’’تلسی کو دھات میں ملایا تو وہ سونا بن گئی ‘‘سونا بنانے کی تلاش میں نکلنے والے کو یہ نسخہ ایک ایسے بزرگ نے دیا تھاجو آج بھی۔۔۔

’’تلسی کو دھات میں ملایا تو وہ سونا بن گئی ‘‘سونا بنانے کی تلاش میں نکلنے ...

اللہ اپنے جس بندے کو اپنا ولی بنالیتا ہے اسکے ہاتھ میں دست قدرت و رضا شامل کردیتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ایسے بزرگوں سے کرامات کا ظہور ہوتا ہے جو اللہ کی کھلی نشانیوں کا اظہار ہوتا ہے تاکہ خلق خدا دیکھ لے کہ اگر اللہ اپنے بندوں کے ذریعہ سے یہ ان ہونی دکھلا سکتا ہے تو اللہ کی اپنی ہستی کس قدر قادر و مطلق ہے ۔یہ کرامت بھی اللہ کے ایک ایسے ولی کامل کی ہے جن کے پیروکار آج بھی دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور دلوں کا میل دھوکر کوئلہ بنے انسانوں کے دلوں کو سونے جیسا بناتے ہیں تاہم حقیقت میں وہ بزرگ سونا بنانے کی قدرت رکھتے تھے ۔سلسلہ عظیمیہ کے بانی حضرت قلندربابا اولیا ء کے نانا حضرت بابا تاج الدین ناگپوری ؒ صاحب کشف وکرامات ہستی تھی۔ ان کی سوانح حیات میں یہ واقعہ درج ہے کہ آپؒ نے ایک مرید کوایک بوٹی دی تو اس سے سونا بنا کر اسکو بازار میں بیچ دیا گیا تھا ۔واقعہ یوں معروف ہے’’عبدالرزاق صاحب کا بیان ہے کہ میرے ماموں کو سونا گری کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ انہوں نے اس کام پر سینکڑوں روپے برباد کر دیئے تھے۔ ایک دفعہ کسی صاحبِ کمال سے ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا کہ دو سو برس پرانے مکانوں کی دیواروں پر ایک خودرو بوٹی اْگ آتی ہے۔

ناگہانی آفت سے محفوظ رکھنے والا وہ روحانی وظیفہ جو انسان کی تیسری آنکھ کھول دیتا ہے

اس بوٹی کی پہچان یہ ہے کہ اس سے شنجرف کا کشتہ باوزن ہوجاتا ہے جو کہ تانبے کو رنگتا ہے۔ ماموں صاحب اپنے گاؤں سے ناگپور آئے اور ایک پرانے اوربوسیدہ مکان سے مطلوبہ بوٹی کو حاصل کرلیا۔ بوٹی حاصل کرنے کے بعد سوچاکہ پہلے بابا تاج الدینؒ کے پاس حاضری دینی چاہئے۔ اور ان کی دعا کے بعد بھٹی لگانی چاہئے تاکہ کامیابی نصیب ہو۔ وہ باباصاحبؒ کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا کہ بابا صاحبؒ تانگے پر سوار جا رہے ہیں۔ باباصاحبؒ کے گلے میں پھولوں کا ایک گجرا تھا۔ اس میں تلسی کے پتے بھی لگے ہوئے تھے۔ باباصاحبؒ نے اس گجرے میں سے تلسی کا ایک پتہ نکال کر ماموں صاحب کو دے دیا۔ انہوں نے برکت کے لئے بوٹی کے مصالحے میں تلسی کا پتہ بھی شامل کر دیا۔ اس مصالحے کو آزمایا تو شنجرف کا کشتہ ہم وزن تیار ہوگیا۔ اس یقینی آزمائش کے بعد اس بوٹی اورتلسی کے پتے کے سفوف کو تانبے پر استعمال کیا تو سونا تیار ہوگیا۔جسے بازار میں فروخت کر دیا۔ اس کے بعد ماموں صاحب نے ہرممکن کوشش کر لی لیکن بوٹی سے سونا تیار نہیں ہوا جس سے پہلے تیار ہوگیا تھااور نہ پھر کبھی باباصاحبؒ نے انہیں اپنے ہاتھ سے تلسی وغیرہ کا پتہ دیا‘‘

مزید : روشن کرنیں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...