انسانی اسمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 3

انسانی اسمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 3
انسانی اسمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 3

  

انضمام کی راہ میں زبان، مذہب اور نسل رکاوٹ بنتی ہیں۔ نسلی فرق اگر بہت نمایاں ہو تو مکمل انضمام مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکہ میں گورے اور کالے کا امتیاز کئی سو سال گزرنے کے بعد بھی قائم ہے۔ وہاں کے لئے یہ ایک مشکل مسئلہ ہے اس لئے کہ رنگ، شکل اور صورت کا بدلنا انسان کے بس میں نہیں ہے۔ مذہبی فرق اکثریت کے مذہب کو قبول کر لینے سے دور ہو سکتا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی جماعت ہو جو مذہب تبدیل کرنے پر تیار ہو۔ زبان کا فرق مٹنے میں وقت لگتا ہے۔ لیکن مٹ جاتا ہے۔ امریکہ میں انگلش، جرمن اور فرنچ بولنے والوں کے درمیان تصادم انگلش کو قومی زبان اختیار کرنے کے بعد آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔

ماضی میں جن اہم بین الاقوامی خطوں سے نقل وطن ہوئی۔

افریقہ

نقل وطن کی کہانی پرانی ہے۔ اتنی پرانی کہ اس کے زمانے کا صحیح طور پر اندازہ لگانا ممکن نہیں۔قدیم زمانے کاذکر ہے کہ افریقہ سے جتھوں کی شکل میں قافلے نکلے۔ بحر احمر اور خلیج کے ساحل سے ہوتے ہوئے مکران آئے اورمشرق کی طرف اپنا سفر قائم رکھا ، بحر الکاہل کے بعض جزیروں تک پہنچ گئے۔ راستے میں یہ قافلے رکتے رہے اور کچھ لوگ وہیں آباد بھی ہوتے رہے۔

انسانی اسمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 2پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چین سے امریکہ میں نقل وطن

نقل مکانی کا ایک تاریخ ساز سلسلہ مشرق بعید(چین) سے شروع ہوا۔ یہاں سے قافلے شمال مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ آبنائے بیرنگ (Bering Strait) عبور کیا۔ الاسکا میں داخل ہوئے۔ کچھ وہاں رہ گئے، کچھ کینیڈا کے شمال میں آباد ہوئے۔ وہی آج اسکیمو کہلاتے ہیں۔ لیکن بڑا قافلہ جنوب کی طرف چلا۔ کینیڈا سے گزرتا ہوا یو ایس اے آیا۔ وہاں سے چلتا ہوا میکسیکو (Mexico)اور پھر جنوبی امریکہ پہنچا۔ یہی شمالی اور جنوبی امریکہ کے قدیم باشندے ہیں جو امریکن انڈین (American Indian) کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں نے بڑی بڑی حکومتیں قائم کیں اور انکا(Inca) ، مایا(Maya) اور ایزٹک(Aztec) تین بڑی تہذیبوں کو جنم دیا۔

وسطی ایشیا سے نقل مکانی

چار ہزار سال پہلے ایشیا ہجرت کا ایک اہم مرکز بنا۔ یہاں سے نقل وطن کرنے والوں کا قافلہ ترکی، ایران، افغانستان اور برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوا۔ ایک دوسرے قافلے نے مغرب کا رخ کیا اور روس سے ہوتا ہوا شمال مغربی یورپ میں آباد ہوا۔ تیسرے قافلے نے چین اور دوسرے نے مشرقی ایشیائی ممالک کو اپنا وطن بنایا۔ وسطی ایشیا سے نقل کرنے والے یورپ، جنوب مغربی، جنوبی اور مغربی ایشیا کی تاریخ پر کافی اثر انداز ہوئے۔

یورپ سے امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں نقل مکانی

ہجرت کے چھوٹے چھوٹے واقعات ہر زمانے میں رونما ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن زمانہ حال میں ایک بڑا واقعہ انیسویں اور بیسویں صدی میں پیش آیا۔ اس کا تعلق یورپ سے شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی آبادکاری سے ہے۔ سب سے زیادہ تارکین وطن یو ایس اے پہنچے۔ جہاں 75سال میں 1840ء سے 1914ء تک 5 کروڑ افراد آباد ہوئے۔ 1914ء میں پہلی عالمی جنگ واقع ہوئی۔ اس کے بعد نقل وطن کا یہ سیلاب تھم گیا۔ یورپ سے اس نقل وطن کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس کے بعد اتنی بڑی تعداد میں ہجرت کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جہاں چند قبائیلی آباد تھے، کروڑوں نفوس کا وطن بن گیا۔ یہ علاقے تیزی سے ترقی کرنے لگے۔ اور آج دنیا کے ہر شعبے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایک زمانے تک نقل وطن پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ یو ایس اے کے ابتدائی دور میں مغربی یورپ سے آباد کار آتے رہے۔ اس کے بعد جنوبی اور مشرقی یورپ سے یلغار شروع ہوئی۔ پھر جاپان، چین اور جنوبی ایشیا سے بھی محدود تعداد میں امریکہ میں بسنے کیلئے کچھ لوگ آئے۔ مغربی یورپ کے آباد کاروں کو جنوبی اور مشرقی یورپ اور ایشیائی تارک وطن کی آمد پسند نہیں آئی۔ اس لئے امریکہ میں 1875ء کے بعد داخلہ پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی گئیں۔ دن گزرنے کے ساتھ پابندیاں سخت ہوتی گئیں۔ کوٹہ سسٹم کے ذریعے تارکین وطن کی آمد پرموثر پابندی لگائی گئی جو آج بھی نافذہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد نقل مکانی

آج دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں کوئی شخص بلاروک ٹوک داخل ہو سکے یا وہاں کا باشندہ بن سکے۔ ان پابندیوں کے باوجود دوسری جنگ عظیم کے بعد (1945) نقل مکانی کے بہت سے واقعات پیش آئے۔ جنگ سے متاثرہ افراد یورپ سے نقل مکانی کر کے امریکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ چلے گئے۔ 1947ء میں پاکستان وجود میں آیا توبرصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان انڈیا سے پاکستان اور لاکھوں سکھ اور ہندو پاکستان سے انڈیا چلے گئے۔اسرائیل بننے کے بعد لاکھوں یہودی یورپ سے اسرائیل میں داخل ہوئے اور لاکھوں مسلمانوں کو اپنا وطن فلسطین چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح کوریا اور ویت نام کی جنگ کے بعد متعدد افراد نقل مکانی کے عمل سے گزرے۔ 80ء کی دہائی کے آغاز میں افغانستان پر روسی تسلط کے بعد لاکھوں افغانی پناہ گزین پاکستان اور ایران میں داخل ہوئے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر میں ہونے والی کشمکش کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان جان بچانے کیلئے پاکستان میں آ چکے ہیں۔ دنیا میں آج بھی نقل مکانی کے چھوٹے بڑے واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔

ان کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی اور آسٹریلیا میں محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے یہاں آنے، کام کرنے اور آباد ہونے کی دعوت دی۔ مڈل ایسٹ کے ممالک نے ہزاروں افراد کو عارضی طور پر اپنے ہاں کام کرنے والوں کو اجازت دے رکھی ہے۔

اندرون ملک نقل مکانی

شہر کے وجود کا بنیادی مقصد مرکزی خدمات انجام دینا ہوتا ہے۔ جب ملک میں صنعت و تجارت کو فروغ ملتا ہے تو شہر ترقی کرتے ہیں۔ شہری آبادی بڑھنے لگتی ہے۔ بہتر تعلیم، علاج معالجہ اور تفریحی سہولتوں کی کشش کے سبب شہر کی آبادی بڑھتی رہتی ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد یورپ میں دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ اس کے علاوہ یو ایس اے، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں شہروں کی جانب نقل مکانی میں تیزی آئی۔ اس کے بعد جنوبی امریکہ، ایشیا اور افریقہ کی ممالک میں نقل مکانی ہوئی۔

پاکستان میں بھی شہری آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن دیہاتوں سے آبادی کا انخلاء یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا کی نسبت سست ہے۔ پاکستان میں آج بھی دیہی آبادی میں اضاٖفہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ شہروں کی طرف رخ کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ بڑے شہروں میں جا کر آباد ہوں۔ گاؤں سے نقل مکانی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد قریبی چھوٹے شہروں میں آباد ہو رہی ہے۔

ذرائع نقل وحمل میں بہتری آنے کے باعث اب یہ ممکن ہو چکا ہے کہ شہر میں کام کرنے والا شہر سے کچھ دور سکونت اختیار کر لیتا ہے اور روزانہ شہر میں کام کے لیے آتا ہے۔ اس سہولت کے پیش نظر یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ہزاروں افراد بڑے شہروں کو چھوڑ کر قریبی چھوٹے شہروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ ایسے افراد بڑے شہروں کی آلودگی، شور اور ہنگاموں سے محفوظ رہنے کے پیش نظر چھوٹے شہروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح شہروں سے نواحی علاقوں میں بھی نقل مکانی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ گاؤں سے شہروں میں نقل مکانی عام طور پر معاشی بہتری اور معاشرتی سہولتوں کے پیش نظر کی جاتی ہے جبکہ بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں کی طرف نقل مکانی کساد بازاری کی وجہ سے واقع ہوتی ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکہ شدید معاشی بحران کا شکار ہوا تو شہروں میں بیروز گاری عام ہو گئی۔ اس دوران شہر کے رہنے والوں نے دیہاتوں کا رخ کرنا شروع کیا۔ ایسا ہرگز نہیں تھا کہ گاؤں کی معیشت بہتر اور وہاں روزگار کے مواقع موجود تھے۔ بلکہ گاؤں کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہوتا ہے۔ زرعی معیشت اور گاؤں کی زندگی میں اتنی لچک اور وسعت ہوتی ہے کہ آبادی میں ہونے والا اضافہ اس میں سما سکتا ہے۔

گاؤں سے گاؤں نقل خطئی نقل مکانی کہا جا سکتا ہے۔ جب کسی دیہی علاقے میں ترقیاتی کام ہوتے ہیں تو قرب و جوار کے دیہاتوں کے باشندے وہاں منتقل ہو کر سکونت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کی مثال پنجاب میں نہری نو آبادیوں کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مختصر مدت کے لئے گاؤں سے گاؤں میں نقل مکانی کا رواج بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ فصل بونے اور کاٹنے کے موسموں میں زرعی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد درکار ہوتی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے دوسرے علاقوں سے مزدور عارضی طور پر دیہاتوں میں قیام پذیر ہوتے ہیں۔ خانہ بدوشی بھی خطئی نقل مکانی کی ہی ایک قسم ہے۔ خانہ بدوش ریگستانی یا بے آباد علاقوں میں رہتے ہیں وہ اپنے جانوروں کو لے کر چراگاہوں اور سرسبز علاقوں کی تلاش میں نقل مکانی کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی نقل مکانی کا مقام مختص ہوتا ہے۔ مثلاً چترال میں خانہ بدوش گرمیوں میں پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں اور سردیوں میں نیچے آبادیوں میں اتر آتے ہیں۔ اس کو موسمی نقل مکانی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

انسانی سمگلنگ کی تعریف، نوعیت اور وسعت

انسانی سمگلنگ کا مطلب منافع کی غرض سے کسی شخص کا جنسی استحصال کرنے، غلام رکھنے، جبری مشقت یا جبری شادی کرنے کے مقصد کے لئے انسانوں کی غیر قانونی تجارت لیا جاتا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور عورتوں کو مذکورہ مقاصد کے لئے استعمال کرنا ۔ انسانی سمگلنگ اس وقت دنیا میں منشیات کی سمگلنگ کے بعد دوسری بڑی غیر قانونی منافع بخش انڈسٹری بن چکی ہے جس سے اربوں ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ 2004ء میں اس کے ذریعے 5 بلین امریکی ڈالر منافع کمایا گیا جبکہ انسانوں کی اس غیر قانونی تجارت کا بین الاقوامی سالانہ منافع 2008ء میں 31.3 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے مطابق ہر سال 127 ممالک میں سے 25 لاکھ افراد 137 ممالک میں سمگل کئے جاتے ہیں۔

انسانی سمگلنگ سے مراد ’’کسی شخص کو جبری مشقت، جبری شادی، جنسی استحصال، گھریلو خدمت، مندر میں پوجا کرنے، یا اس کے جسمانی اعضاء جسم سے کاٹ کر فروخت کرنے یا کوئی ایسا کام جس کو وہ آزاد رضا مندی سے کرنے کے لئے تیار نہ ہو کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طاقت کے استعمال، جھوٹ ، فراڈ، دھوکہ، جبر، لالچ یا خوف کے تحت اس کی مرضی حاصل کرنا، لیا جاتا ہے۔‘‘ اس میں تمام عمر کے مرد، عورتیں، بچے اور مخنث شامل ہیں۔ یہ تعریف انگریزی کی اصطلاح Human Traffaking کے مفہوم کے مطابق کی گئی ہے جبکہ Human smuggling سے مراد کسی شخص کا اپنی رضا مندی سے کسی ایسے ملک میں جانے کے لئے جس کی ایمگریشن کا وہ قانوناً مستحق نہ ہو کسی سمگلر یا ایجنٹ کی خدمات حاصل کرنا ہے جو مذکورہ شخص کو اس کے مطلوبہ ملک کو سرحدوں کے اندر منتقل کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس تعریف میں سب سے اہم نکات ہیں (i) ملک چھوڑنے والے شخص کی آزاد رضا مندی کا شامل ہونا اور (ii) مطلوبہ ملک میں پہنچنے کے بعد سمگلر کی ذمہ داری کا ختم ہو جانا ۔ دنیا میں دونوں طریقوں سے انسانوں کی سمگلنگ جاری ہے۔ انٹرنیشنل سنٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ کے مطابق Human Smuggling ’’ریاست کے خلاف جرم ہے‘‘ جس میں سمگلنگ کا شکار ہونے والے فرد کے بنیادی انسانی حقوق پامال نہیں ہوتے اور نہ ہی عوام الناس کی زندگی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ عمل ایمگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ اس کے برعکس Human Trafficking کو ’’فرد کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس تعریف میں سمگل ہونے والے فرد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا ذکر موجود ہے۔ اس کے علاوہ اولذکر میں کسی شخص کا ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کرنا لازمی قرار دیا جاتا ہے جبکہ مؤخر الذکر میں سفر کرنا ضروری نہیں ہوتا ہے اور سمگلنگ کا شکار شخص سمگلر کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اس کو منزل پر پہنچ کر آزاد نہیں چھوڑا جاتا ۔ ایسے شخص کو اس کی مرضی کے خلاف جبر اور طاقت کے ذریعے سمگلر یا کسی دیگر شخص کو خدمات فراہم کرنے یا جبراً کام کرنے کے لئے روک لیا جاتا ہے۔ ان خدمات میں جنسی استحصال یا جبری مشقت بھی شامل ہوسکتی ہے۔ ایسا شخص اپنی مرضی سے معاہدے کی شرائط طے کرنے کے قابل نہیں ہوتا ۔ انسانی سمگلنگ اور انسانوں کے اس استحصال کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کی طرف سے 2000ء میں اٹلی میں ’’انسداد سمگلنگ کنونشن‘‘ منعقد کیا گیا جس میں 127 ممالک اور 137 فریقین نے تمام دنیا سے شرکت کی۔ اس کو ’’سمگلنگ پروٹوکول‘‘ کا نام دیا گیا۔ جس میں انسانی سمگلنگ کو ایک منظم بین الاقوامی جرم قرار دیتے ہوئے مندرجہ ذیل اصطلاحات کی یوں وضاحت کی گئی۔

(1) بچہ (Child)

انسانی نسل سے تعلق رکھنے والا ہر ذی روح خواہ وہ عورت، مرد یا مخنث ہو اور جس کی عمر 18 سال سے کم ہو اسے بچہ تصور کیا جائے گا۔ اسے وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو اقوام متحدہ (یونیسف) کے چارٹر میں درج ہیں۔

(2) ممنوعہ مشقت (Bonded Labor)

ذہنی یا جسمانی محنت یا خدمت کی کوئی بھی شکل جس سے انسانی توہین ہوتی ہو اور اس کا معاوضہ محنت یا خدمت کے مقابلے میں انتہائی کم ہو۔ کسی ایسے قرض کی واپسی کے لئے کام کرانا جس کی قرض لیتے وقت طے ہونے والی شرائط فریقین نے آزاد مرضی سے طے نہ کی ہوں، یا ایسے کام یا محنت سے سمگل شدہ شخص کا استحصال کیا جائے یا اخراجات کو اس شخص پر بطور قرض لاگو کیا جائے جو اس کو اغواء کرنے کے بعد اس پر کئے گئے ہوں اور ان کی واپسی کے لئے کام کرنے پر مجبور کرنا۔ ان تمام اقسام کے جسمانی اور ذہنی کاموں یا خدمات کو ممنوعہ مشقت (Bonded Labor) کہا جائے گا جو کہ اس پروٹوکول کے تحت غیر قانونی اور قابل سزا ہے۔

(3) جبری مشقت (Forced Laber)

اس میں وہ صورتحال شامل کی گئی ہے جس میں شخص مذکور کو کسی خوف، تشدد یا دوسری سزا کے ڈر سے اس کی مرضی کے خلاف کام کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس صورت میں اس کی آزادی پر پابندی لگتی ہو یا اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہو۔ یہ مشقت کسی کھیت، کارخانے، گھریلو کام ، عبادت گاہ میں عبادت کے نام پر استحصال کر کے یا بھیک مانگنے کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔

(4) بچوں سے مشقت (Child Labor)

18 سال سے کم عمر افراد سے ایسا کام لینا جس کی اجرت یا معاوضہ مقرر ہو اور اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہو۔ یہ پیسوں کی شکل میں ہو یا کسی خدمت کے عوض لیا جائے دونوں صورتوں میں ممنوع ہے۔ یعنی ایسا کام بھی بچوں کی مشقت میں شامل ہے جو بچے کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی، سماجی یا تعلیمی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بنے۔ آئی ایل او (انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن) کے مطابق دنیا میں اس وقت 24 کروڑ 60 لاکھ بچے جن کی عمریں 5 سے 17 سال کے درمیان ہیں استحصال کا شکار ہیں۔ ان سے قرض کے حصول کے لئے جبری مشقت لی جاتی ہے ۔ کچھ جنگی صورتحال سے نپٹنے کے لئے بھرتی کئے جاتے ہیں۔ کچھ اسلحہ اور منشیات کی غیر قانونی سمگلنگ میں ملوث ہیں ، بچوں سے جبری مشقت کی سب سے بدصورت شکل ان کو فحش فلموں کے لئے استعمال اور ان سے جنسی زیادتی کرنا ہے۔ ان غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے بچ جانے والے دیگر غیر قانونی تجارتوں میں ملوث ہیں۔

(5) جنسی استحصال (Sexual Expliotation)

سمگلنگ کے شکار افراد عام طور پر سنگین صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں اور آسانی سے جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ جو ان کو جسم فروشی کے اڈوں یا بین الاقوامی سیکس انڈسٹری تک لے جاتے ہیں۔ایسے افراد میں منشیات کے عادی، اغوا شدہ افراد، مہاجرین، سیاحوں کے علاوہ ریلوے اسٹیشن یا عوامی مقامات پر جمع ہونے اور آوارہ گھومنے والے یا گھروں سے بھاگے ہوئے شامل ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں سے اقلیتوں کے اغوا کیے گئے افراد بھی ایسے لوگوں میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ کسی خاص نسل یا سماجی پس منظر کے حامل افراد بھی ان مجر موں کا شکار بن سکتے ہیں۔ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے سمگلروں کی باتوں میں آجاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ملک میں غربت اور تنگ دستی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ یہ سمگلرایجنٹکا روپ دھار کر خصوصاً عورتوں کو بہتر مستقبل اور اچھی ملازمت کا جھانسہ دیکر ورغلاتے ہیں۔ ایشیاء ، لاطینی امریکہ اور سابق سوویت یونین سے لاکھوں عورتوں کو ملازمتوں کے جھوٹے وعدوں سے سیکس انڈسٹری تک لے جایا گیا۔ وہاں پہنچ کر ان کو معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ اور بہت جلد ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان سے کون سا کام لیا جانے والا ہے۔ ان قحبہ خانوں سے عورتوں کا بھاگنا بہت مشکل اور پر خطر ہوتا ہے۔ 2009ء میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک رپورٹ تیار کی جس میں بتایا گیا امریکہ میں 2007-8ء کے دوران سمگلنگ کے 12 سو واقعات رونما ہوئے جن میں 83 فیصد جنسی استحصال کے لئے انسانی سمگلنگ کے واقعات تھے۔

کسی فرد کو اس کے اپنے یا کسی دیگر ملک لے جا کر اس کی مرضی کے خلاف جبری جنسی زیادتی کا نشانا بنانا جنسی استحصال کہلاتا ہے۔ اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے کہ اس وقت دنیا میں کتنی عورتوں یا بچوں کا جنسی استحصال ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ سویڈن، ناروے اور آئس لینڈ میں جنسی عمل کے لئے پیسوں کی ادائیگی غیر قانونی ہے۔

(6) بچوں کی سمگلنگ(ng (Child Trafficki

بچوں کی سمگلنگ میں، ان کو استحصال کے مقصد کے لئے بھرتی کرنا، آمدورفت مہیاکرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا، ان کو سہولت بہم پہنچانا یا وصول کرنا یا ان کی خرید و فروخت کرنا شامل ہے۔ بچوں کی سمگلنگ اور ان کے کاروباری جنسی استحصال کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں۔ ان میں سے ایک بچے کو جسم فروشی پر مجبور کرنا یا جنسی فعل یا فحاشی پر مبنی بچوں کی فلمیں بنانا بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اس میں جبری مشقت بھی شامل ہے۔ غلامی یا اس کی کسی شکل کو بھی اس زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ بچوں سے گھریلو خدمات لینا، عبادت گاہوں یا مزاروں پر بندگی کے بہانے رکھنا، اسے بھی استحصال کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ بچوں کی سمگلنگ کواس انڈسٹری میں سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار تصور کیا جاتا ہے۔ ان دنوں بچوں کے اعضاء فروخت کرنا ،غیر قانونی طور پر گود لینا، کم عمری میں شادی کرنا، سپاہی بھرتی کرنا، اتھلیٹ کے طور پر جیسے فٹبال کی کھیل یا اونٹ دوڑ ہے، میں ان کو استعمال کرنا یا بھیک مانگنے کے لئے ان کو اپنے پاس رکھنا عام ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو ان کے آباؤ اجداد اور زبان تک سے بیگانہ بنا دیا جاتا ہے جس سے سمگلرز یا ان کے مالکان کھل کر ان کا استحصال کرسکتے ہیں۔ 2010ء میں تھائی لینڈ اور برازیل بچوں کو جنسی استحصال کے لئے سمگل کرنے میں سرفہرست تھے۔ اس میں والدین کی غربت کا اہم کردار ہوتا ہے۔ زیادہ تر بچے غریب ممالک سے سمگل کئے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کے لئے پاکستان، بنگلہ دیش اور سوڈان سے بچوں کو لایا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیاگیا ہے کہ غریب ممالک جن کی آبادی ان کے وسائل سے زیادہ ہے وہاں بچوں کو غربت دور کرنے کے لئے فروخت کر دیا جاتا ہے۔ ایسے بچوں کی ایک بڑی تعداد کو غیر قانونی گود لینے، جبری مشقت اور جنسی استحصال کے لئے دیگر ممالک سمگل کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات قانونی یا غیر قانونی گود لینے کا عمل چھوٹے بچوں اور حاملہ عورتوں کی سمگلنگ کا باعث بنتا ہے۔ ڈیوڈایم کی رپورٹ کے مطابق انڈیا اور امریکہ کے درمیان بچوں کے گود لینے کے نظام میں کئی سیکنڈل سامنے آ چکے ہیں۔ ہر سال ایشیاء، مشرقی یورپ، شمالی امریکہ سے ہزاروں کی تعداد میں ایسے بچوں کو سمگل کر کے امریکہ اور یورپ میں فروخت کر دیا جاتا ہے جن کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال کے شکار بچوں کو اغوائکیا جاتا ہے یا ان کو یتیم بنا دیا جاتا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک سٹڈی کے مطابق ،ہر سال سمگل ہونے والے افراد میں 30% بچے ہوتے ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -انسانی سمگلنگ -