موقع ملا تو نیب اور ایف بی آئی کو ٹھیک کر کے دکھاؤں گا،نواز شریف کے بعد اب شہباز شریف کے جانے کی باری :عمران خان

موقع ملا تو نیب اور ایف بی آئی کو ٹھیک کر کے دکھاؤں گا،نواز شریف کے بعد اب ...

میانوالی(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے نواز شریف تو گیا اب شہباز شریف کے جانے کی باری ہے۔ دونوں بھائیوں میں ایک مظلوم اور معصوم بن جاتا ہے مجھے کیوں نکالا اور جتنا بڑا ڈرامہ باز دوسرا بھائی ہے اس جیسا میں نے کبھی نہیں دیکھا کہتا تھا آصف زرداری کا پیٹ پھاڑ کر پیسے نکالوں گا، یہ بھی کہتا تھا اگر تین ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی تو میرا نام بدل دینا، ان کی ساری ترقی اشتہاروں میں ہوتی ہے ،شہباز شریف اور کتنی دیر اس قوم سے ڈرامے کرو گے۔نواز شریف نے300ارب چوری کر کے ملک سے باہر بھیجا،چھوٹے چور کو جیل میں اور اربوں کی چوری کرنیوالے کو پروٹوکول ملتا ہے، مریم نواز ایسے عدالت میں جاتی ہیں جیسے ان پر بڑا ظلم ہو رہا ہو۔ میرا خواب پاکستان میں چین کی طرح دس سال کے اندر دس کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے۔ملک کو عظیم بنانے کیلئے دو کام کروں گا ایک ایف بی آر اور دوسرا نیب کو ٹھیک کر کے دکھاؤں گا، نیب میں ہر سال 4000ارب روپے کی کرپشن ہے 3500ارب روپیہ ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے مگر 4000ارب روپیہ چوری ہوتا ہے 3200ارب روپیہ ایف بی آر کی نااہلی اور چوری کی وجہ سے جاتا ہے،ہماری حکومت آئی تو ٹیکس نہیں بڑھاؤں گا اس کا نظام ٹھیک کروں گا اگر یہ دو ادارے ٹھیک ہو گئے تو سب ٹھیک ہو جائے گا ،اگر ہم کرپشن اور منی لانڈرنگ پر قابو پا گئے تو ملک خوشحال ہو جائے گا۔گزشتہ روزمیانوالی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کامزید کہنا تھا 21 سالہ جدوجہد میں بہت مایوسیاں ملیں، لوگوں نے مایوس کیا، الیکشن میں بھی مایوسیاں ملیں اور کچھ اپنے قریبی ساتھیوں نے بھی مایوس کیا لیکن میانوالی کے لوگوں نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا۔ جب 2002 میں الیکشن لڑنے کیلئے انتخابی مہم شروع کی تو کوئی سیاسی آدمی میرے ساتھ آنے کیلئے تیار نہیں تھا، میرے ساتھ میانوالی کے بچے اور نوجوان باہر نکلے اور آج اللہ کے فضل سے تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ جب الیکشن مہم کیلئے لوگوں کے پاس جاتا تھا تو سب سے زیادہ پولیس اور تھا نے کی شکایات ملتی تھیں اور اسی وقت لوگوں سے وعدہ کیا تھا جب بھی موقع ملا تو سب سے پہلے پولیس کو ٹھیک کروں گا۔ آج خیبر پختونخوا میں عوام سے پولیس کے بارے میں پوچھ لیں، وہاں صرف ایک سال کے دوران جرائم میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔پنجاب پولیس کو شہباز شریف کی طرح ٹھیک نہیں کریں گے، ہم نے میرٹ پر بھرتیاں کیں اور سارے اختیارات آئی جی کو دیے۔ شہباز شریف نے سوچا پختونخوا کی پولیس بہتر ہو گئی ہے اور سب لوگ اس کی تعریف کر رہے ہیں تو انہوں نے اصلاحات کی جگہ پولیس کی وردیاں بدل دیں، حا لا نکہ وہ اچھی خاصی وردی تھی لیکن شہباز شریف نے ان کی وردیاں بدل کر انہیں ڈاکیا بنا دیا۔اللہ نے موقع دیا تو پنجاب میں پولیس کا نظام ٹھیک کروں گا،جلد ہی ساری آبادی کو ہیلتھ کارڈ دیں گے جس سے ساڑھے پانچ لاکھ تک کا مفت علاج کرایا جا سکے گا۔2002 کے الیکشن میں اگر نہ جیتتا تو آج یہاں نہ ہوتا، جب بھی میانوالی جا کر مدد مانگی کبھی مایوس نہیں لوٹا، میانوالی میں اتنی گرمی ہے اگر اللہ نے مجھے دوزخ میں بھی بھیج دیا تو اتنی گرمی نہیں لگے گی،کے پی کے میں آج تک ایک شہری نے نہیں کہا خیبرپختونخوا میں پولیس ظلم کر رہی ہے۔ دوسرا مسئلہ سکولوں کا ہے، لڑکیوں کے سکول میں ٹیچر ہی نہیں ہیں، مجھے افسوس ہوتا تھا میں نے فیصلہ کیا سرکاری سکولوں کو ٹھیک کروں گا، آج کے پی کے میں سرکاری سکولوں میں 100فیصد سکولوں میں میرٹ پر بھرتیاں کیں، این ٹی ایس بھرتیاں کرتا ہے، مجھے فخر ہے ڈیڑھ لاکھ بچہ پرا ئیو یٹ سکولوں سے سرکاری سکولوں میں گیا ہے،تیسری چیز ہسپتالوں میں مسائل تھے، آج کے پی کے کے ہسپتال ماڈل بننے جا رہے ہیں، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں باہر سے ڈاکٹر کام کرنے واپس آئے ہیں،60فیصد خاندان کو ساڑھے پانچ لاکھ کا ہیلتھ کارڈ ملتا ہے، ایسا پہلی بار ہوا ہے، جلد ہی ساری آبادی کو ہیلتھ کارڈ دیں گے ۔ چوتھی چیز پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونیوالے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔ ملک میں گرمی بڑھ رہی ہے، جنگلا ت تباہ کئے جا رہے ہیں، راجن پور میں جنگل کو ختم کر دیا گیا ہے، درخت کاٹنے والے ہمارے بچوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔کے پی کے میں ایک ارب 18کروڑ درخت لگائے ہیں جوچھانگا مانگا جتنے 40جنگل بنتے ہیں، جب تک درخت نہیں لگائیں گے تو کاشتکاری کیلئے پانی ختم ہو جائے گا، سارے پاکستان میں ہم اربوں درخت لگائیں گے، ہماری پالیسی غریب عوام کیلئے ہوتی ہے، ہم غریب کی مدد کریں گے، حکومت ان کو سبسڈی دے گی، ہم ان کوچھوٹے چھوٹے کاروبار کرائیں گے، نمل یونیورسٹی سے جو طالب علم نکلتا ہے اس کو نوکری مل جاتی ہے۔ اس وقت ساری پالیسی امیر کیلئے بن رہی ہے، امیر اپنی جائیداد باہر منتقل کر رہا ہے، آٹھ ارب ڈالر یہاں سے دبئی گیا، یہ کرپٹ اور ڈاکو لوگ بھیجتے ہیں، امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہو رہا ہے، مغرب میں 90فیصد ٹیکس امیر لوگوں سے اکٹھا کرتے ہیں پاکستان میں 90فیصد ٹیکس قیمتیں بڑھا کر حاصل کیا جاتا ہے، موبائل کارڈ پر 35فیصد ٹیکس ہم دیتے ہیں، امیر لوگ ٹیکس نہیں دیتے، ہم ٹیکس نظام کو ٹھیک کر کے دکھائیں گے، تا کہ نوجوانوں، کسانوں، بے روزگاروں کی مدد کریں، یورپ میں محنت کا پھل ملتا ہے، یہاں اینٹ توڑنے والے کے بچے بھی اینٹیں توڑتے ہیں۔ ملک کے مقروض ہونے کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے ،ورنہ پاکستان میں وسائل کی کسی طور کمی نہیں جب تک ادارے ٹھیک نہ ہوں گے اور ڈاکو اربوں کی چوری کرکے ایسے ہاتھ ہلاتے ہیں جیسے کشمیر فتح کیا ہو، تو ملک و قوم کی حالت بد سے بد تر ہورتی جائیگی ۔ وعدہ ہے بڑے مگر مچھوں کو قانون کے تابع لے کر آؤں گا۔ ایک ڈرامے باز بھائی چلا گیا ہے اور دوسرا جانے والا ہے اگلی بار موقع ملے گا تو نیب، ایف بی آر اور پولیس کو ٹھیک کر کے دکھائیں گے نوجوانوں پر پیسہ خرچ کریں گے اور وہ پاکستان بنائیں گے جس کا خواب اقبال ؒ نے دیکھا اور قائد اعظمؒ نے اسے جدوجہد کر کے شرمندہ تعبیر کیا۔ مہنگائی کر کے عوام سے 3500ارب روپیہ ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے ورلڈ بینک کے مطابق صرف ایف بی آر میں جو چوری ہوتی ہے اس سے ملک کو 3200ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے ، یورپ میں 90فیصد ٹیکس پیسے والے لوگوں سے جمع کیا جاتا ہے پاکستان میں اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر ٹیکس جمع کیا جاتا ہے ،پٹرول پر 35فیصد ٹیکس سب کو دینا پڑتا ہے،نوجوانوں پر پیسہ خرچ کیا تو ایسا ملک بنے گا جس کا خواب اقبالؒ نے دیکھا اور قائداعظم ؒ نے جدوجہد کی۔

عمران خان

 

مزید : کراچی صفحہ اول