بزنس کمیونٹی نے ہی ملک کی معیشت کو سہارا دیا ہوا ہے : گورنر پنجاب

 لاہور(کامرس رپورٹر)کاروباری طبقہ کو کسی طرح طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،بزنس کمیونٹی کے مسائل کو خوب جانتا ہوں ۔ ملک کی بزنس کمیونٹی نے ہی ملک کی معیشت کو سہارا دیا ہوا ہے اور لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کیا ہوا ہے۔ حکومت نے صنعتی شعبے کیلئے لوڈشیڈنگ ختم کر دی ہے اور سستی بجلی مہیا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ جی ایس ٹی اور ایکسپوٹ ریفنڈز کی فراہمی شروع ہو گئی ہے۔ سی پیک کے تنازع میں جو انڈسٹریل زون بن رہے ہیں اس سے لوکل انڈسٹری کو بھی فائدہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری( ا یف پی سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر کاروباری برادری کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔گورنر پنجاب نے مزید کہاکہ بینکوں کو بزنس کمیونٹی کو سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ ہمارے ملک میں اور کاروباری برادری میں بہت پوٹینشل ہے جس کو صیح طرح استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں ہاؤسنگ سیکٹر کے فروغ کی اشد ضرورت ہے لاکھوں غریب لوگ بے گھر ہیں۔ ہمیں لونگ ٹرم پالیسی بنانا ہوگی جو روزگار اور ٹیکس میں اضافہ کا باعث بنے اور جس سے ملک کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہو سکے ۔گورنر نے مزید کہا کہ میں صوبائی خود مختاری کی حمایت کرتا ہوں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کے مسائل کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے بات کی ہے اور ایف پی سی سی آئی لاہور آفس کے لیے پلاٹ کی بھی بات کروں گا۔ یقین دلاتا ہوں کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کو ہر ممکن حل کیا جائے گا۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چےئرمین منظور الحق ملک نے کہاکہ ٹیکس افسران کو دیئے گئے صوابدیدی اختیارات کو ختم کیا جائے ۔مینو فیکچر ر ز سیکٹرکسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے تاہم اس کی مسلسل حوصلہ شکنی کی جا رہی تھی۔ ہمارا صنعتی شعبہ مکمل طور پر تباہی کی جانب جا رہا ہے۔ ۔مینوفیکچررز طبقہ بہت سے مسائل کا شکار ہے ۔ملٹی پل ٹیکس کو ختم کیا ۔ٹیکس کا محکمہ کاروباری حضرات کو مکمل طور پر ہراساں کر رہا ہے۔





ایک مینو فیکچرر جو انکم ٹیکس رجسٹرڈ ہے اور سالانہ ریٹرن جمع کرتا ہے۔ ایک سال میں 12 سیلز ٹیکس اینٹریز جمع کر ارہا ہوتا ہے جووہ سیلز ٹیکس، بجلی کے بلوں، ملازموں کی تنخواہوں، سیلزز اور ہر چیز پر دے رہا ہوتا ہے۔ اس کے خلاف Ex-Party کیس ہو جاتے ہیں جو بندہ پہلے ہی سسٹم کا حصہ ہے جو تمام پروسیس سے ہو کہ آرہا ہے پھر وہ محکمہ ٹیکس کے ملازمین کے ذاتی مفادات کی زد میں آ جاتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ادارے کی بدنامی اور ذاتی مفاد ات اٹھانے والوں کے خلاف کاروائی کرے۔ سارک چیمبر کے نائب صدر افتخار علی ملک نے کہا کہ آپ ایف پی سی سی آئی لاہور آفس کے لیے ہمیں پلاٹ دیں تا کہ ہم کاروباری برادری کو بہتر سہولیات فراہم کر سکیں۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر حاجی عطاء الرحمن نے کہاکہ روز روز نئے ٹیکس لگا ئے جارہے ہیں وہ بھی کاروباری طبقے کی مشاورت کے بغیر جس سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ SR 1035 میں جو نئی آر ڈی لگائی گئی ہیں اس میں جو لوگ پہلے ٹرانزیکشن کر چکے تھے جن کے پاس پرانی ایل سی ہیں وہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں جس کے لئے حکومت کو مناسب حکمت عملی کرنی چاہئے اور اس کو ٹیکس لگانے سے پہلے چیمبرز، ایسوسی ایشنز اورایف پی سی سی آئی کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ منظور ملک نے مزید کہاکہ گورنمنٹ نئی انڈسٹریل اسٹیٹ کے لیے کو ششیں کر رہی ہے تاہم پرانے انڈسٹریل ایریا کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ پرانے انڈسٹریل ایریا کو بھی انڈسٹریل اسٹیٹ اور SEZ کا حصہ بنایا جائے تاکہ کاروبار کے برابر مواقع ملیں۔گورنمنٹ نئی انڈسٹریل اسٹیٹس میں پلاٹس کی فراہمی یقینی بنائے۔ ملک میں Ease of Doing Business کی رینکنگ کو بہتربنانے اورCost of doing Business کو کم کرنے کے لئے شفاف ، جامع، طویل المعیاد قابل عمل معاشی پالیسیوں کی تشکیل اور انکا نفاذ ضروری ہے جسکے لئے فیصلہ سازی کے اداروں اور کاروباری تنظیموں میں مضبوط تعاون ، مشاورت کو بہتر بنانا ہوگا۔ ٹیکسزکا استعمال منصفانہ ہونا چاہیے ۔ اور فنڈز کو پسماندہ علاقوں کی فلاح پر خرچ کیا جانا چاہیے۔کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ریونیو بہت ضروری ہیں ۔سیاحت اور کھیل اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کوشش کی جانی چاہیں۔
کیپشن فوٹو:

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...