امت مسلمہ کی حفاظت سے آنکھیں نہیں موڑی جاسکتیں مگر مسلم ممالک کسی فتنے کے متحمل بھی نہیں ہو سکتے: امام کعبہ شیخ صالح

امت مسلمہ کی حفاظت سے آنکھیں نہیں موڑی جاسکتیں مگر مسلم ممالک کسی فتنے کے ...

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) امام کعبہ شیخ صالح عبد اللہ بن حمید نے کہا ہے کہ اسلام میں انفرادی اور تنظیمی جہاد کی کوئی گنجائش نہیں، کیوں کہ جہاد کے حوالے اسلامی حکومتیں کتنی ہی مجبور کیوں نہ ہوں انہیں یہ فریضہ سر انجام دینا چاہیے کیوں کہ اسی انفرادی جہاد کی وجہ سے دشمن ممالک مسلم ممالک میں داخل ہو کر ان کے وسائل پر قبضہ کر چکے ہیں ،کوئی بھی دہشت گرد تنظیم داعش ہو یا القاعدہ سب اسلام کی دشمن ہیں اور ہمیں ان سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، امت مسلمہ کی حفاظت سے آنکھیں نہیں موڑی جا سکتیں لیکن مسلم ممالک کسی فتنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

آئین میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں، لندن ذاتی خرچے پر آیا ہوں : شاہد خاقان عباسی

نجی ٹی وی کے پروگرام ”جرگہ“ میں گفتگو کرتے ہوئے امام کعبہ شیخ صالح عبدا للہ بن حمید کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کے تمام مسائل کی جڑ ایک ہی بات ہے کہ ہم ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں ، اس بیماری کے علاج کے لئے ضروری ہے کہ اختلافات کو ختم کیا جائے اور ذاتی مفادات پر امت کے مفاد کو ترجیح دی جائے۔اختلافات صرف امت مسلمہ میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں اختلاف رائے پایا جاتاہے مگر ہمیں تعصب اور خواہش پرستی کو چھوڑ کر اخلاص برتتے ہوئے امت کے لئے کام کرنا ہوگااور امت کی مصلحتوں کو ذاتی مصلحتوں پر فوقیت دینا ہوگی۔جہاد کا اختیار صرف اور صرف ریاست کے پاس ہے اور جہاد اور برائی کوہاتھ سے روکنے والی حدیث دونوں میں فرق ہے۔ جہاد ہمارادینی فریضہ ہے جو کہ قیامت تک جاری رہے مگر قتال صر ف منظم امام اور حاکم کے تابع ہو کر کیا جانا چاہیے ۔ مغرب کے ساتھ دنیاوی مصلحتوں کے تحت ہی تعلقات اپنائے جاتے ہیں ، ان کے ساتھ قلبی اور مذہبی تعلق نہیں ہوتا ، اس لئے دنیاوی مصلحتوں کے تحت اہل مغرب کے ساتھ تعلقات قائم کئے جا سکتے ہیں، یاد رکھیں دنیاوی مصلحتوں کی بنیاد طاقت ہی کی مرہون منت ہے،جو ملک جتنا طاقتور ہوگا اس کی مصلحتوں کی نوعیت بھی اتنی ہی مختلف ہوگی ۔

شیخ صالح بن حمد کا مزید کہنا تھا کہ کسی مسلمان کو کافر اور مرتد صرف حکومت وقت اور عدالت قرار دے سکتی ہے ، کسی فرد یا فرقے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کے کافر اور مرتد ہونے کے حوالے سے کوئی بات کرے۔ اسلامی ممالک کا اتحاد خوش آئند ہے اور میرے خیال میں اسلامی ممالک کا کوئی بھی اتحاد ہو اسے خوشی کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اگر اس طرح کے مزید اتحاد بنتے ہیں جو اسلامی ممالک کو اکٹھا رکھ سکتے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ سعودی عرب کی زیر قیادت اسلامی فوجی اتحاد کسی خاص مسلک اور مملکت کے خلاف نہیں ہے۔

دورہ پاکستان کے حوالے سے امام کعبہ شیخ صالح کا کہنا تھا کہ میں پاکستان پہلی دفعہ نہیں آیا بلکہ یہ میرا چھٹا یا ساتواں دورہ ہے اور یہاں بار بار آںے کی وجہ سے اس ملک کے ساتھ اور یہاں کے لوگ سے مجھے انسیت سی ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں یہاں بار بار آرہا ہوں

مزید : عرب دنیا

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...