وہ میجر ڈاکٹر جس نے والدین کی خواہش پوری کرنے کے لئے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور جام شہادت نوش کرگیا

وہ میجر ڈاکٹر جس نے والدین کی خواہش پوری کرنے کے لئے پاک فوج میں شمولیت ...
وہ میجر ڈاکٹر جس نے والدین کی خواہش پوری کرنے کے لئے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور جام شہادت نوش کرگیا

  

تحریر۔ طاہر تبسم درانی

جرأ ت و بہادری کی عظیم مثال ، اللہ کریم نے بے شمار ایسے غیر معمولی صلاحیتوں والے لوگوں کو پیدا فرمایاجنہوں نے اپنی سوچ اور فکر سے وطن کی خدمت کی ، کچھ لوگوں نے یہ اعلیٰ مقام انتہائی محنت لگن سے حاصل کیے تو کچھ لوگوں کی قسمت میں اللہ کریم نے عظیم مرتبہ لکھ دیا اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو وطن عزیز کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قوم کے دلوں پر کبھی نہ مٹنے والے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے اپنا مقدس لہودے کر گلشن کی آبیاری کی ،چند ایک سے واقف سب ہیں لیکن گوہر پنہاں سے واقف کوئی کوئی ہے۔ شہید عظیم المرتبہ ہوتا ہے ۔ لیکن جوان بیٹے کا جدا ہونا ایک ماں ہی بتا سکتی ہے کہ ایک لاڈلے کی جوانی میں جدائی ، لوریوں کی آواز بھی مدھم نہ پڑی ہو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے کہ بوڑھے باپ نے بیٹے کو آخری سفر پر کیسے روانہ کیا ہوگا۔ 32 سال کی عمر میں جام شہادت حاصل کرنے والے اس نوجوان نے تمغہ بسالت اور گریٹ پاکستان ایوارڈ اپنے نام کر کے نہ صرف اپنے خاندان کا بلکہ پور ے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

میجر ڈاکٹرعاطف رسول بچپن سے ہی بہت بہادر اور بہترین مقرر تھا ۔ شہید کی والدہ بھی ٹیچر تھیں اس لیے گھر کا سار ا ماحول ہی پڑھا لکھا اور ادب سے تعلق رکھنے والا تھا۔شہید والدین کا انتہائی عزت و احترام کرنے والا با ادب بیٹا تھا ۔ابتدائی تعلیم آرمی پبلک سکو ل لاہور کینٹ سے حاصل کی اس کے بعد میٹرک گیریژن بوائز ہائی سکول کینٹ سے مکمل کرنے کے بعد 2003ء میں ایف ایس سی گورنمنٹ کالج لاہور سے مکمل کی۔والدہ کی خواہش تھی کہ بیٹا ڈاکٹر بنے جبکہ والد چاہتے تھے کہ بیٹا پا ک فوج میں اپنی خدما ت سر انجام دے ۔۔۔زمانہ طالبعلمی میں بہت ہونہار اور اپنے سکول کا بہترین مقرر تھا۔ میجر ڈاکٹر عاطف رسول کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وہ سکول و کالج سے بڑے بڑے انعام لے کر آتا تھا۔ منو بھائی اور فاطمہ ثریا بجیا سے کئی بار انہوں نے تقریری مقابلوں میں انعام حاصل کیے ۔ والدین فریضہ حج ادا کرنے گئے جہاں دونوں نے اپنے بیٹے کے مستقبل کے لیے دعا مانگی اللہ کی کرنی دیکھیں والد اور والدہ دونوں کی دعا قبول ہوئی اور بیٹا پاک فوج میں ڈاکٹر بننے کے لیے سلیکٹ ہو گیا۔میجر ڈاکٹر عاطف رسول شہید نے ایم بی بی ایس ، 28 کورس آرمی میڈیکل کالج (اے ایم سی ) سے مکمل کیا۔ ڈاکٹر عاطف رسول کی پوسٹنگ ملتان سی ایم ایچ میں ہوئی لیکن ابھی رالپنڈی سے ریلیونگ نہیں ہوئی تھی۔

میجر ڈاکٹر عاطف ایف ایس سی کرنے کے بعد اگر وہ دولت شہرت کمانا چاہتا تو میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے موزوں امیدوار تھا لیکن اپنے والدین کے حکم کو من و عن مانتے ہوئے پاک فوج میڈیکل کو ر میں جانے کا فیصلہ کیا ، والدین کی خواہش تھی کہ بیٹا وطن عزیز کے لیے عملی طور پر خدمات سر انجام دے ۔میجر عاطف نے والدین کی خواہش پوری کردی مگر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اللہ کے حوالے کرکے شہادت کا جام پی گیا۔ شہادت کی وقت اُن کی ایک بیٹی ماہم عاطف جس کی عمر صرف اڑھائی سال تھی اور بیٹا صارم عاطف جس کی عمر صرف ڈیڑھ سال تھی ، انہوں نے وطن عظیم پر اپنے باپ اور اہلیہ نے اپنے سر کے تاج کو قربان کر کے جرأت و بہادری کی ایک عظیم مثال قائم کی جس کو قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی ۔

وادی دیر کے علاقے میں ایک چوٹی پر دہشتگردوں کا قبضہ ہو چکا تھا ، جس کو کلیئر کرانے کا ٹاسک ملا، اسی یونٹ میں میجر ڈاکٹر عاطف رسول بطور میڈیکل آفیسر بھی شامل تھا۔ آپریشن پر جانے لگا توماں کافی پریشان تھی کہ اللہ کریم خیر کرے ۔ اللہ کے فضل سے آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا تو میجر ڈاکٹر عاطف رسول واپس گھر آیا اور ماں کے ساتھ لپٹ گیااور کہا’’ امی جان آپ ایسے پریشان ہو رہی تھیں ، دیکھیں میں آپ کے سامنے آگیا ہوں‘‘ وہ کمال کا بہادر انسان تھا گھر والوں کے ساتھ انتہائی عقیدت اور مخلص تھا، بیوی کے ساتھ بے پنا ہ محبت کرنے والا شفیق انسان۔وہ اپنی شریک حیات سے اکثر کہا کرتا تھا کہ بچوں کو مجھ سے دور رکھاکرو، فوجی کی زندگی کا کیا پتا کب مو ت آجائے اور جام شہادت نوش کر جائے کچھ معلوم نہیں۔

6 اگست 2015ء کو ایک جہاز حادثہ میں وہ عظیم المرتبہ انسانوں کی صف میں کھڑے ہو گیا۔ میجر ڈاکٹر عاطف رسول 6 اگست 2015ء کو سانحہ مانسہرہ کے علاقہ لسان کے قریب ہونے والے 12 شہداء میں شامل تھا ۔ایم آئی 17 میڈیکل کور ٹیم لے کر گلگت جا رہے تھے کہ خراب موسم کی وجہ سے طیارہ پہاڑ کے ساتھ ٹکرا گیا اور حادثہ پیش آگیا اور یوں یہ خوبصورت نوجوان درجہ شہادت پر فائز ہو گیا۔ میجر ڈاکٹر عاطف رسول وہ خوش قسمت انسان ہیں جس کا نما ز جنازہ تین بار ادا کیا گیا ۔پہلے آرمی جی ایچ کیومیں اس کے بعد آبائی گاؤں وزیر آباد کے قریب بھروکی چیمہ میں پھر اس کے بعدکیولری گراونڈ لاہور میں ادا کیا گیا جس میں عزیز و اقارب ، فوج سے عقیدت رکھنے والے سول سوسائٹی کے لوگوں اور عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔شہید کی تدفین کیولری گراؤنڈ لاہور میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ کی گئی ۔ شہید میجر ڈاکٹر عاطف رسول کو 2016ء میں تمغہ بسالت سے نوازا گیا اس کے بعد 2018ء میں انہیں گریٹ پاکستان ایوارڈ بھی دیا گیا۔

مزید : دفاع وطن