پاکستان ریلویز کی آمدن و اخراجات کے درمیان آپریٹنگ ریشو 80.77فیصد رہی

پاکستان ریلویز کی آمدن و اخراجات کے درمیان آپریٹنگ ریشو 80.77فیصد رہی

ملتان(جنرل رپورٹر) پاکستان ریلویز کی جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں آمدن اور اخراجات کے درمیان آپریٹنگ ریشو 80.77 (بقیہ نمبر52صفحہ12پر )

فیصد رہی جو مالی سال 2011۔12 کے دوران203.59 تھی، یہ بات وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کی آمدن اور اخراجات کے بارے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان ریلویز کے فنانشل ایڈوائزر اینڈ چیف اکاونٹس آفیسرڈاکٹرمحمدسعید نے بتائی۔ اجلاس میں چیئر پرسن پاکستان ریلویز مسز پروین آغا، چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد جاوید انور، ایڈوائزر انجم پرویز، ایڈیشنل جنرل منیجر ٹریفک عبدالحمید رازی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2012۔13 کے دوران آپریٹنگ ریشو 194.36، مالی سال 2013۔14 میں 174.54، 2014۔15 میں 131.56، مالی سال 2015۔16 میں 114.978 اور گذشتہ مالی برس 2016۔17 میں 124.978 فیصد رہی۔ 2016۔17 میں گذشتہ مالی برس 2015۔16 کے مقابلے میں آپریٹنگ ریشو میں اضافہ معمول سے بڑھ کے ریٹائرمنٹس، پنشنروں کو اربوں روپوں کے واجبات کی ادائیگی اور ریل گاڑیوں کی اپ گریڈیشن کی وجہ سے رہا مزید برآں موجودہ جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں نظر آنے والے نمایاں فرق کی بنیادی وجوہات میں انتظامی اخراجات میں کمی، ٹرین کے پسنجر اور فریٹ آپریشنوں میں اضافے اور مالی حالت بہترہونے کے ساتھ ساتھ عید کے موقعے پر پنشنروں کو تیس جون سے قبل پنشن کی قبل از وقت ادائیگی بھی شامل ہے جس نے موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار بہتر بنانے میں نمایاں فرق ڈالا یاد رہے کہ کسی بھی ادارے کی آپریٹنگ ریشو سے مراد اس کے ادارے کی آمدن اور اخراجات میں تعلق ہے اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کے وزیر ریلویز بننے سے پہلے 2011۔12 میں آپریٹنگ ریشو 203.59 تھی تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان ریلویز نے 2011۔12 مالی سال میں سو روپے کمانے کے لئے دو سو سے بھی زائد روپے خرچ کئے اور گذشتہ دو برسوں میں سو روپے آمدن کے لئے یہ شرح 114 اور 124 روپوں کے لگ بھگ رہی جبکہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی شروع ہونے سے پہلے پنشنروں کے علاوہ تنخواہوں کا کچھ حصہ بھی عید پر جون میں ہی ادا کر دیا گیا جس کی وجہ سے یہ شرح اسی فیصد پر آ گئی۔ وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان ریلویز کی آپریٹنگ ریشو میں مسلسل بہتری ظاہر کر رہی ہے کہ ادارہ ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی بجائے اعداد و شمار کو شششماہی اور پھر سالانہ بنیادوں پر بھی جانچا جائے گا اور ان کی بنیاد پر حتمی رائے قائم کی جائے گی۔ ممبر فنانس فیصل اسماعیلی نے اس موقعے پر موجودہ مالی سال کے اہداف اور آمدن پر بریفنگ دی۔ وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کی ذیلی کمپنیوں ریل کاپ اور ریڈیمکو کے سربراہان عامر نثار اور زبیر شفیع غوری نے بھی بریفنگز دیں اور کمپنیوں کی کامیابیوں بارے میں اعداد و شمار سے آگاہ کیا۔

مزید : عالمی منظر