شہر لاہور سود منافع کا نام/ منظم گروہ سرگرم اور پولیس سہولت کار

شہر لاہور سود منافع کا نام/ منظم گروہ سرگرم اور پولیس سہولت کار

  



میرے ایک دوست ڈاکٹر ظہیر الحق چیمہ نے مجھے آگاہی دیتے ہوئے انکشافات کئے کہ اس طرح کے سینکڑوں گروہ ہیں جو شہر لاہور میں بڑے منظم اور ماہرانہ طریقے سے لوگوں کو ماہانہ ناقابل یقین منافع کی لالچ دے کر زندگی بھر کی جمع پونجی لے کر آزادانہ گھوم رہے ہیں، یہ ایک حقیقی واقعہ ہے اس طرح کے واقعات سے متاثرہ افراد ہزاروں میں روزانہ تھانوں کے چکر لگاتے ہیں۔ سب سے پہلے سود سے متعلق کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ دین میں اور قرآن پاک میں اسے اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے۔ سورہ البقرہ آیت نمبر278 ”اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو کچھ سود سے باقی رہ گیا ہے اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہو جاؤ لڑنے کو، اللہ اور اس کے رسولؐ سے”حدیث مبارکہ ہے“ سود کا ایک درہم جس کو آدمی جان بوجھ کر کھاتا ہے چھتیس بار زنا سے زیادہ گناہ رکھتا ہے۔ ”سورہ البقرہ 275آیت“ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ روز قیامت کھڑے نہیں ہو سکیں گے۔

مگرجیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان (آسیب) نے چھو کر بدحواس کر دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ تجارت (خرید و فروخت) بھی تو سود کی مانند ہے حالانکہ اللہ نے تجارت (سوداگری) حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے“۔ سو آج کون شخص ہے جو لاہور میں رہتا ہو اور سود جیسے حرام کام کے گناہ کو نہیں مانا جاتا، لیکن لاہور ہی میں بے شمار لوگ اس اللہ سے اور اس کے رسولؐ سے کھلی جنگ میں ملوث ہیں یا شکار ہو چکے ہیں۔ انہیں ایک منظم گروہ سے واسطہ پڑتا ہے اور بڑے ماہانہ طریقہ کار سے گھیرا جاتا ہے اس گروہ میں چار یا پانچ حصہ دار ہوتے ہیں۔ اس گروہ اور طریقہ واردات کا ایک حقیقی واقعہ جو کہ ابھی تازہ تازہ رونما ہوا ہے تحریر کر رہا ہوں تاکہ آپ اور آپ کے قریبی اس طرح کے فراڈیوں، نوسر بازوں اور پیدا گیروں سے بچ سکیں۔ کیونکہ وکیل اور پولیس میں ان کو سہولتیں میسر ہوتی ہیں اس لئے لوگوں سے لوٹی ہوئی بڑی بڑی رقوم ہڑپ کر کے آزاد گھوم رہے ہوتے ہیں۔ ان کا ٹارگٹ 40یا50کروڑ ہوتا ہے یا اس سے زیادہ اور ٹوٹل عرصہ چار سال سے پانچ سال۔

کام اس طرح شروع ہوتا ہے کہ ایک شخص جو کہ چیف ہوتا ہے وہ ایک کمپنی بناتا ہے اور اس واقعے میں اس نے لفٹر اور ڈیزل کا کاروبار لوگوں کے سامنے شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کرایہ پر لی گئی جگہ کا وہ سودا کرتا ہے کیونکہ انہوں نے پہلے سرمایہ کاری کرنی ہوتی ہے اور ایک سال کے اندر اپنے دوسرے ساتھی نزدیکی ڈیلر پراپرٹی کے ذریعے ایک آفس خریدتے ہیں۔ ان کی واقفیت اس طرح ظاہر کی جاتی ہے اور سودے کے دوران کئی دوستوں اور قریبی ڈیلروں کے سامنے بڑے بے پراہ انداز میں پے منٹ کی جاتی ہے تاکہ پتہ چلے کہ کمپنی مالک کافی پیسے کما رہا ہے اور چند ماہ کے اندر اس نے ایک ڈیڑھ کروڑ کا آفس خرید لیا ہے۔ ایک تیسرا ساتھی بنک والا ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے کھاتہ داروں سے ذاتی تعلق، گھریلو تعلق تک استوار کر کے مختلف انوسٹ منٹس کے ساتھ اس کمپنی کے کاروبار کی تعریف کرتا ہے اور غیر یقینی حد تک منافع کی شرح بتاتا ہے۔ اس کے لئے وہ باقاعدہ تمام سابقہ جعلی دستاویزی ثبوت منافع اور خرید و فروخت دیکھاتا ہے۔ کمپنی مالک چونکہ نہایت چرب زبان، مٹھاس اور کاروباری Terms استعمال کرنے میں مہارت رکھتا ہے، پیسے کے لین دین اور کیش وصولی روم و شکار ایک سے زیادہ مرتبہ کروائی جاتی ہے۔

پراپرٹی ڈیلر بھی موٹی موٹی آسامیاں جو کہ اس پر یقین کر سکیں ان کو ہر روز ایک آدھ پلاٹ، بیعانہ وغیرہ کے چکر میں ڈال، ایک دو لاکھ دنوں میں منافع کروا دیتا ہے تو وہ اسی کے پاس بیٹھے رہتے ہیں۔ چند ماہ میں وہ تین چار ہر ایک انویسٹر کی ڈیل کروا کر اس کے سرمایہ کا اندازہ لگاتا ہے۔ دوسرا اچانک پلاٹ بیعانہ رک جاتے ہیں وہ پریشان ہوتے ہیں لیکن اس دوران کمپنی کا مالک ڈیلر کے دفتر اور ڈیلر پہنچی کے دفتر ان انویسٹرز کے ساتھ ملاقات کے لئے ساتھ لے جاتا رہتا ہے اس دوران تھوڑا بہت تعلق ان کا آپس ڈائریکٹ بھی بنوا دیتا ہے۔ ڈیلر اپنے انویسٹرز سے کہتا ہے کہ آج کل اس نے اپنا سرمایہ اس کمپنی میں لگایا ہوا ہے اور اسے 20لاکھ روپے پر ایک لاکھ یا ایک لاکھ پچاس ہزار روپے مل جاتے ہیں وہ ممبران ہوتے ہیں کہ اتنا زیادہ ماہانہ منافع کہیں سود نہ ہو، لیکن ڈیلر اس کا کاروبار اور اس کی ایمانداری کے قصے بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور صرف ایک ایک یونٹ کی سرمایہ کاری کا مشورہ دیتا ہے اس طرح کو بیس پچیس افراد سرمایہ کاری کرتے ہیں ان کو مقررہ تاریخ پر منافع یعنی سود ملتا ہے پہلے وہ کمپنی مالک منافع خالص کہتا ہے لیکن ایگرمنٹ پر سود لکھوا لیتا ہے تاکہ بعدازاں ان کو سود خود قرار دلوائے۔

اسی طرح بنک والے حضرت بڑی بڑی چھ سات پارٹیوں کو بھی کمپنی مالک سے ملوا کر متاثرہ کروا چکے ہوتے ہیں انہیں ڈیزلیا بیرون ملک ایک اسائمنٹ کے لئے سرمایہ کاری کا کہا جاتا ہے، جو کہ پچاس لاکھ روپے کی ہوتی ہے اس کو مقررہ وقت تک پورا کر کے کوئی پچیس لاکھ منافع دے دیا جاتا ہے اور ایک ڈیل جس میں کوئی دو کروڑ روپے منافع کی ڈیل کے لئے سرمایہ کاری کرنے کے لئے اعتماد بنایا جاتا ہے اس دوران تین چار ماہ میں بے شمار ڈیل وہ بندہ دیکھ چکا ہوتا ہے اسٹاف اور پورا دفتر سٹیشنری، دستاویزات سے بھرا ہوتا ہے تمام اسٹاف ہمہ وقت کچھ نہ کچھ لکھ رہا ہوتا ہے جو کہ لپٹن ہی ہوتی ہے۔ بہر حال آخری سال میں ڈیلر کے انوسٹر ان کے رشتہ دار اور بنک کے بڑے بڑے کھاتہ داران سے اپنا ٹارگٹ 50,40 کروڑ پورا ہوتا ہے اور دفتر بکنے کی جاری کرتی ہے دفتر کو بھی چار بندوں سے یا اس سے زیادہ لوگوں سے آدھی رقم کی ضرورت کے تحت Shipment کلیئر کروا کر مناسب مارکیٹ پرائس پر واپس لے لیں گے ورنہ آپ ٹرانسفر کروا لیں۔ اس طرح اس پراپرٹی کو بھی تین گنا مہنگا بیچ کر دبئی، ملائیشیا جا کر صاحب کال کرتے ہیں کہ میں معذرت خواہ ہوں کہ میں ڈیفالٹ کر گیا ہوں آپ فکر نہ کریں بہت جلد میرے پاس پیسے آ جائیں گے۔

بس چند دن کی بات ہے لیکن اگر میرے خلاف کارروائی کی تو ان لوگوں کو پیسے نہیں ملیں گے۔ ایک عدد وکیل پر وقت لوگوں پر نظر رکھتا ہے۔ ایف آئی آر کے لئے روزانہ چیک کرتا ہے اور وہاں سے ڈیلر انکاری ہو جاتا ہے کہ اس نے کبھی نہ کہا کہ یہاں سرمایہ کاری کرو میرا خود کروڑوں پھنس گیا ہے کیا کروں میں خود برباد ہو گیا۔ کمپنی مالک ہر ایک سے تین دن میں ایک مرتبہ لازمی رابطہ کیا ہے اور ہفتہ کے اندر اندر یا اگلے ہفتے آنے کا وعدہ کرتا۔ اس طرح ہفتے مہینے اور سال گزرنے کے بعد لوگ بے بس ہو جاتے ہیں ان کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہوتے، ایف آئی آر کہاں سے کروائیں، چیک کی تاریخی گزر جاتی ہیں۔ بنک والا علیحدہ ہوجاتا ہے اور وہ ایک دو بدمعاشوں کو ساتھ ملا کر کھاتے داروں کو بھگا دیتا ہے۔

مزید : رائے /کالم