حرمت رسول ﷺ اور ہم 

حرمت رسول ﷺ اور ہم 
حرمت رسول ﷺ اور ہم 

  

نبی کریم ﷺؑ کی ذات اقدس کے حوالے سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی قبیح جسارت کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس پر فرانسیسی صدر کا بیان خوفناک ہے یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام میں شدید اضطراب کی لہر پھیل گئی ہے مشرق ہو یا مشرق وسطی اور چہار سو بسنے والے مسلمانوں نے اس قبیح حرکت کے خلاف، فرانسیسی صدر کے خلاف مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ احتجاج شروع کر دیا ہے کئی ممالک میں متعین کردہ فرانسیسی  سفراء کو بلا کر اقوام کے جذبات پہنچائے گئے ہیں انہیں بتایا گیا ہے کہ مسلمان کیوں اور کتنے مشتعل ہیں کئی مسلم ممالک کے عوام اپنے ملک سے فرانسیسی سفیر کے انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں فرانسیسی اشیاء اور مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی زوروں پر ہے، اہل حرم کا غم وغصہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

محمد عربیﷺ کی ذاتِ اطہر کے بارے میں عیسائیوں،یہودیوں اور ہندوؤں کی جسارتوں کی ایک گھناؤنی تاریخ ہے کہ وہ کس طرح حضور اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس کو مطعون کرتے رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ سرفروشان محمدﷺ کی ایسی کاوشوں کے خلاف جہاد کی بھی ایک عظیم الشان تاریخ ہے اہل حرم قلم اور تلوار دونوں سے ساتھ ملعونوں اور مطعونوں کا قلع قمع کرتے رہے ہیں تاریخ کا کوئی لمحہ، کوئی گھڑی ایسی عظمت کی داستانوں سے خالی نہیں گزری۔

پاکستان،حرمت رسالت اور رسول عربی ؐ کی جاری تحریک میں نہ صرف عالم اسلام کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم ساتھ چل رہا ہے بلکہ ان سے دو ہاتھ آگے نظر آ رہا ہے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے اپنے خطاب میں  نہ صرف پاکستانی عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی ہے،بلکہ وہ اپنی تقریر میں قائدانہ کردار ادا کرتے نظر آئے ہیں۔انہوں نے بڑے حقیقی انداز میں نبیؐ کی ذات مبارک کے ساتھ مسلمانوں کے قلبی و ذہنی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے،مسلمانوں کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی ہے جہاں تک تعلق ہے کہ کیا خاکے بنانے والے مسلمانوں کے ری ایکشن کے بارے میں با خبر نہیں ہوتے؟ کیا وہ مسلمانوں کی اس جذباتیت کے بارے میں کماحقہ آگاہ رہے ہیں،ان کی ایسی قبیح حرکات بڑی نپی تلی اور مبنی بر مسلم دشمنی اور طے شدہ منصوبہ ہوتی ہیں ایسا نہیں ہے کہ وہ یہ سب کچھ ”بھولپن“ یا ”لادینیت“ میں کر جاتے ہیں۔

خلافتِ عثمانیہ کے انہدام سے پہلے اور برصغیر پاک و ہند میں مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد کے عرصے میں اسلام اورمسلمانوں کے خلاف کفار کی مہم جوئی عروج پر رہی اس دور میں اسلام کے خلاف اور بنی آخر الزمان ؐ کی ذات کے خلاف مواد شائع کیا جاتا رہا ہے اس دور میں مسلمانوں نے دفاع اسلام اور دفاع رسالت مابؐ کے حوالے سے شاندار لٹریچر تخلیق کیا مناظروں نے بھی اس حوالے سے شاندار تاریخ رقم کی قادیانیت کا ناسور اسی دورِ فتن کی ایک نشانی ہے ریاست اسرائیل کی ناجائز تخلیق اور مسئلہ فلسطین بھی کفار کی اسی روش کا نتیجہ ہے تخلیق پاکستان کے ساتھ ہی مسئلہ کشمیر بھی اہل حرم کے خلاف کی جانے والی مذکورہ سازشوں کے باعث پیدا ہوا  یورپ اور اقوام مغرب نے 90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مورچہ بندی کی انہیں تہذیب مغرب کا دشمن قرار دے کر ان کا ناطقہ بند کرنا شروع کیا، جبکہ اقوام مغرب کا اسلام فوبیا کا مرض شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے فرانس یورپ اور مغرب کا مرکز اور دماغ ہے وہ اب ایک بار پھر منظم طریقے سے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ مسلمان دہشت پسند ہیں مغرب میں اسلام کے پھیلتے ہوئے فکری و نظری اثرات کو روکنے کے لئے یہ طریق کا ر بڑا کار گرثابت ہوتا رہا ہے

اس طریقے میں کفار کی تسلی بھی ہو جاتی ہے ان کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار بھی ہو جاتا ہے اور اسلام و مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر بھی قائم ہونے لگتا ہے۔ دور حاضر میں یہ حملہ زیادہ موثر اور تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ مسلمان بطور امہ کمزور ہیں معاشی و سیاسی طور پر منتشر ہیں۔ عددی اعتبار سے قابل ذکر ہونے کے باوجود حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔ عالم اسلام ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے فکری انتشار کا شکار ہے ایسے میں گستاخانہ خاکوں کا ایشو اہل حرم میں شدید ا ضطراب کا باعث بن رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اہل حل و عقد اس مسئلے پر عامتہ الناس کی رہنمائی فرمائیں فکری اور نظری طور پر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر عمیق نظری جائزہ لے کر معاملات کو درست سمت میں آگے لیجائیں حرمت رسولؐ اور عشق رسولؐ مسلمانوں کی میراث عظیم ہے ذات نبی ؐ نہ صرف ہمارے ایمان کا حصہ ہے بلکہ محورو مرکز ہے یہ جذبہ،یہ ایمان ایک بہت بڑی قوت ہے اسے درست سمت دے کر ایک طاقتور عملی صورت دیجا سکتی ہے فرقہ واریت کے خاتمے افتراق و انتشار کے عوامل کو شکست دینے اور تہذیبی و تمدنی تعمیر و ترقی کی منظم کاوشیں کی جا سکتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -