فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 256

ثنا اللہ گنڈا پور ابتدا میں ڈبلیو زیڈ احمد صاحب کے اسسٹنٹ تھے اور وہیں ہماری ان سے یاد اللہ اور پھر دوستی ہوئی تھی۔ وہ بھی خالص پٹھان ہیں۔ اونچے‘ گورے چِٹّے‘ بے تکلف اور پٹھانوں کی طرح مخلص مگر انتہا سے زیادہ حسّاس‘ مکھّی وہ بھی اپنی ناک پر نہیں بیٹھنے دیتے اور اس معاملے میں اپنے خُسر (اب وہ مرحوم ہو چکے ہیں) کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ ثنا اللہ خاں نے فلموں کی ہدایت کاری بھی کی اور پھر نیف ڈیک کا ادارہ وجود میں آیا تو اس سے وابستہ ہو گئے۔ وہ لاہور آفس کے انچارج تھے اور اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ہماری چھوٹی بیٹی پارو بچپن ہی سے ثنا اللہ خاں گنڈا پور سے متعارف رہی مگر وہ ان کا نام اور شناخت یاد نہیں رکھ سکتی۔ اگر ان کا فون آئے یا کہیں ملاقات ہو تو پارو ہمیں اس طرح اطلاع دیتی ہے ’’پاپا! وہ آپ کے دوست کا فون آیا تھا۔‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 255 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
’’کون سے دوست؟‘‘
’’وہی جو گورے اور لمبے ہیں۔ باتیں بہت کرتے ہیں۔‘‘
’’یہ کیا پہچان ہوئی‘ نام بتاؤ نا۔‘‘
’’ان کا نام ہمیں یاد نہیں رہتا۔ وہی گنڈاسے والے۔‘‘
اور ہم سمجھ جاتے ہیں کہ یہ ثنا اللہ گنڈا پور کا تذکرہ ہے۔
ان سے پہلے خُسر کا ذکر سن لیجئے۔
اختر نواز صاحب کے بارے میں جب ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ابتدائی زمانے کی بولتی فلموں کے ہیرو تھے تو ہم بہت مرعوب ہوئے۔ اب ذرا ان کے ٹھاٹ باٹ کا اندازہ لگایئے۔ 1931ء میں (یعنی ہماری پیدائش سے بھی پہلے) لاہور کے ایک فلم ساز حکیم رام پرشاد نے لاہور میں دو بولتی فلموں کا آغاز کیا تھا۔ ایک فلم کیلئے اختر نواز صاحب کو ہیرو کا کردار کرنے کیلئے بطور خاص بمبئی سے بلایا گیا۔ بولتی فلمیں اس زمانے میں عجوبہ ہی تھیں۔ بلکہ اس زمانے میں تو متحرک فلمیں ہی عجوبہ سمجھی جاتی تھیں۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ سامنے پردے پہ انسانوں کی تصویریں ناچ رہی ہیں‘ گا رہی ہیں۔ اس کے بعد جب بولتی فلموں کا زمانہ آیا تو دیکھنے والوں کے ہوش ہی اڑ گئے۔
لاہور میں حکیم رام پرشاد نے دو فلموں کا آغاز کیا تھا۔ ایک کا نام ’’ہیر رانجھا‘‘ تھا اور اس کے ہدایت کار اے آر کاردار تھے۔ کاردار صاحب کا تذکرہ اس سے پہلے بھی آ چکا ہے۔ حکیم رام پرشاد کی دوسری فلم کا نام ’’گوپی چند‘‘ تھا۔ اس فلم میں ہیرو کا کردار اختر نواز کو سونپا گیا تھا اور انہیں بطور خاص کام کرنے کیلئے بڑے اہتمام سے بمبئی سے بلایا گیا تھا کیونکہ وہ ایک بڑے اداکار تھے۔ گوپی چند میں اختر نواز صاحب کے ساتھ نرگس کی والدہ جدن بائی ہیروئن تھیں۔ اس سے آپ اختر نواز صاحب کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس فلم میں اس زمانے کے ایک اور مقبول اداکار ڈاکٹر سونی بھی کام کر رہے تھے۔
اختر نواز بمبئی سے لاہور پہنچے تو ہر ایک کی نگاہ میں آ گئے۔ ان کی چَھب ہی نرالی تھی۔ اس زمانے میں وہ کالی پتلون کے ساتھ سفید قمیض پہنتے تھے اور کالی بو لگاتے تھے جس کی وجہ سے دور ہی سے منفرد نظر آتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لاہور میں گنتی کی موٹر کاریں تھیں۔
پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ اختر نواز کے پاس ایک ٹو سیٹر اوپن چھت کی گاڑی تھی۔ جب وہ اس کھلی گاڑی میں سوار ہو کر مال روڈ سے گزرتے تو راستہ چلتے لوگ مڑ مڑ کر انہیں دیکھنے لگتے۔ کچھ ایسا ہی منظر 1952-53ء میں ہم نے اسلم پرویز کا بھی دیکھا تھا۔ وہ اپنی سرخ رنگ کی سپورٹس کار میں مال روڈ سے گزرتے تھے تو ہر نگاہ ان پر مرکوز ہو جاتی تھی۔
فلم’’گوپی چند ‘‘کے زمانے کا ذکر ہے کہ اختر نواز صاحب تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے مال روڈ پر جا رہے تھے کہ جی پی او کے نزدیک ایک شخص ان کی کار کے نیچے آ گیا حالانکہ ان دنوں مال روڈ پر ٹریفک بھی خال خال ہی تھی۔ مگر ہونی ہو کر رہی۔ اختر نواز اس حادثے سے گھبرا گئے۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ زخمی کی حالت کیسی ہے۔ اتنا جانتے تھے کہ انگریزوں کی حکومت ہے جو سختی سے قانون پر عمل درآمد کراتی ہے۔ وہ اتنے گھبرائے کہ گرفتاری سے بچنے کے لئے فلم ادھوری چھوڑ کر اسی دن کلکتہ روانہ ہو گئے۔ دستور کے مطابق انہیں وہاں بھی کسی سٹوڈیو سے وابستہ ہونا تھا چنانچہ بالی ووڈ سٹوڈیو میں ملازم ہو گئے۔ سیٹھ رام کرنانی اس ادارے کے مالک تھے۔ وہ سیاہ رنگ کے مریل سے گجراتی سیٹھ تھے مگر دولت مند اتنے کہ جھوٹ بھی بولتے تو سچ لگتا تھا۔ وہ اس وقت کے کروڑ پتی تھی اور ’’فلمی کنگ‘‘ کہے جاتے تھے۔ کجّن بائی پر فریفتہ تھے مگر وہ انہیں جُل دے کر نکل جاتی تھی۔
کلکتہ کے ویکلی ’’چونچ‘‘ کے ایڈیٹر عنایت دہلوی بہت بااثر آدمی تھے۔ فلمی دنیا میں ان کا سکہ چلتا تھا ان ہی دنوں وہ ایک نازک سی حسین و جمیل لڑکی کو لے کر سیٹھ کرنانی کے پاس گئے اور اسے فلموں میں کاسٹ کرنے کی سفارش کی۔ سیٹھ کرنانی کجن بائی پر مہربان تھے‘ وہ ا ن کی ملازم تھیں اور عموماً وہی ان کی فلموں میں ہیروئن ہوا کرتی تھیں مگر عنایت دہلوی کی سفارش بھی بہت بھاری بھرکم تھی اور ٹالی نہ جا سکتی تھی اس لئے اس نوخیز حسینہ کو بھی سٹوڈیو میں ملازم رکھ لیا گیا۔ یہ لڑکی نسیم بانو تھی۔ مستقبل کی پری چہرہ فلمی ہیروئن اور دلیپ کمار کی بیگم سائرہ بانو کی والدہ۔ سب کا خیال تھا کہ یہ لڑکی اپنے حُسن کے بل بوتے پر بہت ترقی کرے گی۔
بالی ووڈ سٹوڈیو کی آئندہ فلم کا نام ’’اﷲ کی تلوار‘‘ تھا۔ اس فلم میں نسیم بانو کو اختر نواز کے ساتھ ہیروئن کے طور پر کاسٹ کیا گیا۔ فلم کی شوٹنگ شروع ہوئی تو افواہیں بھی پھیلنے لگیں جو کہ شوبزنس کی زندگی کا ہمیشہ ایک لازمی حصہ رہی ہیں۔ سیٹھ کرنانی بذات خود تو کجن بائی سے عشق کرتے تھے اور اس کا شہرہ عام تھا مگر اپنے عملے کے معاملے میں بہت سخت گیر اور اصول پرست تھے۔ انہیں شکایت ملی کہ ان کی فلم کے ہیرو اختر نواز اور ہیروئن نسیم بانو ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اختر نواز اس قسم کے آدمی نہیں تھے مگر سیٹھ کرنانی کو فکر پڑ گئی۔ انہوں نے ایک دن اختر نواز صاحب کو اپنے دفتر بلایا اور باز پُرس کی۔ بجائے اس کے کہ وہ صفائی پیش کرتے اختر نواز ناراض ہو گئے اور کہا ’’سیٹھ آپ نے میری توہین کی ہے‘ میں آپ کی فلم میں کام نہیں کروں گا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ سٹوڈیو سے رخصت ہو گئے۔ جب یہ خبر نسیم بانو کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے بھی احتجاجاً اس فلم میں کام کرنے سے انکار کر دیا اور نوکری کو لات مار کر بمبئی کا رخ کیا۔
سیٹھ کرنانی یہ گستاخی کیسے برداشت کر سکتے تھے۔ بارسوخ آدمی تھے۔ انہوں نے کلکتہ کے تمام فلم سٹوڈیوز کے دروازے اختر نواز پر بند کرا دئیے اور یہ پیغام بھیجا کہ اگر تم معذرت کر کے واپس نہیں آؤ گے تو میں تمہیں کسی فلم میں کام نہیں کرنے دوں گا۔
اختر نواز کا پٹھانی خون جوش میں آ گیا۔ انہوں نے جواب کہلوایا۔ ’’سیٹھ میں دودھ بیچ لوں گا مگر تمہاری نوکری نہیں کروں گا۔‘‘
اختر نواز نے اپنا یہ قول سچا کر دکھایا۔ انہوں نے ایک بھینس خریدی اور اس کا دودھ بیچنا شروع کر دیا۔ طریقہ یہ تھا کہ وہ صبح صبح اٹھ کر نیکر اور بنیان پہن کر خود ہی بھینس کا دودھ دوہتے اور خود ہی فروخت کرنے بیٹھ جاتے۔ کلکتہ میں تو اودھم مچ گیا۔ وہ ہیرو کے طور پر بہت اچھی طرح جانے جاتے تھے۔ جس نے بھی سنا کہ اختر نواز نے دودھ بیچنا شروع کر دیا ہے وہ حیران رہ گیا۔ اخبار والوں نے بھی حاشیہ آرائی کی۔ ویسے بھی جنگ کا زمانہ تھا۔ ہر چیز کی مانگ تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اختر نواز صاحب کا دھندہ چل نکلا۔ حوصلہ افزائی ہوئی تو انہوں نے چالیس بھینسیں خرید کر ملٹری کو دودھ سپلائی کرنا شروع کر دیا اور اچھا خاصا منافع کمایا۔ کوئی اور شخص ہوتا تو موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے کاروبار کو مزید فروغ دیتا مگر یہ اختر نواز تھے۔ دودھ فروشی ان کے مزاج کو راس نہیں آ رہی تھی۔
ایک روز بل وصول کرنے کے لئے فوجی دفتر میں گئے تو وہاں ایک انگریز افسر آیا ہوا تھا۔ اختر نواز خود بھی دیکھنے میں انگریز ہی لگتے تھے۔ اس پر انگریزی بھی بہت اچھی بولتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ 1920ء میں انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور انگریزی میں دسترس تھی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فلمی صنعت کے ابتدائی دور میں فلموں سے وابستہ لوگ کتنے اعلٰی تعلیم یافتہ ہوتے تھے۔ اس زمانے میں تو گھر میں یا مدرسے میں گلستان بوستان پڑھنا ہی کافی سمجھا جاتاتھا۔ کوئی مڈل تک پڑھ لے تو تعلیم یافتہ کہلاتا تھا اور میٹرک پاس کرنا تو بہت بڑا کارنامہ خیال کیا جاتا تھا مگر اس زمانے میں بھی گریجوایٹ اس صنعت سے وابستہ تھے۔ ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔
انگریز افسر نے اختر نواز کو دیکھا تو پہلے انہیں بھی انگریز ہی سمجھا۔ بول چال سے پتا چلا کہ انگریزی میں بھی خوب رواں ہیں۔ وہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا۔ بات چیت کے دوران میں پوچھا کہ بھائی اتنے معقول اور تعلیم یافتہ ہو کر دودھ کیوں بیچ رہے ہو؟
اختر نواز نے اپنی داستان کہہ سنائی۔
انگریز اتنا متاثر ہوا کہ انہیں کلکتہ کے سب سے بڑے اور بہترین سینما ’’میٹرو‘‘ کا جنرل مینجر بنا دیا۔ یہ سینما وہ تھا جس میں صوبے کے وزیراعلٰی سے لے کر گورنر اور چیف سیکرٹری اور ان کے اہل خانہ بھی آیا کرتے تھے۔ یہ نوکری کیا تھی بادشاہت تھی‘ ہر بڑے آدمی سے واقفیت اور تعلقات۔ ہر ایک سے شناسائی‘ کلکتہ کا کون سا قابل ذکر شخص تھا جس سے اختر نواز کی ملاقات اور دوستی نہ تھی۔ ان کا اخلاق اور طرز گفتگو بھی متاثر کن تھا۔ جو ایک بار ملتا تھا وہ ان کا گروید ہو جاتا تھا۔ اس پر ان کی پٹھان بیک گراؤنڈ بھی ایک اثاثہ تھی۔ غیوّر پٹھانوں کو سبھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے یہاں تک کہ انگریز بھی دل سے ان کی عزت کرتے تھے۔
اختر نواز صاحب کے شب و روز بڑے ٹھاٹ سے گزر رہے تھے۔ مسلم لیگ کی تحریک کا آغاز ہوا تو انہوں نے بھی بساط بھر اس تحریک میں حصہ لیا۔ وہ کلکتہ میں قیام پذیر ضرور تھے مگر ان کا سارا خاندان پشاور میں تھا۔ ملازمت کے دوران میں گھر والوں و رشتے داروں سے ملنے کے لئے پشاور جاتے رہتے تھے۔
پاکستان کا قیام عمل میں آیا‘ تو اختر نواز کی رگ پٹھانی و مسلمانی ومسلم لیگی پھڑک اٹھی۔ انہوں نے فوراً پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس زمانے میں کلکتہ سے لاہور یا کراچی پہنچنا آسان نہ تھا۔ ٹکٹ ہی نہیں ملتے تھے۔ ٹرینوں میں لوگ سامان کی بوریوں کے مانند بھر کر سفر کرتے تھے اور جان و مال کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ مگر اختر نواز فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں نے بطور خاص ایک ہوائی جہاز چارٹر کیا اور کلکتہ سے لاہور پہنچ گئے۔ ان کے ٹھاٹ باٹ اور شاہانہ مزاج کا صرف اسی ایک واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اختر نواز صاحب کلکتہ سے لاہور پہنچے تو یہاں افراتفری کا عالم تھا۔ مہاجرین کے تباہ حال قافلے سر چھپانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے۔ فلمی صنعت کا تو نام و نشان تک باقی نہیں رہا تھا اور کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ پاکستان میں فلم سازی کا سلسلہ کب اور کیسے شروع ہو گا؟ مگر اختر نواز صاحب کو اﷲ نے بہت باعزت اور معقول روزگار فراہم کرنے کا بندوبست کر دیا۔ ہوا یہ کہ امجد حسین صاحب بھی کلکتہ سے لاہور آ گئے۔ یہ وہاں نیو تھیٹرز جیسے ادارے کے ڈائریکٹر اور پارٹنر تھے۔ ان کی کلکتہ ہی سے اختر نواز صاحب کے ساتھ دوستی تھی۔ لاہور میں وہ نشاط سیمنا کے مالک تھے۔ انہوں نے اختر نواز صاحب کو اس سیمنا کا جنرل مینجر مقرر کر دیا۔ اختر نواز صاحب نے نشاط سنیما کا نظم و نسق ایسے سنبھالا کہ فلم بینوں کو تربیت دینے اور تہذیب سکھانے کے لئے ہاتھ میں ڈنڈا سنبھال کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ جب تک قطار سیدھی نہ بن جاتی‘ بکنگ کی کھڑکی سے ٹکٹوں کی فروخت شروع نہیں ہو سکتی تھی۔ اس ’’زبردستی‘‘ کی وجہ سے نشاط سنیما میں جانے والے لوگ قطار بنانے لگے اور نظم و نسق کے عادی ہو گئے۔
کچھ عرصے بعد کراچی میں صدر کے خوب صورت علاقے میں ریکس سینما تعمیر ہوا تو اختر نواز صاحب کو اس حسین ترین سینما کا جنرل مینجر مقرر کیا گیا۔ وہ اس سینما میں سیاہ و سفید کے مالک تھے اور بہت خوبی سے کاروبار چلا رہے تھے۔ اسی زمانے میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کی وجہ سے اختر نواز صاحب نے اس ملازمت پر لات مار دی اور لاہور چلے آئے۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 257 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...