اپوزیشن سراپا احتجاج لیکن اس کا سب سے مثبت اثر کیا پڑا ؟ سینئر صحافی نے سب کچھ بتا دیا

اپوزیشن سراپا احتجاج لیکن اس کا سب سے مثبت اثر کیا پڑا ؟ سینئر صحافی نے سب کچھ ...
اپوزیشن سراپا احتجاج لیکن اس کا سب سے مثبت اثر کیا پڑا ؟ سینئر صحافی نے سب کچھ بتا دیا

  

اپوزیشن نے حکومت کے خلاف تحریک شروع کی ہے تو اس کا سب سے مثبت اثر یہ ہوا ہے کہ اب کابینہ میں مہنگائی کے خلاف بات ہونے لگی ہے، وگرنہ پہلے تو یہ موضوع شجر ممنوعہ تھا اور ہر وزیر یہی دور کی کوڑی لاتا تھا کہ مہنگائی ہماری پیدا کردہ نہیں، بلکہ یہ ماضی کی حکومتوں کا کیا دھرا ہے۔ اچھا ہوا کہ اب حکومت اس اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہوئی ہے، جو اسے سب سے زیادہ نقصان پہنچا چکا ہے اور جس کی وجہ سے اپوزیشن کو بڑے جلسے کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

شدید مہنگائی میں آپ احتساب اور این آر او کا چورن کب تک  بیچ سکتے ہیں،بھوک بڑھ جائے تو سب کچھ چوپٹ ہو جاتا ہے۔ کہاں کی سیاست اور کہاں کی حکومت، پھر تو صرف عوامی احتجاج کا سکہ چلتا ہے اب تک اپوزیشن کے تینوں جلسے کامیاب رہے ہیں، عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی اپوزیشن ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس میں لوگوں کو باہر نکالنے کا دم خم نہیں رہا، یہ ختم ہو چکی ہے اور تحریک انصاف کا مقبولیت میں دور دور تک کوئی مقابل نہیں، شاید یہی وہ خمار تھا، جس میں مبتلا ہو کر وزیر اعظم اور ان کی کابینہ حالات سے بے پروا ہو کر فیصلے کرتے رہے، مہنگائی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، یہ بھی نہیں سوچا کہ ضروریاتِ زندگی اگر عوام کی پہنچ سے دور ہوگئیں تو ان کے جسم و جاں کا تعلق کیسے برقرار رہے گا؟ اب جبکہ اپوزیشن اس گرم لوہے پر چوٹ لگا رہی ہے تو حکومت کے وزراء اور بہی خواہ بھی خوابِ غفلت سے بیدار ہو رہے ہیں۔ 

یہ صورت حال تو پہلے سے موجود ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی اپنے حلقے کے عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔ جہاں آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں اور گوشت عوام کو نہ مل رہا ہو، اگر ملے تو ان کی قوتِ خرید سے باہر ہو، وہاں ارکان اسمبلی عوام کو کیا بیچ سکتے ہیں؟ کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپوزیشن کی تحریک پر توجہ نہ دیں، کیونکہ وہ صرف احتساب سے بچنے اور لوٹی دولت بچانے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ آج اگر یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے مفاد میں ایک فیصلہ بھی نہیں کر سکی، اُلٹا ان کی زندگی میں ہر نئے دن کے ساتھ مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ تو یہ کوئی  ایسا غلط تاثر بھی نہیں، مَیں نے سفید پوش طبقے کو بھی پریشان دیکھا ہے، غریبوں کی بات ہی ناقابلِ بیان ہو چکی ہے۔

بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر جو قیامت ڈھائی جا رہی ہے، وہ الگ ہے۔ غرض ریلیف نہ دینے کی تو حکومت نے قسم کھا رکھی ہے، ایسے میں اپوزیشن چاہے ذاتی ایجنڈے پر ہی اکٹھی ہوئی ہو، اس وقت وہ عوام کی نظر میں ایک ایسا فرشتہ بنتی جا رہی ہے جو مشکل حالات سے نکالنے کے لئے ان کی مدد کو آیا ہے۔ ایسے میں حکومتی ترجمان اور وزراء اپنی نوکری پکی کرنے کے لئے اپوزیشن کے خلاف جو کچھ مرضی کہتے رہیں، حقیقت یہ ہے کہ وہ اپوزیشن کے جلسوں کا توڑ نہیں کر پا رہے۔ یہ تاثر غلط ثابت ہو رہا ہے کہ اپوزیشن عوامی حمایت کھو چکی ہے اور عوام اس کی بات سننے کو تیار نہیں۔

شنید ہے کہ کابینہ اجلاس میں بعض وزراء نے بیورو کریسی کو حکومت کے خلاف سازش کا مرتکب قرر دیا ہے۔ ایسے وزراء کے بقول سرکاری افسر مہنگائی مافیا کے خلاف کارروائی میں حکومت کا ساتھ نہیں دے رہے، بلکہ انہوں نے اضلاع میں ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ گویا گھوم پھر کر ان وفاقی وزراء نے نزلہ پنجاب حکومت پر گرایا کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف اپنے حکم پر بیورو کریسی سے عمل نہیں کروا پا رہی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سو کامیابیاں ہوں، لیکن ان کی یہ ناکامی سب پر بھاری ہے کہ وہ صوبے میں پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک نہیں کروا سکے راتوں رات قیمتیں بڑھانے والے مافیاز پر گرفت نہیں کر سکے اور سب سے اہم بات یہ کہ صوبے کی بیورو کریسی کو حکومتی اہداف کے حصول کی خاطر یکسو نہیں کر سکے۔

کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اچانک سبزیوں کی قیمتیں کئی سو گنا کیسے بڑھ جاتی ہیں؟ کسی کو خوف نہیں کہ ایک روپے کی چیز اگلے دن دس روپے کی بیچ رہا ہے تو کوئی مجھے پکڑ نہ لے۔ ایک زرعی ملک میں سبزیاں اتنی مہنگی ہو جائیں کہ جتنی آج ہیں تو ضرور اس کے پیچھے کوئی ایسے ہاتھ ہیں جو بے خوفی کے ساتھ عوام کو لوٹ رہے ہیں اور انتظامی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ……  اگر بیورو کریسی حکومت کا حکم نہیں مان رہی تو یہ کس کی ناکامی ہے؟ ویسے تو آئے روز حکمران یہ بیان دیتے ہیں کہ جو افسر کام نہیں کرے گا، اسے گھر بھیج دیں گے لیکن افسر تو ایک بھی گھر نہیں بھیجا جا سکا، کیونکہ حکومت میں اتنی سکت ہی نہیں کہ کڑے فیصلے کر سکے۔

وفاقی وزراء نے کابینہ اجلاس میں مہنگائی کی دہائی دی تو وزیراعظم عمران خان کو بھی کہنا پڑ گیا کہ جب تک مہنگائی ختم نہیں ہوگی، وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے وہ ایسے دل خوش کن بیان دیتے رہتے ہیں، لیکن عملاً ان کے ایسے اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے جو ان بیانات میں حقیقت کا رنگ بھر سکیں۔ انہوں نے چینی سستی ہونے کی نوید سنائی تھی، وہ مہنگی ہوتی چلی گئی۔ آٹا مہنگا بیچنے والوں کو نشان عبرت بنانے کا کہا تو آٹا نایاب ہو گیا، مگر اب ان کے پاس گنجائش نہیں رہ گئی کہ وہ مہنگائی کو بے لگام چھوڑے رکھیں۔ اپوزیشن اب مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ جلسوں کا حجم بڑھ رہا ہے اور حکومت کی مقبولیت کا گراف گر رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کبھی کسی حکومت کو نہیں بچا سکی۔ صرف عوامی حمایت ہی کسی حکومت کو قائم رکھتی ہے، جس کا دائرہ تحریک انصاف کی حکومت کے گرد سکڑتا جا رہا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -