ایہہ نہیں ہوسکدا۔۔۔

ایہہ نہیں ہوسکدا۔۔۔

حضور والا ۔ اگر آپ پنجاب میں ضمنی الیکشن نہیں ہاریں گے تو خان صاحب بھی کے پی کے میں پیچھے نہیں رہیں گے۔

اسے کہتے ہیں جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ہم تو ماشاء اللہ سادہ مان نہیں چہ جائیکہ اقتدار میں ہوں۔ پھر سیاں بھی ہمارے کوتوال بھی ہمارا۔ اگر الیکشن کمیشن تمہارا ہے تو خان صاحب کے ہاتھ چمتکار کیلئے اور بہت سے ٹوٹکے ہیں اتنے ٹوٹکے تو ہماری زبیدہ آپا کے پاس نہیں۔

ایک ٹیچر نے پپو سے کہا جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، کی وضاحت کرو۔ پپو بولا ایک بار ہم اپنی پھوپو سے ملنے گئے وہ گھر نہیں تھیں پھر ایک بار وہ ہمارے گھر آئیں تو ہم سب پچھلے دروازے سے نکل گئے۔ یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ میاں صاحب نے جو لاہور میں کیا خان صاحب نے ویسا پشاور میں بھر دیا۔

ویسے بھی ہم ذرا نازک طبع لوگ ہیں، سچائی اور حقیقت سے ہمارا معدہ ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ الیکشن کے حوالے سے ایک ہی بار حقیقت 1971ء میں سامنے آئی اور ہم اسے برداشت نہیں کر سکے ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔ وہ واحد الیکشن تھے جسے سب فیئر کہتے ہیں۔ چنگا فیئر سی قوم نوں زخمی کر گیا۔

اس لئے میرے ووٹر بھیا ہمیں فیئر شفاف الیکشن سے ایسے ہی بچنا چاہئے جیسے کاں گلیلے سے بچتا ہے۔ بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ بس جعلی جولی نیم شفاف سے الیکشن ہی ہونے چاہئیں، شور و ور مچنا چاہئے لیکن دھندا بھی جاری رہنا چاہئے کیا کریں گندہ ہے پر دھندا ہے یہ۔

دیکھیں اب تازہ جنرل الیکشن کو لے لیں، پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ اور جماعت اسلامی سے پی ٹی آئی تک سب نے رولا ڈالا۔ دھاندلی دھاندلی لیکن سب سسٹم سے چپکے رہے۔ روزی روٹی کا معاملہ ہے۔ اربوں کھربوں روپے کی انویسٹمنٹ ہو تو بندہ کاروبار بند کرنے کا رسک نہیں لیتا۔

لہٰذا پیپلزپارٹی نے دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد سندھ کا جپھا مار لیا۔ میاں برادران نے پنجاب اور بلوچستان کو گود میں اٹھا لیا اور اسے گانا سنانے لگے

اک میرا چاند اک میرا تارا

بڑے بھیا کی لاڈلی، چھوٹے بھیا کا پیارا

رہ گئے خان صاحب تو انہیں کے پی کے دھاندلی کا انعام ملا۔ انہوں نے ورلڈ کپ کی طرح اسے اپنی باہوں میں سمیٹ لیا۔

محبت بری ہے، بری ہے محبت

کہے جا رہے ہیں کئے جا رہے ہیں

رہ گئے ہمارے پیارے مولانا فضل الرحمان ان کی نظریں گزشتہ پشاور کے ضمنی الیکشن کے بعد ویسے ہی دھندلا گئی ہیں اور انہیں کہنا پڑ گیا کہ مجھے 2018ء کے انتخابات نظر نہیں آ رہے۔ بیوی بولی سنا ہے چاند پر کوئی زندگی نہیں۔ شوہر بولا میری تے زمین تے وی کوئی زندگی نئیں۔

وہ دن گئے جب مہربان مجلس عمل بنا دیا کرتے تھے اور بندے کو بیٹھے بٹھائے اقتدار کے جھولے مل جاتے تھے۔ لوگ حضرت آصف زرداری کو سیاست کا امام کہتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں وہ مولانا صاحب کے نیڑے نیڑے بھی نہیں آتے۔

پرویز مشرف، بی بی شہید، میاں صاحب وہ ہر ایک کی کمزوری رہے اور کمزوری بھی وہ والی جس سے نجات کی دعوت ملک کی ہر دیوار پر لکھی نظر آتی ہے۔ ہاں تو ہم بات کر رہے تھے انتخابات کی اور ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ انتخابات ہمارے ووٹوں شوٹوں سے ہوتا ہے۔

جانو میرے ہمارا کام بس لائینوں میں لگنا انگوٹھے کالے کرنا اور قیمے والے نان یا ایک پلیٹ بریانی کھانا ہے۔ موج میلے کے عادی لوگ ہیں سڑکوں پر دو بندوں کی لڑائی ہو جائے تو سوبندے ایویں ڈبلیو ڈبلیو ایف دیکھنے رک جاتے ہیں۔

ہمیں ویسے بھی بڑا ’’چا‘‘ رہتا ہے دھرنوں اور چرنوں میں بیٹھنے کا، تازہ تازہ الیکشن ہارنے والا ایک سیاستدان میٹرنٹی ہوم کے باہر بے چینی سے ٹہل رہا تھا نرس آکر بولی مبارک ہو آپ کے تین بیٹے ہوئے ہیں ۔ اپنے خیالات میں الجھا سیاستدان بولا ایہہ نئی ہو سکدا۔ فیر توں گنتی کراؤ۔

ہمارے پیارے وزیر داخلہ فرماتے ہیں ہم مان لیتے ہیں کہ کچھ لوگ فوج اور ن لیگ میں لڑائی کرانا چاہتے ہیں۔ ڈیئر سر اگر کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں تو آپ ان کی خواہش نہ پوری ہونے دیں مجھے نہیں معلوم اس بات پر فوج کا موقف کیا ہے۔

ہمیں تو بہرحال خوشی ہوئی تھی جب امریکی لارڈ بہادر تشریف لائے اور ہماری سیاسی عسکری قیادت نے ایک ہی پلیٹ فارم پر ایک ہی موقف اپنایا۔ ہمیں لگا کہ ہم اب بھی زندہ قوم ہیں اب بھی ہم میں زبان ہے، ہم ایٹمی طاقت ہیں، دنیا کی ایک بڑی حقیقت ہیں کوئی ببو گوشہ نہیں کہ جس کا دل کرے ہمیں چک مار لے۔

لیکن میں اتنا ضرور عرض کروں گا کہ جب آپ امریکہ جیسے کینہ پرور اور ٹرمپ جیسے غبی ایوریج آدمی کے سامنے سینہ تان رہے ہیں تو اس بات کو ذہن میں رکھیں آزادی کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اسے چکانا بھی پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں جب انکل سام بھارت کو علاقے کا پردھان بنانا چاہتا ہے اور افغانستان ایک وچولنے کا کردار ادا کرنے پر تیار ہے تو ہمیں کم از کم اپنے اندرونی اختلافات کو ختم کرنا ہو گا۔

کتنا عجیب جملہ ہے کوئی ن لیگ اور فوج میں لڑائی کرانا چاہتا ہے۔ اب نون لیگ اتنی بھولی تو ہے نہیں کہ جنے لایا گلی اوہدے نال ٹر چلی اور پھر ایک قومی سیاسی جماعت کی اپنی فوج سے کیا لڑائی۔

یہ بات دونوں کو سمجھنی چاہئے کہ امریکہ اسرائیل بھارت اور افغانستان ہلکائے جانور کی طرح ہمیں بھنبھوڑ رہے ہیں، ہمیں ان سے نمٹنے کے لئے کم از کم اندرونی محاذ بند کرنے ہونگے وطن سے محبت کا تقاضا تو یہی ہے۔

ائیرہوسٹس نے پوچھا سر لینچ میں کیا لیں گے۔ مسافر بولا چوائس میں کیا کیا ہے۔ ائیرہوسٹس بولی چوائس میں یس اور نو ہے۔ اب حالات یس اور نو والے نہیں۔ تب بھی نہیں تھے لیکن سب کچھ تھا شاید ہمارے پاس جرأت نہیں تھی۔

اب چاہے ہم نے یہ جرأت چین سے ادھار لی ہو لیکن اگر ہم نے انکل سام کو کچھ کہہ ہی دیا ہے تو اب پیچھے ہٹنے کی چوائس نہیں۔ اس لئے میری پیاری مسلم لیگ اور میرے پیارے مہر بانو ۔۔۔ احتیاط ضروری ہے، امریکہ جا کر اپنا گھر ٹھیک کرنے اور پھر وزیر اعظم کی جانب سے بیان کی تائید کرنے پر پرہیز ضروری ہے۔ منجی تھلے ڈانگ پھیریں ماشاء اللہ لڑائی کرانے والے کوئی غیر نہیں ہونگے اپنے ہی نکلیں گے۔

ہوائی جہاز کے سفر میں طوطے نے ائیرہوسٹس کو دیکھ کر کہا سوہنیو کی حال ہے۔ وہ مسکرا اٹھی سردار جی نے دیکھا تو انہوں نے کہہ دیا سوہنیو مترو کی حال ہے۔ ائیر ہوسٹس کی شکایت پر جہاز کے کیپٹن نے طوطے اور سردار جی کو جہاز سے باہر پھینک دیا۔ سردار غوطے کھاتے جا رہے تھے تو طوطا ان کے پاس آیا اور بولا سردار جی جے اڈنا نہ آؤندا ہووے تے پنگے نئیں لئی دے، میرا خیال ہے سیاسی قیادت کو بھی ذرا ایسے بیانات سے پرہیز کرنا چاہئے جس سے جگ ہنسائی ہو۔ کچھ کمزوریوں کو خاموشی سے شور مچائے بغیر بھی حل کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا کام ہے بلا معاوضہ نصیحت کرنا کہ سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے۔ جب ہر بات کے پیچھے ایمپائر کی انگلی تلاش کریں گے۔ تو بھیا انگلی تو انگلی ہے۔

سردار جی نے رکشہ والے سے کہا سٹیشن کے کتنے پیسے۔ وہ بولا سو روپے۔ سردار جی بولے پچاس لے لو۔ رکشہ والا بولا سردار جی پچاس میں کون لے جاتا ہے۔ وہ بولے توں بیٹھ پیچھے میں لے جاواں گا۔ بھیا میرے یہ جنگی اثاثے، یہ حربی پیچیدگیاں وہ ہی جانیں جو سی آئی اے، راء ، مو ساد اور خاد سے لڑ رہے ہیں۔ رکشہ انہیں ہی چلانے دیں۔ اس معاملے میں آپ رکشہ کے پیچھے ہی بیٹھیں تو اچھا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...