ٹکراؤ کی پالیسی سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا ، قبل اَز وقت انتخابات جمہوری تسلسل کے مفاد میں نہیں:آفتاب احمد خان شیرپاؤ

ٹکراؤ کی پالیسی سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا ، قبل اَز وقت انتخابات جمہوری ...
 ٹکراؤ کی پالیسی سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا ، قبل اَز وقت انتخابات جمہوری تسلسل کے مفاد میں نہیں:آفتاب احمد خان شیرپاؤ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وفاقی وزیر داخلہ اور  قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ تصادم کی کسی بھی پالیسی کوہر گز فروغ نہ دیتے ہوئے تمام ادارہ جات ملک کے استحکام ،بقا اور ترقی کیلئے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کرمثبت کردار ادا کریں تاکہ ملک میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مزید فروغ مل سکے،  ٹکراؤ کی پالیسی کسی کے مفاد میں نہیں،  قبل از وقت انتخابات جمہوری تسلسل کے مفاد میں نہیں ، موجودہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے اور آنے والے انتخابات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہونے چاہئیں ۔

یہ بھی پڑھیں :سوات کو ڈویژن بنانے کا مطالبہ ،آج تک پاکستان پر اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں نے حکومت کی ، انتخاب سے پہلے اس ملک میں احتساب ضروری ہے:سینیٹر سراج الحق

 رنگ روڈ پشاور میں پارٹی کے پانچویں یوم تاسیس کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے  انھوں نے علاقائی مسائل کے حل کیلئے عندیہ دیا کہ ملک میں امن امان کی بحالی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے، پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں پختون آباد ہیں او ر خطے میں بدامنی کی صورت میں دونوں جانب کے عوام اور بالخصوص آباد پختون بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں ، پاکستان اور افغانستان آپس کی تلخیاں بلا کر دونوں جانب جاری دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائے ۔انہوں نے کہا کہ  افغان صدر کو پاکستان آمد کی دعوت ایک مثبت عمل ہے اور اس سے دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات کی بہتری میں مدد ملے گی۔انھوں نے امریکہ کی پاکستان اور افغانستان سے متعلق نئی پالیسی کو مسترد  کرتے ہوئے کہا کہ اس منفی ردعمل سے دونوں ممالک اور خاص طور پر خطے کے طاقت توازن متاثر ہوگا،  پاکستان اور افغانستان کی ترقی تب تک ممکن نہیں جب تک دونوں ممالک میں جاری بد امنی کا خاتمہ نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کے سوا کوئی حل قابل قبول نہیں ، فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ملک کیلئے بے تخاشہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں اور فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام سے پختون قوم ایک قوت بن کر ابھرے گی۔آفتاب شیرپاؤنے کہا کہ حالیہ مردم شماری کے رپورٹ میں خیبر پختونخوا اور فاٹا کے اعداد و شمار کو صحیح پیش نہیں کیا گیاجوکہ سراسر ناانصافی ہے اور اس سے یہاں کے عوام کی مایوسیوں میں مزید اضافہ ہوا،  قومی وطن پارٹی نے شروع دن سے مردم شماری کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے خیبر پختونخوا کیلئے گنتی مشین اسلام آبادمیں رکھنے کے عمل پر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کیا تھا،  پشاور میں گنتی مشینیں نہ رکھنا حیران کن بات تھی۔پختونوں کی آبادی کو کم ظاہر کرنا ان کے ساتھ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ اس عمل سے وہ قومی وسائل اور دیگر مراعات سے بھی محروم ہوں گے۔ آفتاب احمد خان شیرپاونٔے  موجودہ صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے  کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ہر محاز پر ناکام ہوچکی ہے اورانکی قیادت نے خود اپنی نااہلی تسلیم کی ہے جس کیلئے وہ عوام کے جواب دہ ہیں ۔ سیاست اور حکمت عملی کی سمجھ نہ رکھنے والے حکمران صوبے عوام کے مجرم ہیں ، صوبائی حکومت نے نہ صرف صوبے کے عوام کو محرومیوں مبتلا کیا بلکہ یہاں کے غیور پختونوں کے روایات کوپامال کیا۔

مزید : پشاور