’میری یونیورسٹی کی انتظامیہ کو میرا یہ راز پتہ چلا تو انہوں نے۔۔۔‘ پہلی پاکستانی ہم جنس پرست لڑکی جو کھل کر بول پڑی

’میری یونیورسٹی کی انتظامیہ کو میرا یہ راز پتہ چلا تو انہوں نے۔۔۔‘ پہلی ...
’میری یونیورسٹی کی انتظامیہ کو میرا یہ راز پتہ چلا تو انہوں نے۔۔۔‘ پہلی پاکستانی ہم جنس پرست لڑکی جو کھل کر بول پڑی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ہم جنس پرستی مغربی دنیا میں تو قانونی قرار پا چکی ہے لیکن پاکستان میں تاحال یہ شجرممنوعہ ہے اور ہم جنس پرستوں کو سماج میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی کچھ زینہ (فرضی نام)کے ساتھ ہوا جو پاکستان کی پہلی ہم جنس پرست لڑکی ہے۔ اب زینہ نے پہلی بار لب کھول دیئے ہیں اور اپنے جنسی رجحان کی وجہ سے ہونے والی بدسلوکیاں بیان کر دی ہیں۔ دی مرر کی رپورٹ کے مطابق 40سالہ زینہ اس وقت مانچسٹر میں رہائش پذیر ہے۔ مانچسٹر ایوننگ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے بتایا ہے کہ”مسلمان ہم جنس پرست لڑکی ہونا انتہائی کٹھن کام ہے۔ اپنی جنسی رغبت کی وجہ سے مجھے بدترین ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جب میں یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کیمسٹری کر رہی تھی تو میرے جنسی رجحان کی وجہ سے ہی مجھے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ میرے ساتھی طالب علموں کو جب میرے متعلق معلوم ہوا تو وہ مجھ سے خوفزدہ ہو گئے اور مجھے خطرہ قرار دے دیا۔“

نوجوان عیسائی لڑکی کا قبول اسلام لیکن اس سے پہلے کیا کیا؟ ایسا کام کہ ہر مسلمان کا دل جیت لیا، پوری دنیا میں دھوم مچ گئی

زینہ نے مزید بتایا کہ ”اس کے بعد میں ایک اسلامک سکول میں پڑھانے لگی لیکن جب یہاں میری جنسی رغبت بارے لوگوں کو معلوم ہوا تو یہاں سے بھی مجھے نکال دیا گیا۔ میں مسلمان پیدا ہوئی ہوں اور مسلمان ہی مرنا چاہتی ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ میری جنسی رغبت کی وجہ سے مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں۔میرے والدین بھی میرے اس رجحان کو قبول نہیں کر سکے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ ہم جنس پرست ہوتے ہوئے پاکستان میں رہنا محال ہے لہٰذا میں نے برطانیہ منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا اور یہاں چلی آئی۔اب میں مطمئن ہوں اور اس قتل کیے جانے کے خوف سے آزاد زندگی گزار رہی ہوں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس