شبقدر میں کھلی کچہری کا انعقاد ،شکایات کے انبار لگ گئے

شبقدر میں کھلی کچہری کا انعقاد ،شکایات کے انبار لگ گئے

شبقدر(تحصیل رپورٹر) شبقدر گورنمنٹ ڈگری کالج شبقدر میں ڈی سی چارسدہ کی جانب سے کلی کچہری کا انعقاد مقامی بلدیاتی نمائندوں اورلوگوں نے شبقدر سے متعلق مسائل کے امبار لگا دئیے شبقدر بازار میں ایرگیشن چینل پر موجود تجاوزات کے خلاف عوامی احتجاج پر ڈی سی چارسدہ نے ایکشن لیتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اندر تمام تر کاروائی کرنے کے اخکامات جاری کر دئیے اس موقع پر تمام متعلقہ اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے ۔ تفصیلات کے مطابق شبقدر ڈگری کالج میں ڈپٹی کمشنر چارسدہ منتظر شاہ کی جانب سے کلی کچہری کا انعقاد ہوا جسمیں ڈی ایس پی شبقدر انعام جان خان ۔اے سی شبقدر شبیر خان ایڈمنسٹریشن ضلع چارسدہ کے چیرمین اور ضلعی کونسلر ایم سی ون الیاس جان اور شبقدر کے دیگر بلدیاتی نمائندوں کے علاوہ تمام متعلقہ سرکاری محکموں کے اہلکاروں اور عام عوام نے شرکت کی کلی کچہری میں شبقدر کے بلدیاتی نمائندوں اور عوام نے شبقدر میں تعلیم ۔صحت ۔مواصلات بجلی لوڈ شیڈنگ اور امن وآمان سے متعلق مسائل کے انبار لگا دئیے اس کے ساتھ ساتھ شبقدر بازار میں ایرگیشن چینل پر موجود تجاوزات کے خلاف احتجاج کرنے والے زمینداروں نے کہا کہ شبقدر بازار میں تمام ایرگیشن چینلز پر لوگ قابض ہو چکے ہیں جس کے باعث اگست میں آنے والی سیلاب کے باعث شبقدر اور ملحقہ علاقوں میں کافی نقصان ہوا تھا جبکہ تجاوزات کے باعث زمینداروں کو آبپاشی میں بھی کافی دشواری کا سامنا ہے جس پر انہوں نے ٹی ایم اے اور اے سی شبقدر کو فوری طور پر احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ دو ہفتوں کے اندر اندر ان کیخلاف عملی اقدامات کریں انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف ایک کمیٹی بنائی جائے گی جس کی سربراہی تحصیل ناظم کریں گے اس موقع پر ڈی ایس پی شبقدر نے عوام سے کہا کہ منشیات ایک لعنت ہے اور اس کی روک تھام کے لئے عوام کو پولیس کے ساتھ ملکر کام کرنا ہوگا اور علاقے سے منشیات فروشی سمیت تمام جرائم کا خاتمہ کرنا ہو گا ۔ لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپ لوگ باقاعدگی سے بجلی بل ادا کیا کریں اور نئے کنکشن لگائے تاکہ لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں کچھ کمی آسکے ۔ اس موقع پر ڈی سی چارسدہ نے عوام کو تما م تر شکایات کے لئے رابطہ نمبر بھی دئیے اور کہا کہ تمام تر جائر مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے گا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر