ہر ادارہ دائرہ اختیار میں کام کر ے ٹکراؤ سے جمہوریت کو نقصان ہوگا، اسفند یار

ہر ادارہ دائرہ اختیار میں کام کر ے ٹکراؤ سے جمہوریت کو نقصان ہوگا، اسفند یار

کوئٹہ (این این آئی )اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہاہے کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ ٹیکنوکریٹ گورنمنٹ یا قومی حکومت بنائی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا کوئی اقدام(بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

کیا گیا توا س کو غیر آئینی تصورکرینگے اور کسی صورت قبول نہیں کرینگے الیکشن کمیشن نے واضح طورپر کہاہے کہ مردم شماری ہوچکی ہے اگر وقت پر حلقہ بندیاں کرالی جائیں تو انتخابات مقررہ وقت پر ہوسکتے ہیں فاٹا ،خیبرپختونخوامیں ضم ہوکر رہے گا دو پارٹیوں کی جانب سے جو حکومت کا حصہ ہے ان کی جانب سے مخالفت ہماری سمجھ سے بالاتر ہے ۔انہوں نے یہ بات اے این پی کی صوبائی کونسل کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے بعد مقامی ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اس وقت ملک کے حالات بہت خراب ہے ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا جلد بازی میں کوئی نقصان ہوسکتا ہے۔ آئین فیڈریشن کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہوگا اور اس پر عمل کرنا ہوگا اگر حالات خراب ہوگئے تو قابو کرنا بہت مشکل ہوگا ہر ادارہ کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا ہوگا اداروں سے ٹکراؤ جمہوریت کیلئے بھی نقصان ہوگا اور اداروں کیلئے بھی۔اور اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں ۔ ہم نیب کے نئے چیئرمین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ایماندار ی اور بلاامتیاز کام کرینگے کیونکہ بہت سے لوگوں کے پاس کمپنیاں ہے ان میں سب کے سب غلط نہیں ہوسکتا ہے کہ کچھ ٹھیک ہوں اور کئی لوگوں کے پاس تیس سے پینتیس کمپنیاں ہیں امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے ۔ فاٹا سی پیک کا حصہ بن کر رہے گا تمام سیاسی جماعتیں سوائے دو جماعتوں کے اس بات کے حق میں ہیں کہ فاٹا کو خیبرپختونخوامیں ضم کیا جائے یہ دو پارٹیاں حکومت کا حصہ ہے مگر پھر بھی مخالفت کررہی ہے۔ امید ہے کہ سابق وزیراعظم نے جو ہمارے ساتھ وعدے کئے تھے اسے انکے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی پورا کرینگے کیونکہ وہ کہتے کے ہمارا لیڈ ر نواز شریف ہے ۔ سی پیک اگر ڈیرہ اسماعیل خان ،ژوب ،کوئٹہ اور گوادر تک لے جایا جائے اس دوران بارہ انڈسٹریز زون بھی راستے میں آئے گی اس سے بلوچستان کو فائدہ ہوگا اور اگر ژوب کراچی کا راستہ اپنایا گیا تو بلوچستان کو سی پیک سے کاٹ دیا جائے گا جس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہونگے ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس وقت ملک کے حالات ٹھیک نہیں خارجہ پالیسی از سر نو تشکیل دی جائے کیونکہ موجودہ خارجہ پالیسی ہمارے لئے صحیح نہیں ہمارے ہمسایہ ممالک سے تعلقات اچھے نہیں ان میں افغانستان ،ایران ، بھارت شامل ہیں ۔ جب تک ان ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہونگے یہاں پر بھی اچھے حالات نہیں ہونگے ۔ ڈیورنڈلائن کا مسئلہ حل طلب ہے جب تک بیٹھ کر اس مسئلے کو حل نہیں کیا جائے گا یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ پاکستان اور افغانستا ن کے تعلقات بہتری کیلئے چین اگر اپنا رول ادا کرے تو کافی حد تک مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور اگر ہمیں کوئی کردار ادا کرنے کو کہاگیا تو ہم ادا کرنے کیلئے تیار ہے پاکستان ہمارا ملک ہے میرے اباؤ اجداد افغانستا ن میں رہے مجھے دونوں ملکوں کے تحفظ کا خیال ہے ۔ میں ایم این اے ،ایم پی اے اور سینیٹر رہ چکا ہوں پاکستان سے حلف وفاداری اٹھاچکا ہوں ۔ پاکستان میں اٹھارہ سال کے بعد مردم شماری کرائی گئی ہم فاٹا میں ہونے والی مردم شماری سے مطمئن نہیں مردم شماری کے بعد نیا حلقہ بندی ضروری ہے الیکشن کمیشن نے واضح طورپر کہاہے کہ اگر حکومت حلقہ بندی مقررہ وقت کے دوران پوری کردے تو ہم الیکشن کرانے کیلئے بالکل تیار ہیں ۔ ہم پنجاب کو بڑا بھائی تسلیم کرتے ہیں وہ بھی ہمیں چھوٹا بھائی تسلیم کرے اور ہمیں حقوق دیں ۔ڈیورنڈ لائن پر خاردار تا رلگانا ضیاء الحق کے دور میں شروع ہوا تھاجو بعدمیں حل نہیں ہوسکا ۔ افغانستا ن کے مسئلے کے حل کیلئے طالبان کو بیٹھانا ضروری ہوگا جب تک وہ نہیں بیٹھیں گے مسئلہ کا حل نہیں نکلے گا اس لئے ضروری ہے کہ اس مسئلے کا حل افہام وتفہیم سے کیا جائے ۔ پاکستان اور افغانستا ن کے درمیان زیادہ تر بدگمانی ہے پاکستان افغانستا ن پر اور افغانستان پر پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ جو وہ وعدے کرتے ہیں اسے پورانہیں کیاجاتا اگر بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسئلے کا حل نہ نکلے ۔اس سے قبل اے این پی کی جانب سے صوبے بھر سے آئے ہوئے صوبائی کونسل کے ارکان ،مرکزی قیادت ،پرنٹ میڈیا اور الیکٹرنک میڈیا کے اعزازمیں پرتکلف ظہرانہ دیا گیا ۔

اسفند یار

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...