اپنے دوستوں(صحافی) کی مہربانی سے بھی جیل یاترا کی اور بے روزگاری کا تمغہ تو ایک سے زیادہ مرتبہ سینے پر سجایا اور آج ہم محض ٹریڈ یونین ازم (درست) کی وجہ سے ہی عزت چھپا کر بیٹھے یہ خدمت کر رہے ہیں،ہم نے اس موضوع پر لکھنے سے گریز کیا،لیکن حال ہی میں پھر ایک صحافی احمد نورانی پر جو حملہ ہوا اس نے یہ سطور لکھنے پر مجبور کر دیا کہ اب یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ کوئی پہلا حملہ نہیں۔مانا کہ متاثرین کے نقطہ نظر سے مضروب کی تحریر ان کے خلاف ہو گی یا مبینہ طور پر وہ جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوں گے،لیکن محض یہ بات تو ان کو یہ حق نہیں دیتی کہ صحافی کی قلم روکنے کے لئے اسے دُنیا ہی سے رخصت کر دیا جائے،جہاں تک احمد نورانی کا تعلق ہے تو ان پر جس انداز سے یہ حملہ ہوا وہ ماہرانہ نوعیت کا نظر آتا ہے اور یہ ان کو سبق سکھانے کا نسخہ محسوس ہوتا ہے، کہ باز آ جاؤ، ورنہ بات اس سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

جہاں تک صحافتی اقدار اور احوال کا تعلق ہے تو یہ بالکل درست کہ آج کے دور میں حدود کا خیال نہیں رکھا جا رہا،لیکن یہ سب تو نہیں کرتے،اب بھی بہت حضرات ہیں، جو اہتمام کرتے ہیں کہ ان کی تحریر و نشریئے سے کسی کی توہین نہ ہو اور ایسے حضرات بھی اس پیشہ میں تشریف فرما ہیں جو تمام اقدار کو پامال کئے بیٹھے ہیں اور ہم جیسے لوگوں کے لئے آزادئ صحافت کا مفہوم گڈ مڈ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود ہم اس بنا پر کسی کو مار دینے کی حمایت تو نہیں کر سکتے کہ ان کے عمل سے کسی کو دُکھ پہنچا،بہتر عمل قانون کا راستہ ہے،تاہم مشاہدہ یہ ہے کہ جو حضرات حدود و قیود کو پامال کرتے ہیں،ہمارے ’’مخالف دوست‘‘ پسند بھی انہی کو کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے بھی نہیں تھکتے۔ بہرحال یہ حملے اچھے نہیں،ملک مسائل کا شکار اور معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ جاری ہے۔ایسے میں اگر پیش�ۂ صحافت بھی تفریق اور بری سیاست کی نظر ہو گیا تو مزید نقصان ہو گا۔


احمد نورانی یا اس سے پہلے دوسرے صحافیوں پر حملہ کرتے یا دھمکیاں دینے والے حضرات سے گزارش کرتے ہیں کہ جن کے خلاف وہ ایسے راستے اختیار کرتے ہیں،ان کے لئے پیش�ۂ صافت اور معاشرے میں ہمدردی پیدا کر دیتے ہیں۔آج ملک کے شہر شہر میں اس حملے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ملک کی تمام سیاسی، دینی جماعتوں اور معاشرتی تنظیموں نے مذمت کر دی ہے،ہم پورے یقین سے کہہ دیتے ہیں کہ ان میں سے بہت سے طبقے یا حضرات احمد نورانی سے متفق نہیں ہوں گے،لیکن بزدلی سے حملہ کرنے والوں کو یہ احساس کیسے ہو گا کہ ان کی حرکت سے کیا ہوا ہے۔

اِس سلسلے میں ہم ایک بار پھر انتہائی درد مندی سے اپنے ہی ساتھیوں،دوستوں اور برخور داروں سے عرض کریں گے کہ وہ ذاتی مفادات کو پیشہ ورانہ فرائض پر حاوی نہ ہونے دیں،اور پھر سے متحد ہو جائیں۔یہ کوئی مشکل کام تو نہیں، صرف دانتوں تلے زبان دبانے والی بات ہے،اللہ عقل دے،سب کو دے اور سب کو دے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...