تاریخی ٹی ٹوئنٹی میچ شاہینوں کے نام ، سری لنکا نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے

لاہور(افضل افتخار)پاکستان نے سری لنکاکوتیسرے ٹی ٹونٹی میچ میں36رنزسے شکست دے کرتین میچوں کی سیریز3-0سے جیت لی اور لنکن ٹیم کو وائٹ واش کر دیا ، شیعب ملک میچ اور سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے  ،شاہینوں کی عمدہ پرفارمنس کی وجہ سے آئی سی سی کی رینکنگ میں بہتری آگئی، 
پاکستان اورسری لنکاکی کرکٹ ٹیموں کے مابین تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریزکاتیسراورآخری میچ قذافی سٹیڈیم لاہورمیں کھیلاگیا،سری لنکا کے کپتان تھسارا پریرا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی ۔پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ20اووروں میں9کی اوسط سے180رنزبنائے اوراسکے3کھلاڑی آؤٹ ہوئے ۔181رنزکے ہدف کے حصول کے لئے بعدمیں بیٹنگ کرتے ہوئے سری لنکانے مقررہ20اووروں میں9وکٹوں کے نقصان پر144رنزبنائے۔سری لنکاکی جانب سے اننگزکاآغازدنوشکا گوناتھلاکا اور دلشان مناویرا نے کیا تاہم دونوں اوپنرز خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے، دوسرے ہی اوورمیں 10کے مجموعی سکور پر دلشان مناویرا عامرکی گیندپربولڈدوسری وکٹ15رنزپرگری جب سدیرا سماراوکراما بھی 4رنزبناکرعمادوسیم کی گیندپربابراعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے تیسری وکٹ 21رنزپرگری جب دنوشکا گوناتھلاکا9رنزبناکر محمد حفیظ کی گیندپر کیچ آوٹ ہوگئے۔چوتھی وکٹ57رنزپرگری جب مہیلا اڈواتے 11رنزبناکرفہیم اشرف کی گیندپربابراعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔پانچویں وکٹ 96رنزپرگری جب دوسان شناکا36گیندوں پر3چھکوں اور5چوکوں کی مددسے54رنزبناکرفہیم اشرف کی گیندپرعمادوسیم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔چھٹی وکٹ106رنزپرگری جب چتورنگا ڈی سلوا21رنزبناکرمحمدعامرکی گیندپربولڈہوگئے۔ساتویں وکٹ114رنزپرگری جب کپتان تھسارا پریرا10رنزبناکرحسن علی کی گیندپرشاداب خان کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔آٹھویں وکٹ 142 رنز پرگری جب ایس ایس پتھیرانا14رنزبناکرمحمدعامرکی گیندپرمحمدحفیظ کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔نویں وکٹ 143رنزپرگرجب ایس پرسانا 16 رنز بناکرمحمدعامرکی گیندپرسرفرازاحمدکے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔پاکستان کی جانب سے محمدعامرنے4 اور فہیم اشرف نے2، عمادوسیم،محمدحفیظ اورحسن علی نے ایک ایک کھلاڑی کوآؤٹ کیا۔

اس سے قبل سری لنکانے ٹاس جیت کرپاکستان کوپہلے کھیلنے کی دعوت دی ۔ پاکستان کی جانب سے فخر زمان اورعمرامین نے اوپنگ کی جبکہ سری لنکاکی جانب سے پہلااوور ویکم سنجایانے کروایا۔پہلے اوورمیں پاکستانی اوپنرزنے8رنزبنائے۔پانچ اوورز کے اختتام کے بعد پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 37 رنز بنائے۔پاکستان نے اپنی اننگزکے پچاس رنز6.3اووروں میں بغیرکسی نقصان کے مکمل کئے۔پاکستان کی پہلی وکٹ 57رنزپرگری جب فخرزمان 31رنزبناکردلشان مناویرا کی گیندپربولڈہوگئے انکے بعدبابراعظم بیٹنگ کے لئے آئے۔پاکستان کی دوسری وکٹ 91 کے مجموعی سکور پرگری جب عمر امین 45 رنز بنا کر ادانا کی گیند پر آوٹ ہو گئے۔تیسرے آوٹ ہونے والے بیٹس مین شعیب ملک تھے جنھوں نے دھواں دار بیٹنگ کرتے ہوئے 24 گیندوں پر 51 رنز بنائے۔آخری پانچ اوورز میں پاکستان نے 72 رنز بنائے۔ شعیب ملک کی نصف سنچری کے علاوہ عمر امین نے 45، فخر زمان نے 31 اور بابر اعظم نے ناٹ آوٹ رہتے ہوئے 34 رنز بنائے۔ فہیم اشرف نے آخری تین گیندوں پر 2 چھکوں کی مدد سے 13 رنز بنائے۔سری لنکاکی جانب سے مومناویرا، اڈانا اور سنجایانے ایک ایک کھلاڑی کوآؤٹ کیا۔یاد رہے کہ مارچ 2009ء میں قذافی سٹیڈیم کے باہر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سری لنکن ٹیم پاکستان میں کوئی میچ کھیلی۔پاکستان پہلے ہی ٹی 20 کی سیریز اپنے نام کر چکا ہے، ابو ظہبی میں ہونے والے پہلے دونوں میچوں میں  پاکستان نے کامیابی حاصل کی تھی۔ٹی ٹوئنٹی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے سات وکٹوں سے واضح کامیابی حاصل کی تھی جبکہ دوسرا میچ سنسنی خیز رہا اور آخری اوور میں شاداب خان کی زبردست بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے جیت حاصل کی تھی۔پاکستان میں ہونے والے میچ سے قبل متحدہ عرب امارات میں ان دونوں ممالک کے درمیان جاری سیریز کا یہ آخری میچ تھا جس میں ون ڈے سیریز کی طرح پاکستان نے سری لنکا کو  ٹی ٹوئنٹی میں بھی وائٹ واش کیا ۔اس سے قبل ٹیسٹ میچوں میں سری لنکا نے 2  صفر سے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ایک روزہ میچوں میں پاکستان نے سری لنکا کو 5  صفر سے شکست فاش دی تھی۔شیعب ملک کو میچ اور سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ۔

واضح رہے کہ آٹھ سال قبل سری لنکا کی ٹیم پاکستان میں سیریز کھیل رہی تھی جب لاہور میں جاری ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز میدان جاتے ہوئے سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، گو کہ ملک دشمنوں کے اس افسوسناک حملے  میں کوئی کھلاڑی ہلاک نہیں ہوا تھا لیکن سری لنکا کے ایک کھلاڑی کو ٹانگ میں گولی لگی تھی جبکہ کچھ اور کھلاڑی زخمی بھی ہوئے تھے۔اس واقعے کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے انعقاد میں تعطل آ گیا تھا لیکن پہلے 2015 ء میں زمبابوے  اور اس کے بعد کینیا کی ٹیموں نے پاکستان کے مختصر دورے کئے۔اس کے بعد مارچ 2017 میں پہلے پاکستان سپر لیگ ٹورنامنٹ کا فائنل پاکستان میں منعقد ہوا جس میں چند غیر ملکی کلاڑی شامل تھے اور کچھ امید بنی کہ شاید بین الاقوامی کرکٹ کی پاکستان میں واپسی کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے،جس کے بعد ستمبر میں ورلڈ الیون نے پاکستان کا تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کے لیے دورہ کیا ،ورلڈ الیون کی قیادت جنوبی افریقہ کے فاف ڈو پلیسی نے کی اور اس ٹیم میں موجودہ سری لنکن ٹیم کے کپتان تھسارا پریرا بھی شامل تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ اس میچ کے بعد دیگر ممالک کے ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی جبکہ شائقین کرکٹ بھی سری لنکا کی ایک بار پھر پاکستان آمد پر انتہائی مسرور دکھائی دیئے اور یہ تاریخی میچ دیکھنے کے لئے 23ہزار سے زائد شہریوں نے میدان میں بیٹھ کر میچ دیکھا اور مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں کو فراخ دلی کے ساتھ داد دی ۔

مزید : کھیل /اہم خبریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...