جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند 

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند 
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند 

  

جب دنیائے دہرآمد مصطفیٰؐ سے مہک اٹھی تو  محمد عربی ؐ کے اسم مبارک سے ظلمت کدے میں نور کی برسات ہو گئی۔اسی حوالے سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا  نے لکھا ہے، جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند  ، اس  دل افروز  ساعت پہ لاکھوں سلام۔جن کے آنے کی خبر اللہ رب العزت نے تورات میں ”فارقلیط“ کے نام سے دی،عبرانی زبان کے اس لفظ کا مطلب وہی ہے جو عربی میں لفظ محمدؐ  کا ہے،انجیل میں احمد کے نام سے آپ کی تشریف آوری کی خبر دی گئی،اللہ پاک نے محبوب کو کبھی یٰسین اور کبھی طٰہ کے نام سے پکارا اور کبھی مزمل اور مدثر اور کہیں رحمۃ اللعالمین کے نام سے پکار کر آپ سے اظہار محبت فرمایا۔آپ کی آمد دراصل حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرنے کیلئے ہے اسی لئے قرآن مجید میں ارشاد ہے”حق آگیا اور باطل چلا گیا کہ باطل جانے کے لئے ہی ہے“۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ عاشقان اپنے محبوب کی آمد کا جشن منانے کی تیاری میں  مصروف ہوں فرانس کے ایک اخبار کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی وزیر اعظم کی طرف سے خاکوں کی مذمت سے انکار اور اخبار کی حمایت کرنا امن عالم کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے،دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کے بعد رد عمل میں اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو جاتا ہے تو اس پر حیرت کا اظہار کرنے یا مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانے سے بہتر ہو گا، اگر عالم کفر اپنی مذموم حرکات کا جائزہ لے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے، جس سے اشتعال پھیلے۔مسلمانوں کے نزدیک رسول آخر الزماں ؐ کی حرمت، ان کے والدین اولاد ہر قسم کی دولت و جائیداد سے زیادہ ہے،اور یہ محض عقیدہ نہیں بلکہ اللہ رب العزت کا حکم اور قرآن میں ارشاد ہے،فرمایا”تم میں سے کوئی اگر اپنے والدین،اولاد،کھیتی باڑی، باغات، دولت جائیداد سے زیادہ اللہ،اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے محبت نہیں کرتا تو وہ مومن نہیں“۔

عشق محمدؐ ہر مسلمان کا اثاثہ ہے،جس دل میں عشق رسول نہ ہو اسے مردہ قرار دیا گیا ہے،اور عشق کا مطلب اور تقاضا ہے کہ محبوب کی ہر ادا پر جان نچھاور کی جائے،عشق کا لازمی تقاضا ہے اتباع، زندگی کے ہر معاملہ میں یہ دیکھنا کہ اللہ کے رسولؐ ایسے مواقع پر کیا طرز عمل اختیار کرتے تھے،پھر وہ کیسا ہی مشکل ہو اس پر جان جوکھوں میں ڈال کر عمل ہی اصل ایمان ہے،ایسا نہیں تو ہم سب کو اپنے ایمان  پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔رسولؐ اللہ کی ذات با برکات کی عظمت کے حوالے سے قراٰن پاک بھرا پڑا ہے،آج ہمیں اپنے کردار کو اسوہ رسول ؐ  کی روشنی میں جانچنا ہو گا،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ”تمہارے لئے بہترین اسوہ نبی ؐ  کی ذات میں ہے‘ جب گواہی اللہ پاک دے رہے ہیں تو ہمیں کسی اور کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں،سچ یہ ہے کہ اگر آج امت مسلمہ گونا گوں مسائل سے دوچار ہے تو اس کی واحد وجہ حیات طیبہ سے رہنمائی نہ لینا ہے۔

یہ جشن اور خوشی و مسرت کیساتھ ساتھ تجدید ایمان کا بھی موقع ہے،نبی پاکؐ کا ارشاد گرامی ہے”وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا جو بات کرے تو جھوٹ بولے،غصے میں ہو تو بد زبانی کرے،عہد کی پاسداری نہ کرے“اس چھوٹی سی حدیث مبارکہ میں زندگی کی  سچائی اور فلسفہ بیان کر دیا گیا،تاریخ اسلام پر طائرانہ سی نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے،اعلان نبوت سے قبل ہی نبیؐ پاک مکہ اور گردو نواح میں ”صادق اور امین“کے القاب سے شہرت پا چکے تھے اور یہ القاب ان کو مسلمانوں نے  نہیں، ان لوگوں نے دئیے جو اعلان نبوت کے بعد ان کی جان کے دشمن ہو گئے تھے،مگر انہی دو خوبیوں  نے  آپؐ  کو  اللہ پاک کا دین پھیلانے میں بہت مدد دی،ہر شخص ان کی دعوت سن کر سوچتا کہ یہ شخص جو صاق اور امین ہے اس کی بات بھی سچ اور حق ہو گی،اگر چہ اکثر ایمان نہ لائے مگر اکثر آپؐ  کو صادق اور امین جانتے اور مانتے تھے۔

 آپ نے  فرمایا ”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں“……”مسلمان اور کافر میں فرق صرف نماز کا ہے“ارشاد ہے ”جس نے عہد کی پاسداری نہ کی اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں“امانت کی حفاظت کا بھی حکم دیا،معاشرے کو پر امن بنانے والی اس سے اچھی بات ہو نہیں سکتی،فرمایا”جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ نہیں وہ مسلمان نہیں“ان فرامین  عالیشان کی روشنی میں اگر ہم اپنے ایمان کا جائزہ لیں تو روح محمدیؐ سے اپنی زندگی ہمیں عاری دکھائی دیتی ہے،ہماری زندگیاں روشن اور پر ایمان نہیں ہو سکتیں جب تک ہم اسوہ رسولؐ  کو اپنانے کی اپنی سی کوشش نہیں کرتے،درج بالا چھوٹی چھوٹی احادیث کی گہرائی میں جائیں تو ان پر عملدرآمد سے ہم اپنی زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں،آخرت تو اللہ اور بندے کا معاملہ ہے، لیکن اسوہ حسنہ پر عملدرآمد سے ہی ہم آخرت میں بھی خسارے سے بچ سکتے ہیں۔

جب  طیبہ کا  نور چمکا تو چاند مسکرایا،کرہ ارض اور فضاء نور سے منور  ہو گئی، اگر ان کے امتی ہو کر ہماری زندگیاں روشن نہیں ہوتیں تو ہم امتی کہلانے کے لائق نہیں ہو سکتے،ہمیں دیکھنا ہو گا کہ صحابہؓ  کرام نے کس انتہا پر جا کر اطاعت اور اتباع کیا،”قرآن پاک میں بھی اللہ جل شانہؐ کا ارشاد ہے”سنو اور اطاعت کرو“اسلام کا مطلب ہے سلامتی میں آجانا،12ربیع الاول صرف میلاد منانے کا نام نہیں یہ تجدید عہد کا دن ہے،توبہ استغفار کا دن،اللہ سے پچھلے گناہوں کی معافی مانگ کر باقی زندگی رسولؐ خدا کی اطاعت و اتباع اور فرمانبرداری کا عہد کرنے کا دن بھی ہے۔ اگر ہم صرف جھوٹ نہ بولنے کا عہد کر لیں تو آدھی برائیاں ہم سے دور ہو جائیں کہ فرمان عالیشان ہے”جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے“وعدہ خلافی چھوڑ دیں امانت کی حفاظت کریں،اپنی زبان کو بدگوئی،غیبت،چغل خوری سے پاک کر لیں اپنے میں صبر کا مادہ پیدا کر لیں تحمل اور برداشت کا رویہ اپنا لیں تو ہم سچے اور کھرے امتی بن سکتے ہیں ایسے امتی روز محشر جو شفاعت محمدی ؐ کے حقدار قرار پائیں۔اللہ پاک ہم سب کو رسول پاک کا کھرا امتی بنائے اور شفاعت محمدی ؐنصیب کرے،آمین۔

مزید :

رائے -کالم -