مغرب ایک ہاتھ میں آزادی اور دوسرے میں اشتعال انگیزی تھامے ہوئے ہے: جامعہ الازہر

مغرب ایک ہاتھ میں آزادی اور دوسرے میں اشتعال انگیزی تھامے ہوئے ہے: جامعہ ...
مغرب ایک ہاتھ میں آزادی اور دوسرے میں اشتعال انگیزی تھامے ہوئے ہے: جامعہ الازہر
کیپشن:    سورس:   creative commons license(Wikimedia Commons)

  

قاہرہ  (وب ڈیسک) معروف علمی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے عالمی برادری سے مسلمانوں کے خلاف اقدامات کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔

دنیا بھر کے مسلمان فرانس کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف شدید غم و غصے میں ہیں اور کئی ممالک میں احتجاجی مظاہرے اور فرانسیسی اشیاءکا بائیکاٹ بھی جاری ہے۔

مسلم ممالک کے سربراہان میں سے ترک صدر طیب اردوان نے فرانس کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنی عوام سے فرانسیسی اشیاءکے بائیکاٹ کی اپیل کررکھی ہے۔ 

وہیں اب مسلم دنیا کی معروف جامعہ الازہر نے بھی گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔

تقریب سے خطاب میں نے شیخ الازہر نے کہا کہ انتخابات میں ووٹوں کیلئے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے خلاف اقدامات کو جرم قرار دیا جائے، اسلام اور مسلم دشمنی کی روک تھام کیلئے عالمی قانون بنایا جائے۔

ان کا کہناتھا کہ گستاخانہ خاکے اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک ہے اور یہ عمل عالمی قوانین اور اخلاقیات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔شیخ الازہر کا کہنا تھا کہ مغربی دنیا ایک ہاتھ میں آزادی اور دوسرے میں اشتعال انگیزی کی مشعل تھامے ہوئی ہے۔

اسی تقریب میں مصری صدر عبدالفتح السیسی کا کہنا تھا کہ ہم شکوہ یا گالی نہیں دینا چاہتے، صرف ہمارے خلاف (مسلمانوں) اشتعال انگیزی روکی جائے، نبی کریم ﷺ کی محبت اور تعظیم ہر مسلمان کے ایمان کا اٹوٹ انگ ہے۔

ایران کےسپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فرانسیسی صدرکا گستاخانہ خاکوں سے متعلق بیان احمقانہ عمل ہے۔

خامنہ ای نے کہا کہ کیا آزادی اظہار کا مطلب مقدس شخصیات کی توہین کرنا ہے؟ ہولوکاسٹ سے متعلق سوال کرنا جرم کیوں ہے؟ ایسا کرنے والے کو جیل میں کیوں ڈال دیا جاتاہے؟

خیال رہے کہ فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور پھر اس کے حق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیان کے بعد دنیا بھر میں فرانس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور مسلم ممالک میں فرانسیسی اشیاءکے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔

پاکستان نے بھی فرانس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور پارلیمنٹ سے مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے جب کہ پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔

گستاخانہ خاکوں کی سرکاری سرپرستی میں اشاعت کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل ا?زاری کرنے والے ملک فرانس کے وزیرداخلہ جیرالڈ درمانین نے ڈھٹائی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی فرانس کےاندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

مزید :

عرب دنیا -