عقیدہ ختم نبوت ؐ اور جھوٹے مدعیان (2)

حضرت زید بن خطابؓ، حضرت ثابت بن قیسؓ، حضرت ابوحذیفہؓ، حضرت سالمؓ اور عمار بن یاسرؓ دشمن سے لڑرہے تھے تو بہت سارے دشمن ان کے ہاتھوں جہنم رسید ہوئے۔ صحابہ میں سب سے پہلے حضرت زیدؓ شہید ہوئے، پھر حضرت ابوحذیفہؓ اور حضرت سالمؓ نے جام شہادت نوش کیا۔

حضرت سالمؓ شہادت کے وقت حضرت ابوحذیفہؓ کے قدموں میں گرے ہوئے تھے اور ان کے دونوں ہاتھ بھی شہید ہوچکے تھے، مگر انھوں نے آخری وقت تک جھنڈا کٹے ہوئے بازؤں سے اپنے سینے کے ساتھ لگاکر بلند رکھا تھا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ نے کفن زیب تن کررکھا تھا اور خود کو خوشبو میں بسا رکھا تھا۔

انھیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دی تھی۔ آج وہ جنت کے شوق سے یوں سرشار تھے کہ ان کو دیکھ کر مسلمانوں کے حوصلے بھی بڑھے اور وہ ان پر رشک بھی کرنے لگے۔ حضرت انسؓ فرمایا کرتے تھے کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت ثابتؓکو جب شہادت اور جنت کی بشارت دی گئی تو اس کے بعد صحابہ جب بھی ان کو دیکھتے تو کہتے وہ جنتی چلا آرہا ہے۔


جب سورۂ الحجرات نازل ہوئی جس میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آواز سے بات کرنے سے منع کیا گیا تھا، تو حضرت ثابتؓ نے سمجھا کہ ان کے تو سارے اعمال ضائع ہوگئے ہیں، کیونکہ ان کی آواز فطری طور پر بلند تھی۔ جب آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ سنا تو فرمایا کہ جاؤ اسے خوش خبری دو کہ وہ سعادت کی زندگی گزارے گا، شہادت کی موت آئے گی اور سیدھا جنت میں جائے گا۔ یمامہ کے دن حضرت ثابتؓ کی عجیب شان تھی۔ دشمن پر بڑھ بڑھ کر حملے کررہے تھے اور مسلمانوں کو بلند آواز سے جنت کی ترغیب دے رہے تھے۔

آخر بے جگری سے لڑتے ہوئے وہ بھی شہید ہوگئے۔ حضرت عمارؓ کا کان اس جنگ میں شہید ہوا اور وہ شدید زخمی ہوئے، مگر بے جگری سے لڑنے کے باوجود اللہ نے ان کو محفوظ رکھا۔ قرآن کا ارشاد کیا خوب ہے:’’ ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔

ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔‘‘(الاحزاب33:23)


جس طرح یہ صحابہؓ اپنے ساتھیوں کو جنت کی ترغیب دے کر جنگ پر ابھار رہے تھے اسی طرح مسیلمہ کا بیٹا شرحبیل بن مسیلمہ بھی اپنے قبیلے کو عصبیت جاہلیہ کا واسطہ دے کر جنگ پر ابھار رہا تھا۔ اس نے کہا: اے بنوحنیفہ! آج قبیلے کی عزت خطرے میں ہے، قومی غیرت کا مظاہرہ کرنے کا یہی وقت ہے۔

دشمن کے مقابلے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ جان لو یہ معمولی جنگ نہیں، اگر حملہ آور فوج غالب آگئی تو تمھارے اہل وعیال ان کے قبضے میں ہوں گے۔ اپنی عزت وناموس کی حفاظت کرو اور دشمن کو صفحۂ ہستی سے مٹا دو۔


شہید ہونے والے صحابہؓ نے اپنی شہادت سے قبل جو تقاریر کی تھیں، انھوں نے مسلمانوں کے جوش وجذبے کو بہت مہمیز دی۔ مسیلمہ اور اس کے ساتھی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگے اور اپنے قلعے کی طرف پسپائی اختیار کی۔ اس وقت حضرت خالدؓ نے موقع کو غنیمت جانا اور زوردار حملہ کرکے آگے بڑھے۔

بنوحنیفہ کا ایک بہادر اور ماہر جنگجو محکم بن طفیل بھی مسیلمہ کے بیٹے شرحبیل کے طرح اپنی قوم کو غیرت دلا رہا تھا۔ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرؓ نے اس پر نشانہ باندھ کر تیر چلایا جو اس کی گردن میں جا لگا اور اسی سے وہ موت کے گھاٹ اتر گیا۔ اب مسلمانوں کی ہمت بڑھ گئی اور انھوں نے زور دار حملہ کردیا۔ تاہم لڑائی کی کیفیت اس وقت تک ایسی تھی کہ ابھی یہ کہنا مشکل تھا کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔


اب حضرت خالدؓ کو ایک جنگی تدبیر سوجھی۔ انھوں نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ہر قبیلہ الگ الگ اپنے نشان کے تحت دشمن سے لڑے۔ اس کا بہت اچھا اور مثبت نتیجہ نکلا۔ چنانچہ مسیلمہ اور اس کے ساتھی مسلسل پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے قلعہ ’’حدیقۃ الرحمن‘‘ میں داخل ہوگئے اور اندر سے چاردیواری کے تمام دروازے بند کردیے۔ شیطان کے حربے بڑے خطرناک ہوتے ہیں، مگر اللہ فرماتا ہے کہ شیطان کی چالیں بودی اور ضعیف ہوتی ہیں۔

’’یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔‘‘(النساء 4:76) شیطان نے مسیلمہ کو پٹی پڑھائی کہ اپنے باغ اور قلعے کو رحمن کے نام سے منسوب کردو، حالانکہ یہ حدیقۃ الرحمن نہیں بلکہ حدیقۃ الشیطان تھا۔ حضرت خالدؓ نے اپنے ساتھیوں کو فرمایا کہ دشمن کا تعاقب کرو چنانچہ بہت سارے مرتدین قلعہ سے باہر رہ گئے جن میں سے بیش تر تہہ تیغ ہوگئے۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ قلعے کے اندر کیسے جایا جائے؟ اس مشکل کو بھی اللہ نے آسان کردیا۔ حضرت انس بن مالکؓ کے بھائی حضرت براء بن مالکؓ بڑے جنگجو تھے اور ان پر کبھی کبھار ایسی کیفیت آتی تھی کہ جیسے لرزہ طاری ہوگیا ہو۔ اس کے بعد وہ شیر کی طرح دشمن پر جھپٹتے تھے۔ اس لڑائی میں بھی ان پر یہ کیفیت طاری ہوئی اور انھوں نے مسلمانوں سے کہا کہ مجھ کو اٹھا کر باغ [حدیقہ، قلعہ] کے اندر کسی طرح پھینک دو۔

ان کے ساتھیوں نے کہا کہ یہ مناسب نہیں کیونکہ آپ دشمن کے قابو میں آجائیں گے۔ حضرت براءؓ نے انھیں قسم دے کر کہا: مجھے باغ میں اتار دو۔ آخر مسلمانوں نے ان کو دیوار پر چڑھا دیا اور وہ قلعے کے اندر کود گئے۔ بے شمار مرتدین ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ لڑتے بھڑتے قلعے کے پھاٹک تک پہنچ گئے اور اس کو کھول دیا۔

پھاٹک کھلتے ہی اسلامی لشکر جو باہر کھڑا تھا باغ کے اندر داخل ہوگیا اور فریقین میں خون ریز جنگ ہونے لگی۔ حضرت خالدؓ نے مسلمانوں کو للکار کر کہا: مسلمانو! ثابت قدم رہو، بس تمھارے ایک اور ہلے کی دیر ہے کہ دشمن تباہ ہوجائے گا۔ اس للکار پر مسلمانوں نے اس قیامت کا حملہ کیا کہ مرتدین کے قدم اکھڑ گئے۔

مسیلمہ بھاگنے لگا تو اس کے ساتھیوں نے کہا: تیرا وعدہ کیا ہوا جو خدا نے تیرے قول کے مطابق تجھ سے کیا تھا؟ اس نے کہا: یہ موقع ان باتوں کا نہیں ہے، اپنی جان اور اپنا ننگ وناموس بچانا ہے تو بچالو۔

اس وقت اس کذّاب پر دو حربے ایک ساتھ پڑے۔ ایک حضرت وحشی بن حربؓ (قاتل حمزہؓ) نے پھینکا اور دوسرا حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم انصاریؓ نے جن کے بھائی حضرت حبیب بن زیدؓ کو کچھ عرصہ پہلے مسیلمہ نے نہایت سفاکی سے شہید کرڈالا تھا۔ ان کی بہادر والدہ ام عمارہؓ بھی ان کے ساتھ تھیں اور مسیلمہ کو تباہ کرنے کے علاوہ اپنے مظلوم بیٹے کا اس سے بدلہ لینے کی خاطر میدانِ جنگ میں آئی تھیں۔

یہ حربے پڑتے ہی مسیلمہ ہلاک ہوگیا اور مرتدین حواس باختہ ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس لڑائی میں مرتدین کے دس ہزار آدمی مارے گئے۔ جس جگہ وہ قتل ہوئے اس کا نام حدیقۃ الرحمن کی بجائے حدیقۃ الموت مشہور ہوگیا۔ مسلمان شہدا کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ان میں تین سو سابقون الاوّلون انصار ومہاجرین تھے جبکہ مجموعی طور پر سات سو کلام اللہ کے حفاظ تھے۔


بنوحنیفہ کے جن مرتدین نے توبہ کرکے دوبارہ اسلام قبول کرلیا حضرت خالدؓ نے انھیں معاف کردیا اور پھر ایک قاصد کو فتح کی خوش خبری دے کر بنوحنیفہ کے ایک وفد کے ساتھ مدینہ منورہ بھیجا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اس وفد کے اراکین سے فرمایا: افسوس تمھارے حال پر، تم کس طرح مسیلمہ کذاب کے دامِ فریب میں پھنس گئے؟ انھوں نے ندامت کا اظہار کیا اور معافی کی التجا کی۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا: اس کی تعلیم کیا تھی؟ انھوں نے عرض کیا: اس کی خود ساختہ وحی کا نمونہ یہ ہے:


یَا ضَفْدَعَ بِنْتِ الضَفْدَعَیْن، نَقِیٌّ کَمْ تَنْقِیْنَ، لَا الْمَآءَ تَکْدِرِیْنَ، وَلَا الشَّارِبَ تَمْنَعیْنَ، رَأسُکَ فِی الْمَاءِ وَ ذَنْبُکَ فِی الطِّیْنِ۔ اے مینڈکی تو ایک مینڈک اور ایک مینڈکی کی بیٹی ہے۔ تو پاک صاف ہے، اتنی پاک کہ نہ تو پانی کو گدلا کرتی ہے اور نہ ہی پینے والوں کو روکتی ہے۔ تیرا سر پانی کے اندر ہوتا ہے اور تیری دم مٹی میں۔


اس کلام کو وحی ماننے والے کتنے بے وقوف تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ انسان کا نفس اسے دھوکے میں ڈال دے تو بڑے بڑوں کی عقل ماری جاتی ہے۔

اس کلام میں عربی زبان کے لحاظ سے جو سقم ہے اسے اہلِ زبان خوب جانتے ہیں۔ اسی لئے اس کی زبان سے ایسی ہفوات ولغویات سن کر حضرت عمرو بن العاصؓ نے ، جبکہ وہ ابھی مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے، اسے کہا تھا کہ تیرے اس کلام کو وحی سے کیا نسبت ہوسکتی ہے۔

یہ تو کسی دیوانے اور مخبوط الحواس کا لغو کلام ہی ہوسکتا ہے اور یقیناًتوجھوٹا ہے۔ آج بھی برصغیر میں انگریزوں کے کاشتہ و خودساختہ جھوٹے مدعئ نبوت کے ملفوظات دیکھ لیجیے۔ نبوت تو اعلیٰ ترین منصب ہے،ان تحریروں کو دیکھ کر ہر صاحبِ عقل و شعور پکار اٹھتا ہے کہ یہ کسی شریف النفس انسان کا کلام نہیں ہوسکتا مگر جن کی عقل ماری جائے ان کا کون علاج کرسکتا ہے۔ آنکھیں دیکھ بھی رہی ہوں تو دل اندھے ہوجاتے ہیں۔

قرآن میں اس مضمون کو خوب صورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔‘‘(الحج22:46)

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...