پرویز مشرف اور دیوانے کے خواب

مریم نواز نے وی آئی پی احتساب کی جو تعریف کی ہے، میں اگرچہ اُس سے کلی طور پر تومتفق نہیں البتہ اُن کی اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ پرویز مشرف کو احتساب کے بغیر مختلف حیلوں بہانوں سے بیرون ملک بھیج دیا گیا اور اب کوئی عدالت بھی اُن کی واپسی کے لئے حکم جاری نہیں کررہی۔

دیکھا جائے تو اب یہ تاثر بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ سابق جرنیلوں کا احتساب نہیں ہوتا اور حاضر سروس وزیر اعظم بھی احتساب کی گرفت میں آجاتے ہیں، چونکہ پرویز مشرف علی الاعلان یہ کہتے ہیں کہ فوج اُن کے پیچھے کھڑی ہے، کیونکہ وہ فوج کے سپہ سالار رہے ہیں، اس لئے اس تاثر کو مزید تقویت ملتی ہے، جو موجودہ حالات میں فوج کے لئے بھی کوئی اچھی بات نہیں، کیونکہ جب ایک بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر کو مقدمات کا سامنا کرنے پر مجبور کردیا جائے، اُس کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں، پیش نہ ہونے پر یکطرفہ کارروائی کا عندیہ دیا جائے تو ایک سابق آمر کو کس طرح کھلی چھٹی دی جاسکتی ہے کہ وہ بیماری کا بہانہ بناکر باہر بیٹھا رہے۔

یہاں عدالتوں نے پرویز مشرف کی جائیداد قرق کرنے کا حکم جاری کیا، اُس پر کیا عملدرآمد ہوا؟ چک شہزاد والی جائیداد کی طرف چڑیا نے بھی جانے کی کوشش نہیں کی۔ اُلٹا پرویز مشرف باہر بیٹھے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں کہ جن سے عدالتوں کی بے توقیری بھی ہوتی ہے اور فوج پر دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔

کیا پرویز مشرف کے اس موقف کو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ اُنہوں نے فوج کی کمان کی ہے، اس لئے کوئی انہیں نہیں پکڑسکتا، کیا یہ بھی صحیح ہے کہ فوج انہیں تحفظ دے رہی ہے اور اُن کی گرفتاری کے لئے عدلیہ اور محکمہ داخلہ کوئی کوشش نہیں کررہا۔ میرے نزدیک تو پرویز مشرف نے قدم قدم پر بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ کمر درد کا بہانہ کرکے بیرون ملک گئے اورکچھ دن بعد ڈسکو پارٹی میں رقص کرتے پائے گئے۔ کیا ایک سپہ سالار رینک کے بندے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ جان بچانے کے لئے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرے۔ پھر اب تو وہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، اُن کا سیاسی چہرہ ہے، پھر وہ پاکستان واپس آکر مقدمات کا سامنا کیوں نہیں کرتے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں عدلیہ اب کتنی آزاد ہے، ایک وزیر اعظم کو گھر بھیج سکتی ہے اور لٹیروں کو قانون کی گرفت میں لارہی ہے، پرویز مشرف کا دعویٰ ہے کہ اُن پر سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں، اگر ایسا ہے تو پھر عدالتوں سے انہیں فوری ریلیف مل سکتا ہے۔ وہ پیش ہوں اور خود کو بری کراکے سیدھے سیاست میں آئیں۔ وہ اس بات سے کیسے انکار کرسکتے ہیں کہ انہوں نے آئین کو توڑ کر سول حکومت پر قبضہ کیا اور اس طرح آرٹیکل 6کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، اب اگر یہ آرٹیکل اُن کا پیچھا کررہا ہے تو انہیں سامنا کرنا چاہئے، وہ دلائل سے ثابت کریں کہ انہوں نے 1999ء میں جب حکومت کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تھا تو اُس وقت ریاست ناکام ہو چکی تھی اور ملک بچانے کے لئے یہ قدم اٹھانا ضروری تھا مگر ظاہرہے ان کے پاس اس حوالے سے مضبوط دلائل نہیں، وہ صرف ہوا میں تیر چلاتے ہیں اور عدلت میں کوئی ایسی شہادت پیش نہیں کر سکتے جس کی بنیاد پر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ واقعی ملک میں فوجی مداخلت ضروری ہو چکی تھی۔


صاف نظر آ رہا ہے کہ شریف فیملی نے پرویز مشرف کی وجہ سے اپنے احتساب کو امتیازی اور جانبدارانہ قرار دینے کا بیانیہ اختیار کیا ہے۔

اسے کوئی جھٹلا بھی نہیں سکتا۔ شریف خاندان پر اگر کرپشن کا الزام ہے تو پرویز مشرف پر غداری کا ہے، دونوں سنگین الزامات ہیں۔ تاہم ایک میں شد و مد سے احتساب ہو رہا ہے اور دوسرے میں ملزم کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔

پرویز مشرف جب ملک سے باہر گئے تھے تو ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ علاج کے بعد واپس آجائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، وہ دبئی میں پارٹی اجلاس بھی کرتے ہیں اور وہاں سے ٹیلیفونک خطاب بھی، یہاں عدالتوں میں ان کے نام کی آوازیں پڑتی ہیں مگر وہ پیش نہیں ہوتے۔

وہ نجانے کس معجزے کے انتظار میں ہیں شاید وہ بھی ایک ایسا این آر او چاہتے ہیں جیسا انہوں نے اپنے دور میں بے نظیر کے ساتھ کیا تھا جس کے تحت ان کے تمام مقدمات بھی بے نظیر کی طرح ختم ہو جائیں اور وہ واپس آ کر سیاست کر سکیں، تاہم اُنہیں ایسا کوئی این آر او نہیں مل سکتا، کیونکہ پاکستان میں اب ہر قسم کے این آر او کا دور ختم ہو چکا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں شریف خاندان بھی این آر او کا متلاشی ہے مگر عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو کسی این آر او کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اسی طرح اب یہ ممکن نہیں کہ این آر او کر کے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ ختم کر دیا جائے۔

شریف خاندان کو البتہ پرویز مشرف کی وجہ سے تنقید کا ایک بڑا آپشن مل گیا ہے بے لاگ احتساب کی جب بھی بات کی جائے گی پرویز مشرف کو کھلا چھوڑ دینے کا معاملہ اس دعوے پر پانی ڈال دے گا۔ ابھی تو پیپلزپارٹی صرف اس بات پر تنقید کر رہی ہے کہ شریف خاندان کا وی آئی پی احتساب کیوں ہو رہا ہے، کیوں شرجیل میمن کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت لے لی جاتی ہے شاید آصف زرداری سیاسی طور پر مسلم لیگ (ن) کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم کچھ عرصہ پہلے وہ یہی کہتے رہے کہ بلا باہر بھاگ گیا ہے، یہ بات وہ پرویز مشریف کے لئے کہتے تھے، مگر اب اچانک انہوں نے اس بیانیئے کو تبدیل کر لیا ہے اور نوازشریف کے حوالے سے کہتے ہیں کہ بلا لندن میں بیٹھا ہوا ہے۔


میرے نزدیک پرویز مشرف صرف خیالی پلاؤ پکانے والی شخصیت بن کر رہ گئے ہیں وہ روزانہ سوتے وقت یہ خواب دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں کہ صبح سو کر اُٹھیں تو پاکستان میں ان کے تمام مقدمات ختم ہو چکے ہوں اور وہ دھوم دھام سے پاکستان واپس جائیں مگر یہ خواب تو قیامت تک پورے ہونے کے امکانات نظر نہیں آتے۔ کیونکہ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔

اب کوئی ایسا معجزہ نہیں ہو سکتا جو انہیں بغیر مقدمات کا سامنا کئے ملک واپس لا سکے۔ حتیٰ کہ فوج بھی موجودہ بدلے ہوئے حالات میں نہیں چاہے گی کہ پرویز مشرف کے دفاع کا الزام اپنے سر لے جبکہ وہ ایک سیاستدان بن کر میدانِ سیاست میں اُترنا چاہتے ہیں۔ پرویز مشرف ٹیکنو کریٹ حکومت کے بڑے حامی ہیں، لیکن انہیں یہ پتہ نہیں کہ موجودہ عدالتی تناظر میں کوئی بھی غیر آئینی قدم اُٹھانا آسان نہیں، ٹیکنو کریٹ حکومت کیسے قائم ہوگی؟ آئین کہاں اس کی اجازت دیتا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ عدلیہ اب نظریۂ ضرورت کے تحت ایسی کوئی اجازت دے گی۔ پھر اگر ٹیکنو کریٹ حکومت بالفرض قائم ہوبھی گئی، تب بھی پرویز مشرف کو مقدمات کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا۔

ٹیکنو کریٹ حکومت انہیں انتظامی طور پر کوئی ریلیف نہیں دے سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ شریف فیملی کے خلاف احتساب عدالتوں میں مقدمات نے پرویز مشرف کے مقدمات کو ایک بڑا ایشو بنادیا ہے۔ مریم نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر وی آئی پی احتساب کی جو تشریح کی ہے، اُس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پرویز مشرف ملک میں ہونے کے باوجود عدالت میں پیش ہونے سے گریز کرتے رہے اور انہیں مریض ظاہر کرکے بچایا جاتا رہا۔

وہ جب ایک دوبار عدالت میں پیش ہوئے تو اُن کا پروٹوکول شریف خاندان سے کہیں زیادہ تھا، پرویز مشرف دبئی میں بیٹھ کر نواز شریف کو احتساب سے بھاگنے کے طعنے دیتے ہیں تو ہنسی آتی ہے، جو شخص آپ عدالتوں کے ڈرسے ملک آنے کو تیار نہ ہو، وہ ایسی بات کرے تو مضحکہ خیز تو لگتی ہی ہے۔

پاکستان میں لیڈر بننے کا سب کو شوق ہے۔ خاص طور پر وہ جرنیل جو اقتدار کا مزا چکھ لیتے ہیں، انہیں خواب میں بھی اقتدار نظر آتا ہے، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وردی کے زور پر اقتدار قائم رکھنا کبھی اس بات کی ضمانت نہیں بن سکتا کہ آپ لیڈر بھی بن گئے ہیں، سیاسی لیڈر بننے کے لئے ماریں کھانی پڑتی ہیں، جیلوں میں جانا پڑتا ہے، قانون کا بھگوڑا بننے سے لیڈر نہیں بنا جاسکتا۔ پرویز مشرف کو اگر سیاست کا اتنا ہی شوق ہے تو ملک واپس آئیں اور دلیری کے ساتھ مقدمات کا سامنا کریں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کئے بغیر اُن کے لئے پاکستان اور سیاست کے دروازے کھل جائیں گے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں اور دیوانے کے خواب تو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...