بھاگ کر داعش میں شامل ہونے والے برطانوی نوجوان کا ایک عرصے بعد اپنے والدین کے نام اچانک انٹرنیٹ پر پیغام، کہاں اور کس حال میں ہے؟ ایسی بات کہہ دی کہ والدین کے لئے ایک دن جینا بھی دوبھر ہوگیا

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ سے فرار ہو کر شام پہنچنے اور داعش میں شامل ہونے والے ایک برطانوی نوجوان کا گزشتہ دنوں ایک عرصے بعد اپنے والدین کو انٹرنیٹ پر پیغام ملا۔ اس پیغام میں اس نے اپنی ایسی حالت بیان کر دی کہ والدین کے لیے ایک دن جینا بھی محال ہو گیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برطانوی شہر آکسفورڈ کے 21سالہ جیک لیٹس نامی اس نوجوان نے اپنے والدین کو بھیجے گئے پیغام میں لکھا ہے کہ وہ عراق کے علاقے کردستان میں کرد جنگجوﺅں کی قید میں ہے جہاں اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کرد جنگجوﺅں نے اسے داعش کا کارندہ ہونے کی وجہ سے قید کر رکھا ہے۔

داعش کے دو کارکن گرفتار، ان کا ایک ائیرہوسٹس سے کیا تعلق نکل آیا؟ جان کر ہر شخص پریشان ہوجائے
رپورٹ کے مطابق جیک نے بتایا ہے کہ وہ کچھ عرصہ قبل داعش کو چھوڑ کر برطانیہ واپس جانے کے لیے فرار ہوا لیکن کردجنگجوﺅں کے ہتھے چڑھ گیا۔ پہلے انہوں نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور کہا کہ اسے برطانوی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا لیکن پھر اسے جیل میں ڈال دیا اور تشدد شروع کر دیا۔ اس نے لکھا ہے کہ جیل میں اسے انتہائی کم کھانا دیا جاتا ہے اور روزانہ ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جیک نے 16سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا تھا اور 2014ءمیں عربی زبان سیکھنے کے لیے کویت چلا گیا، لیکن وہاں سے اس نے سرحد عبور کی اور شام جا کر داعش میں شامل ہو گیا۔

مزید : برطانیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...