دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے عملی اقدامات دیکھنا چاہئے ہیں : امریکہ

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے عملی اقدامات دیکھنا چاہئے ہیں : امریکہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) امریکی سفارتکار برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے کہا ہے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکہ پاکستان کی جانب سے عملی اقدامات دیکھنا چاہتا ہے،پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پرلانے کیلئے اقدامات کرے،پاکستان نے جس طرح اپنے ملک میں طالبان کا مقابلہ کیااب بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کرے۔ہفتہ کو اپنے بیان میں ایلس ویلز کا مزید کہنا تھا افغانستان میں طالبان سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان اسی طرح عملی اقدامات کرے، جس طرح اس نے اپنے ملک میں طالبان کا مقابلہ کیاہے ۔ امریکہ کو خطے میں جائز کام اور خدشات ہیں جنہیں حل کرنے کیلئے پاکستان کی مدد درکار ہے،یاد رہے اپنے دورہ افغانستان، پاکستان اور بھارت مکمل کرنے کے بعد جنیوا پہنچنے پر امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن نے میڈیا کو بریفنگ میں کہا تھا پاکستان ایک خود مختار ملک ہے، امریکہ اس سے زیادہ مطالبات نہیں کرتا تاہم امریکہ پاکستان کی مدد یا پھرکسی دوسرے طریقے سے بھی خطے سے دہشت گردی کو ختم کرنے کا عزم رکھتا ہے، بھارت کیساتھ تنازع کو حل کر نے کی پاکستان کو کی گئی پیشکش نئی دہلی کو ناراض کر سکتی ہے، بھارت پاکستان کیساتھ تنازعات کو حل کرنے کیلئے کسی ثالثی کی شمولیت کا خواہشمند نہیں ہے ،امریکہ کو خطے میں جائز کام اور خدشات ہیں جنہیں حل کرنے کیلئے پاکستان کی مدد درکار ہے،پاکستان کو اپنے ملک سے دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے مزید کام کرنے ہونگے۔کیو نکہ سب جانتے ہیں جنوبی ایشیا کیلئے امریکہ کی نئی حکمت عملی شرائط پر مبنی ہے۔ ریکس ٹلرسن کا یہ بھی کہنا تھا ان کی اور پاکستانی حکام کی ملاقات کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا،تاہم ان کا کہنا تھا انہوں نے پاکستانی قیادت کو یہ باور کرادیا ہے کہ واشنگٹن اسلام آباد کیساتھ یا پھر اس کے بغیر بھی اپنی جنوبی ایشیا میں اپنی نئی حکمت عملی لاگو کرے گاکیونکہ امریکا کیلئے یہ حکمت عملی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اب چاہے دہشت گرد پاک افغان سرحد پر پاکستانی حصے میں ہوں یا افغان حصے میں، ہم انہیں ختم کر سکتے ہیں۔

امریکہ

مزید : علاقائی