پی سی بی کو مجھے اور اہلخانہ کو میچ دیکھنے کیلئے بلانا چاہئے ،مہرخلیل

پی سی بی کو مجھے اور اہلخانہ کو میچ دیکھنے کیلئے بلانا چاہئے ،مہرخلیل

لاہور (سپورٹس رپورٹر )سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو 2009میں دہشت گردوں کے حملہ سے بچانے والے بس ڈرائیور مہر خلیل نے کہا ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کی بس کی ڈرائیونگ کا دوبارہ موقع دیا گیا تو یہ میرے لئے تمغہ جرات سے کم اعزاز نہیں ہوگا ۔قذافی سٹیڈیم لاہور میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہابتایا کہ مارچ 2009میں جب لبرٹی میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تھا تو یہ پاکستان اور پاکستان کرکٹ کے لئے سیاہ دن تھا لیکن خوشی کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے ہمت دی اورمیں اپنے مہمانوں کی بس کو دہشت گردوں کے حملہ سے بچا کر لے گیا ،اس دوران میری جان بھی چلی جاتی تو کوئی پرواہ نہیں تھی۔ معمولی بس ڈرائیور تھا لیکن اس واقعہ نے مجھے بہت اہم بنادیا ۔سری لنکا میں مجھے جو عزت دی گئی وہ ایک صدر مملکت کو بھی نہیں ملتی ۔مہر خلیل نے کہاکہ اسوقت کے پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ نے مجھے پی سی بی میں مستقل نوکری فراہم کرنے کا وعدہ کیا لیکن وعدہ ایفا نہ ہوا ۔میری پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی سے درخواست ہے کہ مجھے مستقل نوکری فراہم کی جائے ۔

میں لاہور سے اسلام آباد تک ایک پرائیویٹ کمپنی میں ڈرائیونگ کررہا ہوں ۔مہر خلیل نے کہا کہ سری لنکا کے خلا ف ہونے والے ٹی ٹونٹی میچ میں نہ تو پی سی بی نے مجھے بلایا ہے اور نہ ہی ابھی تک سری لنکن ٹیم کی طرف سے کوئی رابطہ ہوا ہے ۔پی سی بی کو مجھے اور میری فیملی کو میچ دیکھنے کے لئے بلانا چاہئے ۔سری لنکن ٹیم پر حملہ کو 8سال اور سات ماہ گذر چکے ہیں لیکن پی سی بی حکام مجھے بھول چکے ہیں ۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی