کیا یہ نیا پاکستان ہے؟

کیا یہ نیا پاکستان ہے؟
کیا یہ نیا پاکستان ہے؟

  

یہ خاکسار ان لوگوں میں شامل ہے جو اپنے وطن عزیز میں " عزیز ہم وطنو" کی آواز کبھی نہیں سننا چاہتے، میرا ایمان جمہوریت میں ہے، کیونکہ سیدھی سی بات ہے کہ ریاست کے مالک عوام ہیں اور عوام ہی کو حق ہے کہ وہ اس ملک پر حکمرانی کریں اور اس کے فیصلے کریں،لیکن روز اول سے اس ملک کے عوام کو یرغمال بنا لیا گیا تھا اور حکم کی چھڑی اشرافیہ کے ہاتھ میں دے دی گئی تھی۔ اس اشرافیہ میں سول اور فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے۔ مذہب کے ٹھیکیدار(مسجدوں اور مدرسوں کے مالک)، سرمایہ دار، جاگیردار اور قبائلی سردار بھی ہیں، اسی لئے اس ملک میں دو قانون ہیں۔ ایک اشرافیہ کے لئے، اور ایک کیڑے مکوڑے عوام کے لئے، اس ملک کے وسائل صرف اتنے ہی نکالے جاتے ہیں جن سے اشرفیہ خوب انجوائے کر سکے اس زرعی ملک کی زمینوں پر بھی اسی اشرافیہ کا قبضہ ہے اور وہ ان زمینوں کی آبادکاری اپنی ہی ضرورت کے تحت کرتے ہیں۔

اس سرزمین کے اندر بیش بہا قیمتی خزانوں کے اوپر بھی اشرافیہ قابض ہے، لیکن ان خزانوں کی تلاش کے لئے پاکستان کے پاس ذرائع نہیں، غریب کے بچوں کو تعلیم، تحریر اور تحقیق کی کوئی سہولت حاصل نہیں اور امیر کے بچے کو اس زحمت کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں آج تک کوئی نظام نہیں بنایا گیا، کسی ادارے کی درست تربیت کا انتظام نہیں کیا گیا، جس طرح امریکہ کے ہاتھ میں جدید ٹیکنالوجی ہے اور وہ اس ٹیکنالوجی کو اپنے برادر ممالک کے ساتھ تو شیئر کرتا ہے، لیکن غریب اور غلام ملکوں کی پہنچ سے اس طرح دور رکھتا ہے، جیسے دوا بچوں کی پہنچ سے دور رکھی جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان کی اشرافیہ پاکستان کے وسائل، اشرف شاہی اور اختیارات کو عوام کی پہنچ سے دور ہی رکھتی ہے۔ البتہ کبھی کبھار اس اشرافیہ کی آپس کی لڑائی میں جب ان کو عوام کی ضرورت پڑتی ہے تو پھر جس طرح مرغے اور کتے لڑانے والے مرغوں اور کتوں کے مالکان اپنے اپنے مرغوں اور کتوں کو میدان میں اتارتے ہیں، اس طرح یہ اشرافیہ بھی اپنے اپنے کیڑے مکوڑوں کو سڑکوں پر لے آتے ہیں۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ کے کاروبار روز اول سے جاری ہیں، مذہبی اور سیاسی اشرافیہ اس کے اشاروں پر ناچتی ہے۔ جب تک کوئی سیاستدان انہی کے اشاروں پر ناچے تو وہ اس سے محظوظ ہوتے ہیں اور اس پر نوٹوں کی بارش کے ساتھ داد عیش بھی دیتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی حکمران یا سیاستدان اپنی کوئی ادا دکھائے اور اپنی مرضی سے کوئی انگ ہلائے تو اس کی پیٹھ پر ایک زوردار لات رسید کر کے اس کو سلاخوں کے پیچھے یا خواتین سمیت عربوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ البتہ معافی کی گنجائش رہتی ہے، جب چاہے اپنے پرانے اور ابتدائی ناچ کے ہنر پر واپس آسکتا ہے۔ جب کبھی مذہبی اشرافیہ نے بھی اپنی کوئی ادا اپنی مرضی کے زیر اثر دکھانے کی کوشش کی تو اس کے کانوں پر بھی ایسی پڑی کہ شاں شاں کی آواز دوسرے کانوں تک بھی جا پہنچی۔ آج تک جتنے سول حکمرانوں کی پیٹھ پر بوٹوں کے نشان پڑے ہیں، ان کے بارے میں عوام کو یہی بتایا گیا ہے کہ یہ چور ہیں، انہوں نے عوام کی چوری کی ہے، ان کے اوپر مقدمات چلا کر عوام کا مال برآمد کیا جائے گا عوام کی باچھیں بھی کانوں تک کھل جاتی ہیں کہ اب ہمارا مال ہمارے پاس آئے گا اور ہمارے دن بھی پھر جائیں گے، لیکن ہر بار یہ دن الٹے پھر جاتے ہیں اور عوام کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔

ابھی حال ہی میں پاکستان کے کیڑے مکوڑوں کو نئے پاکستان کا چورن بیچا گیا اور اس نئے پاکستان کی خاص بات یہ تھی کہ اس بار دو نہیں ایک پاکستان ہوگا، جس میں قانون سب کے لئے ایک اور وسائل پر سب کا حق برابر ہوگا، کرپشن اور اقربا پروری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ اس سارے ڈرامے میں بڑی اداکاری اور ہدایت کاری یہ تھی کہ پرانے چور حکمرانوں سے مال برآمد کر کے اور اشرافیہ سے ٹیکس وصول کر کے ملکی خزانے کو بھر دیا جائے گا، پھر اس خزانے کی کنجی عوام کو دے دی جائے گی۔ عوام کو مزید یقین دہانی کے لئے نئے کرداروں کو پردے کے سامنے لانے سے پہلے ہی پرانے کرداروں پر چوری ثابت کر کے انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا، اب تو کوئی شک بھی نہیں رہا کہ مال واپس آئے ہی آئے، لیکن اب ایک بار پھر ایک پائی وصول کئے بغیر ان مجرموں کو عربوں سے بھی آگے گوروں کے حوالے کرنے کے تمام بندوبست کئے جا چکے ہیں۔ اور این آر او نہ دینے کی گردان کرنے والا کپتان بھی اپنے پیش روؤں کی مانند ڈرامے کا آخری سین عدلیہ کے سپرد کرنے پر تیار ہے۔

اس ملک کے ساتھ کھلواڑ یہ ہے کہ عوام کو جذبات کے سمندر میں غوطے کھانے کے لئے مختلف قسم کے حربے استعمال کئے جاتے ہیں، اس نئے پاکستان کے اندر بھی کیڑے مکوڑوں میں سے ہزاروں ایسے کیڑے جنہوں نے اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتے دیکھ کر کہیں سے کوئی دانہ چوری کیا یا بغیر اجازت اٹھا لیا یا ایک دانے کی لڑائی پر دوسرے کیڑے کو قتل یا زخمی کر دیا تو وہ جیلوں میں رل رہے ہیں پھانسیوں پر جھوم رہے ہیں اور ان کی اولادیں گداگری پر مجبور ہیں۔ ان کیڑے مکوڑوں میں لاکھوں، بلکہ کروڑوں ایسے ہیں جن کو اپنے اور اپنے بچوں کے لئے دوا نہیں ملتی اور معمولی بیماری بھی ان کے لئے کینسر بن جاتی ہے اور وہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ جاتے ہیں، لیکن اشرافیہ جنہوں نے اربوں روپے نہیں، اربوں ڈالر عربوں یا عربوں کے مالک گوروں کے ملک میں جا رکھے ہیں، ان کو جیلوں میں بھی ایئرکنڈیشنر اور انواع و اقسام کے کھانے دیئے جاتے ہیں۔

سر درد کے لئے پاکستان کے ہسپتالوں کے اسپیشل وی وی آئی پی بلاکس میں علاج معالجے کی تمام سہولتیں بمعہ کراچی کے آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹروں کے پیش کی جاتی ہیں، پھر بھی ان کی تسلی نہ ہو تو ان کے لئے ایئرپورٹ پر اسپیشل جہاز تیار کھڑے ہوتے ہیں، تاکہ وہ ان کو لے کر ان کے اصل آباؤ اجداد کے دیس کی جانب اڑان بھر جائیں۔ یہ ہے خلاصہ میرے پاک وطن کی سیاست کا اور نئے پاکستان کا۔ نئے پاکستان کے کپتان کے ہاتھوں میں پرانے پاکستان کی حکمران بے نظیر کی تسبیح ہے، جس کے دانوں پر کرسی کرسی اور کرسی لکھا ہوا ہے۔ اب کیڑے مکوڑوں کی مرضی ہے جس کی حمایت کرنا چاہتے ہیں کریں اور اس چومکھی لڑائی میں اپنی جانیں پیش کریں اور اپنی اولادوں کو مزید غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیں۔

مزید :

رائے -کالم -