مسلم لیگ (ن) کے فارورڈ بلاک کا انجن اب تک سٹارٹ کیوں نہیں ہو رہا ؟

مسلم لیگ (ن) کے فارورڈ بلاک کا انجن اب تک سٹارٹ کیوں نہیں ہو رہا ؟
مسلم لیگ (ن) کے فارورڈ بلاک کا انجن اب تک سٹارٹ کیوں نہیں ہو رہا ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  اگر کسی نے فارورڈ بلاک کی تشکیل کیلئے چودھری نثار علی خان پر تکیہ کر رکھا تھا تو اسے نوید پہنچے کہ اس کی امید بر نہیں آئے گی۔ چودھری سے ایسی امیدیں جنہوں نے لگا رکھی تھیں وہ یا تو چکری کے اس چودھری کو اچھی طرح جانتے نہیں، اور اگر جانتے ہیں تو انہوں نے غالباً یہ سمجھ کر تیر چلا دیا تھا کہ لگ گیا تو ٹھیک ورنہ تُکا تو ہوگا ہی، ایسے معاملات میں یہی ہوتا ہے، گھنٹے دنوں میں اور دن ہفتوں میں بدلنے لگے ہیں جب یار لوگوں نے بڑا بول بولا تھا کہ مسلم لیگ (ن) میں فارورڈ بلاک بنا کہ بنا، لیکن تادمِ تحریر ایسا کچھ سامنے نہیں، ہم نے اپنے ایک مہربان سے پوچھا کہ اس موضوع پر لکھنا چاہتا ہوں ساٹھ ستر نہیں تو پانچ دس نام ہی گنوا دیں تو وہ تیسرے نام سے آگے نہ بڑھ سکا، معاً میرے منہ سے نکلا کہ اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی۔ چودھری نثار علی نے کہا مسلم لیگ (ن) میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں‘ اختلاف رائے ضرور ہے اور وہ بھی کوئی سیاسی جماعت ہے جس میں اختلاف رائے نہیں ہوتا، اسی لئے ایسی جماعتوں کی سیاست میں کبھی دال نہیں گلتی جو اپنی جماعت کے ارکان کو اختلاف رائے کا حق نہیں دیتیں اور جس جماعت کے ارکان اپنی جماعت کے سربراہ کو سیاسی لیڈر سے زیادہ پیرو مرشد کا درجہ دے دیں وہ بھی بالآخر فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ آپ ذرا تصور میں ان جماعتوں کو لائیں جو بیس، تیس سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصے سے سیاست کر رہی ہیں لیکن انتخابات میں انہیں کبھی ایک نشست ملتی ہے اور کبھی وہ بھی نہیں، ان کی سیاست کا سارا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کسی طاقتور کی انگلی پکڑ کر اقتدار کی راہداری میں داخل ہو جائیں، ممکن ہے کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہو، لیکن یہ کامیابی کا کوئی فارمولا نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اپنی ساری امیدیں سیاست میں کرشموں سے وابستہ کرلی ہوں انہیں اور تو سب کچھ کہا جاسکتا ہے سیاستدان نہیں کہا جاسکتا۔ وقتی طور پر فائدہ ضرور ہو جاتا ہے لیکن بعد میں آدمی کو معین قریشی بننا پڑتا ہے اور قسمت اچھی ہو تو زیادہ سے زیادہ شوکت عزیز۔

چودھری نثار علی خان وزیر داخلہ تھے تو بھی اپنے بنائے ہوئے نقشے کے مطابق چلتے تھے، اب ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں صرف قومی اسمبلی کی رکنیت ہے تو بھی وہ اپنی ایک آزادانہ رائے رکھتے ہیں، اپنے لیڈر سے اختلاف کریں تو کھل کر کرتے ہیں، کسی کے پھینکے ہوئے جال میں نہیں پھنستے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں گونگا بہرہ ہوکر نہیں بیٹھتا، ڈنکے کی چوٹ پر بات کرتا ہوں، انہوں نے اپنے حلقے کے جلسہ عام میں شیخ رشید احمد کو بھی کہا کہ وہ اپنی سیاست کریں، مجھے اپنی کرنے دیں، شیخ رشید کسی غلط فہمی میں نہ رہیں میں ان کے مشرف اور دیگر ادوار کے سیاسی اوراق کھول سکتا ہوں۔ جو لوگ یہ توقعات باندھے ہوئے تھے کہ اگر مسلم لیگ (ن) اب نہ ٹوٹی تو اگلے الیکشن سے پہلے تو اس میں دھڑے بندی ضرور ہو جائے گی انہیں بھی چودھری نثار علی خان نے مشورہ دے دیا ہے کہ وہ اپنی سیاست پر توجہ دیں کیونکہ مسلم لیگ متفقہ پالیسی بناکر اگلے انتخاب میں اترے گی اور اس میں کوئی دھڑے بندی نہیں ہوگی۔ چودھری نثار علی کو آئی ایس آئی اور را کے سابق سربراہوں کا لندن میں جپھیاں ڈالنا بھی پسند نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک مودی برسر اقتدار ہیں پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب نوازشریف کے خلاف فیصلہ نہیں آیا تھا تو ان کے خیر خواہ بڑے تسلسل کے ساتھ انہیں مشورے دے رہے تھے کہ وہ وزارت عظمیٰ چھوڑ دیں اور شہبازشریف کے حوالے کردیں لیکن انہیں شاید معلوم نہیں تھا کہ یہ کم از کم دو ماہ کا پراسیس ہے۔ شہبازشریف ایک بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، پہلے وہ اس عہدے سے دستبردار ہوتے پھر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑتے اور جیت کی صورت میں وزیراعظم بنتے، ایسے میں انہیں رانا ثنا اللہ نے درست مشورہ دیا تھا کہ وہ پنجاب میں اپنا عہدہ نہ چھوڑیں، لیکن نوازشریف کے ہمدردوں نے اس پر یہ یو ٹرن لیا کہ انہیں اپنے چھوٹے بھائی پر بھی اعتماد نہیں۔ اب جبکہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ شہبازشریف نہ تو وزیراعظم بن رہے ہیں اور نہ ہی فوری طور پر مسلم لیگ کی صدارت ان کے پاس آنے والی ہے تو انہوں نے شہبازشریف کے خلاف اس حوالے سے بیان بازی تیز کردی ہے کہ بھائیوں میں اختلافات بڑھ گئے۔ چودھری نثار علی خان نے ایسے ہی لوگوں سے کہا ہے کہ اگر بھائیوں میں یا مسلم لیگ میں اختلافات ہوں تو بھی ان کا کوئی فائدہ مخالفین کو نہیں پہنچنے والا۔ لگتا ہے کہ فارورڈ بلاک کا دھکا سٹارٹ انجن دوچار دفعہ چھک چھک کرکے بند ہوگیا ہے اور اب دھکے لگانے پر بھی سٹارٹ ہونے سے انکاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مخالفین اب یہ شور مچا رہے ہیں کہ کوئی این آر او نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ بھی وہی لوگ کہہ رہے ہیں جو ماضی میں این آر او سے مستفید ہوچکے ہیں۔ اس این آر او کو سپریم کورٹ ختم نہ کرتی تو یہ اب تک سرسبز و شاداب ہوتا۔

چودھری نثار علی خان نے کچھ مشورے اپنے قائد کو بھی دیئے ہیں اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان پر بے جا نکتہ چینی خود ان لوگوں کیلئے انصاف کو مشکل بنا دیتی ہے جن کے مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں۔

فارورڈ بلاک کا انجن

مزید : تجزیہ