سندھ کابینہ نے اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کی منظوری دیدی ، عبدالمجید دستی کو نیا آئی جی لگانے کا فیصلہ

سندھ کابینہ نے اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کی منظوری دیدی ، عبدالمجید دستی کو نیا ...

 کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت نے ایک بار پھر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو تبدیل کرکے سردار عبدالمجید دستی کو آئی جی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پہلی بار آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اون پے اسکیل پر اے ڈی خواجہ کی تعیناتی عدلیہ کے حکم کیخلاف ورزی ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ آئی جی سندھ کو تبدیل کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کے بعد اب اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کیلئے خط لکھا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ اے ڈی خواجہ گریڈ 21 کے افسر ہیں اور گریڈ 22 کے سردار عبدالمجید دستی سینئر افسر ہیں، وفاق کو خط میں سردار عبدالمجید دستی کو مستقل آئی جی تعینات کرنے کا کہا جائے گا۔اس سے قبل اجلاس میں آئی جی سندھ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کی پوسٹنگ 2 سال کیلئے ہوتی ہے، باقی افسران کی تعیناتی کا دورانیہ ایک سال تجویز کیا ہے۔اے ڈی خواجہ نے کہا کہ آئی جی کو پولیس افسر کے ٹرانسفر کا اختیار ہونا چاہیے جب کہ مدت سے قبل کسی افسر کا ٹرانسفر ٹھوس وجوہات پر ہی کیا جائے۔آئی جی سندھ نے تجویز دی کہ ایس ایچ او اپرسکول کورس کوالیفائیڈ ہونا چاہیے، ایس ایچ او کی عمر 55 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے جب کہ ایس ایچ اوز کو سب انسپکٹر یا انسپکٹر کے رینک کا ہونا چاہیے۔آئی جی سندھ کی بریفنگ کے بعد سیکریٹری داخلہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکریٹری داخلہ کی کمیٹی وزیر اعلیٰ نے قائم کی تھی، آئی جی سندھ نے پولیس افسران کی 4 کیٹگریز بتائی ہیں، لیکن کمیٹی نے آئی جی سندھ کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔سیکریٹری داخلہ نے کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ سینئر افسران کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے، ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا اختیار دیگر صوبوں میں وزیراعلیٰ کے پاس ہے، گریڈ 1 سے گریڈ 21 تک کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ اختیارات آئی جی کے پاس نا ہوں۔جب کہ سیکریٹری سروسز نے بریفنگ میں کہا کہ اے ڈی خواجہ کو 2016 میں او پی ایس پر آئی جی لگایا گیا لیکن اب سپریم کورٹ نے تمام او پی ایس ختم کردی ہیں اس لیے سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے سپرد کرے اور اے ڈی خواجہ کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں فوری ہٹایا جائے۔سیکریٹری سروسز کا کہنا تھا کہ صوبے میں اس وقت اے ڈی خواجہ سے سینئر 22 گریڈ کے افسر سردار عبدالمجید دستی موجود ہیں جنہیں نیا آئی جی بنانے کی سفارش کی جائے گی، وفاقی حکومت سے کہا جائے گا کہ سندھ حکومت پر بھی دیگر صوبوں کی طرح رولز لاگو کیے جائیں۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم پولیس رولز آئین و قانون کے مطابق بنانا چاہتے ہیں، چاہتے ہیں رولز سے پولیس کی کارکردگی بہتر ہو جب کہ پولیس رولز ایسے ہوں جس میں حکومت کی رٹ قائم رہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ عوام کے مفادات میں کام کریں، میری کوشش ہے کہ اداروں کو بہتر کروں۔ووسری جانب ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ آئی جی پولیس رولز بنائیں گے، سندھ پولیس رولز پر کابینہ بحث کرے گی اور کابینہ پولیس رولز کو آئین کے مطابق منظور کرے گی۔

آئی جی سندھ

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...