پاک سری لنکا ٹی ٹونٹی سیریز2017ء پاکستان کرکٹ ایک بار پھر عالمی اُفق پر جگمگانے کو تیار

پاک سری لنکا ٹی ٹونٹی سیریز2017ء پاکستان کرکٹ ایک بار پھر عالمی اُفق پر ...

اکتوبر کی سہانی شامیں ایک مرتبہ پھر کرکٹ کے خوبصورت نظاروں کی میزبانی کو تیار ہیں جہاں لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ پاک سری لنکا ٹی 20 سریز کے آخری میچ میں سری لنکن کھلاڑیوں کی میزبانی کر رہا ہے وہ سری لنکا جو ہمارا دوست ملک ہے اور سری لنکن کرکٹ ٹیم وہ ٹیم ہے جس کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان اور پاکستان میں کھیل کے دشمنوں نے پاکستان سے کرکٹ کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی گھناؤنی سازش کر کے امن و محبت، ولولے اور جذبات کے اس کھیل کو لہو سے رنگنے کی کوشش کی تھی جس میں اللہ نے ہمارے سری لنکن مہمانوں کو محفوظ رکھا تاہم کافی عرصے کے لئے پاکستان سے کرکٹ روٹھ گئی، لیکن کہتے ہیں نا دلوں میں محبت اور آنکھوں میں آنسوؤں کا وزن ظاہر ہی ہو جاتا ہے یہی ہوا کہ پاکستانی ایک کرکٹ سے پیار کرنے والی قوم جسے گلی محلوں میں دن ہو یا رُت جگے نوجوان کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں پاکستانیوں نے کرکٹ سے اپنا پیار جاری رکھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک طویل جدوجہد کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس لانے کی منصوبہ بندی کی۔ اس دوران جہاں پاکستان اور پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچانے کے لئے ہمارے ’’ازلی‘‘ دشمن نے اپنی تمام تر کوششیں کر ڈالیں پاکستان کرکٹ اور پاکستانی کھلاڑیوں پر کئی بدنامی کے حملے ہوئے لیکن۔

دشمن لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

پاکستان نے اس مشکل وقت میں اپنی کرکٹ کو بھی سنبھالا اور دانش مندی سے اس کھیل کو واپس لانے کی منصوبہ بندی بھی کرتا رہا پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی جیت کر عالمی کرکٹ کو بتایا کہ وہ ایک کرکٹ سے محبت کرنے والی قوم اور کرکٹ سے جیت کے جذبوں کو لانے والی ٹیم ہیں اور ٹیم پاکستان کی اس فتح کے بعد آئی سی سی اور اینڈی فلاور نے ورلڈ الیون کو پاکستان لا کر پاکستانی کرکٹ پر پھیلے نحوست کے لمحات کو ختم کرنے میں پاکستان کرکٹ کی مدد کی۔پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان کھیلی گئی سیریز کو پاکستانی ٹیم اور پاکستان کے کرکٹ شائقین نے بھرپور پذیرائی دی اور ورلڈ الیون کے کھلاڑی لاہوریوں کی محبتیں سمٹ کر گھروں کو لوٹے اب ایک بار پھر قذافی سٹیڈیم کے انکلوژر سے شائقین کرکٹ کھیل سے محبت اور کرٹ سے لگاؤ کا ثبوت دیں گے۔ اس سیریز میں پاکستانیوں کے وہ مہمان آ رہے ہیں، جنہوں نے لبرٹی چوک پر پاکستان کرکٹ پر حملے سے پاکستان کرکٹ کے ساتھ گھاؤ کھائے تھے یہ صرف ایک میچ نہیں تعلق اور دوستی کے وعدے کو پیمان سے بدلنے کی وہ لکیر ہے جس پر چل کر پاکستان کرکٹ مستقبل سے اپنے آپ کو انٹرنیشنل کرکٹ سے جوڑے گی یہ صرف شروعات ہے، آغاز ہے نئے سفر کا نئی منزل کا اور پاکستان کرکٹ کے عالمی افق پر ایک بار پھر جگمگائے۔

تین مارچ2009ء کو لاہور کے لبرٹی چوک میں سری لنکا کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سری لنکا کی ٹیم پہلی بار لاہور آ ئی ہے، مہمان ٹیم قذافی سٹیڈیم میں ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچ کھیلے گی اور میچ کھیلنے کے چند گھنٹے بعد وطن واپس روانہ ہو جائے گی۔ تاہم سری لنکا کی ٹیم 24گھنٹے میں وطن واپس روانہ ہوجائے گی۔ لاہور میں مہمان کھلاڑی ایک دن ہی قیام کرسکیں گے۔ میچ کھیلنے کے بعد کھلاڑی پیر کی صبح ساڑھے تین بجے براستہ دبئی کولمبو روانہ ہو جائیں گے۔ میچ کے موقع پر قذافی سٹیڈیم کے اطراف میں نشتر سپورٹس کمپلیکس کا پورا علاقہ 25اکتوبر سے مکمل طور پر بند ہے، آج میچ مکمل ہونے تک لبرٹی چوک سے فیروز پور روڈ تک عام ٹریفک کی آمد مکمل طور پر بند رہے گی، پیدل آنے والوں کو مکمل جامہ تلاشی کے بعد نشتر سپورٹس کمپلیکس میں آنے کی اجازت ملے گی۔پی سی بی ترجمان کے مطابق لاہور میں بدلتے موسم اور سموگ کے خطرہ کے پیش نظر پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاک سری لنکا کا میچ ایک گھنٹہ پہلے کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے محکمہ موسمیات نے شام کے اوقات میں دھند اور سموگ کی وارننگ بھی جاری کر رکھی ہے اس لئے اب یہ میچ شام سات بجے کے بجائے چھ بجے شروع ہو گا۔ دونوں ٹیموں کے مابین ٹاس ساڑھے پانچ بجے ہو گا۔تماشائیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ میچ شروع ہونے سے تین گھنٹے قبل سٹیڈیم پہنچ جائیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑا،جبکہ قذافی سٹیڈیم کے گیٹ میچ سے 3گھنٹے قبل کھول دیئے جائیں گے،جبکہ رنگارنگ تقریب میں پاکستان کے میدان آباد کرنے والے آئی لینڈرز کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔سیکیورٹی اداروں کی طرف کہا گیاکہ افراتفری سے بچنے کے لئے شائقین میچ شروع ہونے سے کافی دیر پہلے ہی اپنے انکلوژرز میں پہنچنے کی کوشش کریں،پارکنگ سے سٹیڈیم تک شٹل سروس فراہم کی جائے گی۔ پی سی بی نے پاک سری لنکا میچ کے ٹکٹ خریدنے والوں کے لئے ہدایات جاری کردیں۔طریقہ کار کے مطابق ایک شناختی کارڈ پر 5ٹکٹ خریدنے کی اجازت دی گئی تھی،کوریئر کمپنی خریدار کا نام اور شاختی کارڈ نمبر درج کرکے ہی ٹکٹ جاری کرتی رہی ہے،مرکزی خریدار ٹکٹ کی تصدیق کے لئے اصل شناختی کارڈ ساتھ لائے گا تو اس کے ساتھ ایک سے4افراد داخل ہوسکیں گے۔ 4سال سے زائد عمر کے بچوں کو بھی ٹکٹ لے کر آنا ہوگا، یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ اپنا خریدا گیا ٹکٹ سوشل میڈیا یا کسی فورم پر بھی نمائش کے لئے پیش کرنے سے گریز کریں،ٹکٹ کی خریداری کے لئے اپنا شناختی کارڈ کسی کو استعمال نہ کرنے دیں۔علاوہ ازیں میچ کے لئے واسا نے ایمرجنسی کیمپ قائم کر دیا ہے،جس میں30سینٹری ورکرز کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے موجود ہوں گے، بارش اور سیوریج کے پانی کی نکاسی کے لئے 3سکر مشینیں بھی موجود ہوں گی، بوقت ضرورت استعمال کے لئے 3جنریٹرز بھی تیار رکھے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان نے سری لنکا کو ون ڈے سیریز میں 5-0سے عبرتناک شکست دے دی جس کے بعد سری لنکن ٹیم نے نیا بدترین عالمی ریکارڈ بھی بنا دیا جو آج تک کرکٹ کی تاریخ میں کوئی بھی ٹیم نہ بنا سکی۔پاکستان سے سیریز سے قبل سری لنکا کو 2017ء میں جنوبی افریقہ اور بھارت کے ہاتھوں بھی کلین سوئپ کا منہ دیکھنا پڑا اور پاکستان کے خلاف شکست کے ساتھ ہی یہ ان کا رواں تیسرا کلین سوئپ ہے جو کرکٹ کی تاریخ کا نیا عالمی ریکارڈ ہے۔اس سے قبل دُنیا کی کسی بھی ٹیم کو ایک سال کے دوران تین کلین سوئپ نہیں ہوئے، لیکن 2017ء میں جنوبی افریقہ، بھارت اور پاکستان کے ہاتھوں کلین سوئپ کے ساتھ سری لنکا نے یہ بدترین ریکارڈ اپنے نام کر لیا،جبکہ سری لنکا کے خلاف5ون ڈے میچز کی سیریز میں کلین سوئپ کے باوجود پاکستان کی رینکنگ پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا تاہم وہ بدستور چھٹے نمبر پر ہی موجود ہے۔سیریز کے آغاز سے قبل گرین شرٹس کے پوائنٹس کی تعداد 95تھی جو اب 99ہوچکی ہے، نیوزی لینڈ کے پوائنٹس 113ہیں۔ اس کا پانچویں پوزیشن کی حامل کیوی ٹیم سے فاصلہ جہاں کچھ کم ہوا وہیں ساتویں نمبر کی بنگلادیشی ٹیم کو بھی کافی نیچے چھوڑ دیا ہے۔اس طرح آٹھویں نمبر پر موجود سری لنکا کو وائٹ واش کی وجہ سے 3 پوائنٹس کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اس کے اب 83پوائنٹس باقی رہ گئے، مگر پھر بھی وہ نویں نمبر کی حامل ویسٹ انڈیز ٹیم سے 6پوائنٹس آگے ہے۔ٹاپ پوزیشن جنوبی افریقہ کے قبضے میں ہے۔ دوسری جانب پاکستان اور سری لنکا کے مابین یو اے ای میں کھیلی گئی پانچ ون ڈے میچز کی سیریز میں سب سے زیادہ کامیاب بیٹسمین بابر اعظم اور کامیاب باؤلر حسن علی رہے۔ بابر اعظم نے پانچ میچوں میں 101کی اوسط سے 303رنز بنائے، جس میں دو سنچریاں اور نصف سنچری شامل ہے۔ دوسرے نمبر پر سری لنکا کے تھرنگا رہے جنہوں نے 199رنز بنائے، جس میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری شامل ہے۔ تیسرے نمبر پر تھری مانے رہے،جنہوں نے 174 رنز بنائے۔باؤلنگ میں حسن علی سر فہرست رہے، جنہوں نے پانچ میچز میں 14وکٹیں حاصل کیں، جبکہ دوسرے نمبر پر شاداب خان رہے جنھوں نے 10کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، تیسرے نمبر پر سری لنکا کے پی ایل ایس گیمیگے رہے،جنہوں نے سات کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

مزید : ایڈیشن 1