بھارتی قابض فوج کا جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں کا محاصرہ

بھارتی قابض فوج کا جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں کا محاصرہ

سرینگر(کے پی آئی )مقبو ضہ کشمیر میں بھارتی پولیس و فورسز نے مشترکہ کارروائیوں کے دوران جنوبی کشمیر کے ترال کے مضافاتی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی کئی کمین گاہوں کو تباہ کرنے او ر ان سے غذائی اجناس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ،پولیس کے مطابق بالائی ورکر عسکریت پسندوں کو اشیاء خوردنی اور دوسری ضرورت کی چیزیں بہم پہنچا رہے ہیں اور ا نکی نقل وحرکت پر کڑی نگاہ رکھی جائیگی۔ 42راشٹریہ رائفلز ،180بٹالین سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کو مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ نرستان ترال کے مضافاتی علاقوں میں عسکریت پسندو ںے نے کمین گاہیں قائم کی ہیں۔ اطلاع ملنے کے بعد پولیس و فورسز نے ترال کے نرستان علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی جس کے دوران عسکریت پسندوں کی کئی کمین گاہوں کو ڈھونڈ نکالنے اور ان سے اسلحہ گولہ بارود کے بجائے غذائی اجناس برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ پولیس کے مطابق بالائی ورکر عسکریت پسندوں کو غذائی اجناس اور دوسری ضرورت کی چیزیں بہم پہنچانے کیلئے سرگرمی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق کئی بالائی ورکروں کی نقل و حرکت پر مزید کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد مل سکے۔ ادھروقیہ کولگام کے علاقے میں زلف تراشی کے بعد لوگوں نے احتجاج مظاہرے کئے ،ادھر شادی پورہ میں گیسو تراشی کے خلاف لوگوں نے سرینگر بانڈی پورہ شاہراہ پر دھرنا دیا اور احتجاجی مظاہرے کئے۔

وقیہ کولگام کے علاقے میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب نا معلوم افراد مشتاق احمد بٹ نامی شخص کے رہائشی مکان میں گھس گئے اور ان کی 17سالہ بیٹی کو بیہوش کرنے کے بعد چوٹی کاٹ کر علاقے سے فرار ہوئے۔ دوشیزہ کی چوٹی کاٹنے کی خبر وقیہ کولگام اور اس کے مختلف علاقوں میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی ،مرد و زن ،بوڑھے اور بچے اپنے گھروں سے باہر آئے اور ا س واقعے کے خلاف زور دار احتجاجی مظارے کئے اور الزام لگایا کہ چوٹیاں کاٹنے والوں کو بے نقاب کرنے میں جموں و کشمیر پولیس لعت و لعل کا مظاہرہ کر کے لوگوں کو ذہنی پریشانیوں میں مبتلا کر رہی ہے۔ واقعے کے خلاف بڑی تعداد میں لوگوں نے سرینگر بانڈی پورہ شاہراہ پر دھرنا دیا اور احتجاجی مظاہرے کئے۔ احتجاج کرنے والوں کے مطابق شادی پورہ علاقے میں تین دن پہلے ایک خاتون کی چوٹی کاٹنے کا واقع رونما ہوا تھا ،اس کے بعد یہ دوسرا واقع رونما ہو ا۔اس طرح کی کارروائیاں روکنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے معقول اقدامات نہیں اٹھا ئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو سڑکوں پر آنا پڑ رہا ہے۔ ایس ایچ او? سمبل نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی 17سالہ دوشیزہ کی چوٹی کاٹی گئی ہے تاہم ابھی تک اس سلسلے میں مقامی لوگوں یا متاثرہ دوشیزہ کے لواحقین نے پولیس اسٹیشن سمبل میں رپورٹ درج نہیں کی

مزید : عالمی منظر