زہریلی لسی، مزید 2ہلاکتیں، مجموعی تعداد 12، علاقہ میں خوف و ہراس

زہریلی لسی، مزید 2ہلاکتیں، مجموعی تعداد 12، علاقہ میں خوف و ہراس

ملتان، خانگڑھ دوئمہ، سیت پور، جتوئی، راجن پور (وقائع نگار، نمائندگان) تھانہ کندائی کے علاقہ موضع والوٹ کی بستی لاشاری میں مبینہ زہریلی لسی پینے والوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ تاحال جا ری ہے ،گزشتہ روز تک 10افراد امجد،نذیر احمد ،عبدالرشید ،حفیظاں مائی ،شہباز احمد ،سیف اللہ ،شہزاد ،رفیعہ(بقیہ نمبر46صفحہ12پر )

مائی ،ثمیرا بی بی اور مومل بی بی زہریلی لسی پینے سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ2 اوربچیاں11سالہ شازیہ بی بی دختر غلام شبیراور10سالہ تسلیم بی بی دختر امیرن خان زندگی موت کی کشمکش کے بعد نشتر ہسپتال ملتان میں دم توڑ گئی ہیں اس طرح مرنے والوں کی تعداد 12ہو چکی ہے جبکہ شملالاشاری ،صفیہ بی بی ،ربنواز ، سسی ،کلثوم اور نسرین بی بی نشتر ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہیں جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے ،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گھر کے سربراہ محمد اکرم لاشاری سمیت مجیب اللہ ،محمد کاشف ،جنت مائی اور پروین بی بی بھی اچانک بیمار پڑ گئے ہیں جنہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راجن پور لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر ز نے تشویشناک حالت کے پیش نظر تمام مریضوں کو نشتر ہسپتال ملتان میں ریفر کر دیا ہے ،ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہنے اور مزید افراد کے بیمار پڑنے پر علاقہ میں خوف و ہرا س پھیل گیا ہے ،چیف آف لاشاری برادری حاجی محمد اقبال سعیدی نے میڈیا کو بتایا کہ 5دنوں سے موضع والوٹ کی بستی لاشاری میں ہلاکتوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے ،حکومتی نمائندے بے حس ہو چکے ہیں ،ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کی ہدایت پر پہلے دن ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر غلام پنجتن کی سربراہی میں محکمہ صحت کی ٹیم کو بھجوایا گیا جو 4لاشوں کا پوسٹمارٹم کرنے کے بعد واپس چلی گئی اس کے بعد محکمہ صحت کا کوئی اہلکار علاقہ میں موجود نہیں اور نہ ہی 100کلومیٹر تک کوئی ہسپتال ہے ،لوگ بیمار پڑے ہیں ،ہم روزانہ کی بنیاد پر لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں ،حکومتی سطح پر متاثرہ بستی میں نہ ہی کوئی میڈیکل کیمپ لگایا گیا اور نہ ہی خون کے نمونے لینے کے لئے کوئی ٹیم بھجوا ئی گئی اور نہ ہی مریضوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے لئے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل کوئی ٹیم بھجوائی گئی ،لوگ مر رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ،میڈیا پر خبریں آنے کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب نے کوئی نوٹس نہ لیا ،اس موقع پر اہل علاقہ عبدالغفور ،سیف اللہ ،سجاد حسین ،غلام باقر ،حفیظ اللہ ، اللہ بخش و دیگر نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ بستی میں فی الفور میڈیکل کیمپ لگا کر ماہر ڈاکٹرز کی ٹیمیں بھجوائی جائیں۔ دریں اثناء واقعہ میں نشتر ہسپتال میں فوت ہونے والوں کی مجموعی تعداد 6ہوگئی ہے۔ زہریلی لسی پینے سے 18افراد نشتر ہسپتال میں لائے گئے۔ جس میں 11مریض تاحال نشتر ہسپتال میں داخل ہیں۔ ایک مریض 65سالہ اکرم مرضی سے ہسپتال سے ڈسچارج ہوگیا۔ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب 12سالہ شازیہ دختر شبیر فوت ہوگئی۔ اس واقعہ کے 9 مریض آئی سی یو میں 4مریض وارڈ نمبر 20،2مریض وارڈ نمبر 10 اور ایک مریض وارڈ نمبر 11مین داخل ہے۔ ہفتہ کے روز زہریلی لسی پینے سے متاثرہ 4مریض 65سالہ اکرم 40سالہ حسینہ، 20سالہ منصب اور 40سالہ کوڑی مائی کو نشتر ہسپتال داخل کروایا گیا۔قبل ازیں زہریلی لسی پینے سے جاں بحق ہونے والی تین بچیوں 5سالہ مومل ،6سالہ ثمیرا اور 11سالہ شازیہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جبکہ 10سالہ تسلیم بی بی کی نماز جنازہ ابھی باقی ہے ،نماز جنازہ میں سابق صوبائی پارلیمانی سیکرٹری مخدوم سید محمد قائم علی شمسی ،سابق تحصیل ناظم علی پور سردار خضر حیات خان گوپانگ ،سردار نواب خان عرف جگو خان گوپانگ ،حاجی محمد اقبال سعیدی ،سردار جہان خان لاشاری ،سردار فخر جہان خان لاشاری ،میاں ظفرحمید پتافی ،محمد اسماعیل ،بلا ل حسین ،ملک لعل نمبردار ،سید ثمر عباس شمسی ،سید مدثر عباس شمسی ،محمد کاشف گوپانگ و دیگر سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ دوسری جانب ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹرز نے ایک سوال پر کہ ان متاثرین کی حالت کیوں بگڑی ؟پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ زہریلی گولیوں کااثر ہوسکتا ہے اس میں دشمنی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کسی مخالف نے زہریلی گولیاں ہی ان کے کھانے یا دودھ میں شامل کردی ہوں بہرحال اصل صورتحال لیبارٹری کے رزلٹ سے ہی معلوم ہوسکے گی۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...