پاک بھارت جنگ کی صورت میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے دنیا کو واضح اور دوٹوک پیغام دے دیا 

پاک بھارت جنگ کی صورت میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے دنیا کو واضح اور ...
پاک بھارت جنگ کی صورت میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے دنیا کو واضح اور دوٹوک پیغام دے دیا 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود احمد خاں نے کہا ہے کہ  اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تو پھر اس خطہ میں کچھ نہیں باقی بچے گا اور جنگ کے اثرات جنوبی ایشیا سے باہر کی دنیا کے لیے یکساں منفی اور تباہ کن ہوں گے،اس لیے ہم بار بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دنیا کے طاقتور ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ بغیر وقت ضائع کیے مداخلت کر کے بھارت کے ہاتھ روکیں ، مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی بند کرائیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائیں۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام راوی روڈ میں منعقدہ کشمیر کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئےسردار مسعود احمد خاں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے،کشمیرمیں آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے،پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے ،ہندوستان خطے میں صرف پاکستان سے ڈرتا ہے،کراچی سے قراقرم تک سب پاکستانی کشمیر کو پاکستان کا عملی طور پر حصہ دیکھنا چاہتے ہیں، امت مسملہ کو کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اٹھانا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حضور ﷺکی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا،فرانسیسی صدر کی ہرزہ سرائی نے مسلم امہ کو متحد کیا،فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے،اہل عرب  ہندوستان سے معاشی معاہدے کرتے وقت کشمیر کی بات کریں،جہاد ہم پر فرض ہے ہم یہ فرض ادا کرتے رہیں گے،اسوہ حسنہ ﷺ کی روشنی میں زندگی گزارنے سے مسلم اُمہ ترقی کرسکتی ہے ،میکرون فسطائیت کی راہ پر گامزن ہے،سرینگر اور لال قلعہ پر پاکستانی پر چم لہرائیں گے،کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں 1989سے لے کر اب تک ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے،مستقبل میں پاک چین ملٹری تعاون کے امکانات موجود ہیں چونکہ ہندوستان آزادکشمیر پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، نئی ابھرتی ہوئی صورتحا ل کے پیش نظر اگر ہندوستان اور پاکستان یا ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ چھڑی تو یہ کووڈ 19-سے بھی زیادہ خطرناک ہو گی، خطے کو ممکنہ جنگ سے بچانے کے لئے تجاویز پیش کیں کہ بین الاقوامی برادری کو ہندوستان کو روکنا ہو گا کہ وہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے سے باز رہے اور اپنے دو ملین لوگوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنے کے منصوبے کو فوری طور پر ترک کر دے نیز بین الاقوامی برادری کو ہندوستان پر دباؤ ڈالنا ہو گا کہ وہ کشمیریوں کے قتل عام کو فوراً روک دے اور فوری طور پر مسئلہ کشمیر کے پرامن اور دیرپا حل کے لئے کشمیریوں کو حق خودارادیت دے۔ صدر آزاد کشمیر نےہندوستان کےخلاف بی ڈی ایس مہم شروع کرنےپربھی زور دیااور کہاکہ او آئی سی کےرکن ممالک کوچاہیےکہ وہ  ہندوستان سے نان حلال گوشت اور نان حلال مصنوعات کی درآمدات پر فوراً پابندی عائد کر دینی چاہیے،پاک چین مشترکہ جنگی مشقیں ہونی چاہیے،پاکستان اور چین ایک دوسرے کی قوت بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے دنیا بھر میں چین کے بہت سے دوست ہیں، اسی طرح پاکستان کو بھی اپنے دوست ممالک کی تعداد بڑھانی چاہیے،بھارت کو پتہ ہے کہ وہ چین سے نہیں لڑ سکتا اس لیے وہ اپنا غصہ پاکستان پر نکال سکتا ہے، دہشت گردی کے حملے سمیت پاکستان میں دیگر دہشت گرد کارروائیوں میں را ملوث ہے،ٹرمپ نے بھارت کو بھی صاف جواب دیا ہے، ہائبرڈ جنگ پہلے سے ہی جاری ہے،ہمیں اس کیلیے مزید بھی تیاری کرنا ہو گی۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر ساجد میرنے کہا کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے خطرات نہیں ٹلیں گے، ہمیں دشمن کے عزائم کو بھانپتے ہوئے ہندوستان سے اٹھنے والے طوفان سے لڑنے کے لیے ہر سطح پر تیاری کرنا ہو گی، ہندو توا کے پجاری صرف ہندوستان اور کشمیرسے مسلمانوں کا خاتمہ نہیں چاہتے بلکہ اپنی سرحدوں کو کوہالہ، آزاد پتن اور واخان تک لانے کی سازشیں بھی کر رہے ہیں اور برملا اعلان بھی کر رہے ہیں،مسئلہ کشمیر توجہ کا منتظر ہے کیونکہ بھارت کشمیر میں قبضہ کی آڑ میں انسانی حقوق کی جو دھجیاں بکھیر رہا ہے اس سے دنیا کی آنکھیں نم کیوں نہیں ہو رہیں؟۔

علامہ ابتسام لہی ظہیر نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف دو ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے جو کہ انسانوں کی خاطر حل ہونا چاہیے،جانوروں کے حقوق، پرندوں اور آبی حیات کے حقوق کی بات کی جاتی ہے جِس کے حل کے لیے پوری دنیا فکر مند ہے اور حل کے لیے ایک چھت تلے جمع ہو رہے ہیں مگردنیا کی انسانیت کو در پیش مسائل کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ خصوصاًکشمیر کے مسلمانوں کی کیوں نہیں؟کیا کشمیری اِس دنیا میں اجنبی ہیں؟ان کا اِس دنیاسے کوئی تعلق نہیں؟ کیا وہ انسان نہیں؟ کیا ان کو جینے کا حق نہیں؟۔

مرکزی جمعیت  اہل حدیث آزاد کشمیر کے ناظم اعلی دانیال شہاب نے کہا کہ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کاوشوں، تیسرے ملک کی ثالثی اور دونوں فریقین کے درمیان باہمی اعلی سطح مذکرات، معاہدے اور اعلانات کے باوجود اس کا کوئی ٹھوس اور مثبت نتیجہ نہیں آ سکا ہے۔بلکہ گزشتہ 5 اگست سے نریندر مودی کے اقدامات سے کشمیر کا مسئلہ نیا رخ اختیار کرکے مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔مودی کے ان یکطرفہ اقدام کے خلاف پاکستان کا فوری ردعمل فطری ہے۔اس سلسلے میں پاکستان عالمی سطح پر سیاسی،سفارتی اور اخلاقی دباو ڈالنے کی اپنی تگ و دو کر رہا ہے جبکہ اس کے ساتھ ملک کے اندر کشمیر کے بارے میں منعقد جلسے جلوسوں اور ریلیوں میں ”کشمیر بنے گا پاکستان”کے نعرے کا نئے جذبے کے ساتھ اعادہ بھی کیا جا رہا ہے۔

کانفرنس سے مولانا عبدالرشید حجازی،مولانا عتیق الرحمن شاہ، ڈاکٹر ریاض یزدانی، حافظ معتصم الہی ظہیر، حافظ بابر فاروق رحیمی، حاجی نوا ز مغل، حافظ یونس آزاد، شوکت ضیاء اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -