کالعدم تحریک کا احتجاج اور علمائے کرام

کالعدم تحریک کا احتجاج اور علمائے کرام

  

پنجاب میں دو ماہ کے لئے رینجرز کو طلب کر لیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دستور کی دفعہ147 کے تحت رینجرز کو یہاں تعینات کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کو اختیار ہو گا کہ جہاں اور جس وقت چاہے اس کے دستوں کو استعمال کرے۔گویا پولیس حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، رینجرز کی معاونت لازم ہو گئی ہے۔کالعدم تحریک طالبان کا مارچ اسلام آباد کی طرف جاری ہے۔حکومت سے مذاکرات کے دوران یہ طے ہوا تھا کہ مظاہرین منگل تک مریدکے میں ٹھہریں گے،ان کے ساتھ معاملات کو حتمی شکل دینے کے بعد جی ٹی روڈ کھول دی جائے گی۔اسیر ر ہنما اور کارکن رہا ہو جائیں گے،اور مارچ کے شرکا منتشر ہو جائیں گے۔شیخ رشید نے متحدہ عرب امارات سے لاہور واپس پہنچ کر مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے بعد حالات قابو میں آنے کا تاثر دیا تھا،اور مذکورہ تحریک کے بارے میں بھی خیر سگالی کے جذبات یہ کہہ کر ظاہر کئے تھے کہ ووٹ بنک کے اعتبار سے یہ پنجاب کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے،لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ حکومت کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔کالعدم تحریک کے رہنما سعد رضوی جیل میں ہیں۔ان کے کئی اہم افراد کے بارے میں بھی یہی تبایا جا رہا ہے کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اُس کے جو بھی ذمہ دار آزاد ہیں،اور مارچ کو ہدایات جاری کر رہے ہیں،ان کا موقف سامنے نہیں آ رہا۔میڈیا ان کی کوریج نہیں کر پا رہا،اس لیے وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا نقط نظر کیا ہے؟ وزیر داخلہ کی باتوں سے تو یہی مترشح ہوتا ہے کہ فرانس کے سفیر کے حوالے سے بات آگے نہیں بڑھ سکی،انہوں نے واضح کیا ہے کہ اولاً تو اِس وقت فرانس کا کوئی سفیر اسلام آباد میں موجود ہی نہیں ہے(ناظم الامور فرائض انجام دے رہے ہیں)۔ دوسرے یہ کہ حکومت فرانس کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کر سکتی کہ،اس کا شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ کالعدم تحریک کا ایجنڈا کچھ اور ہے، اسے بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے۔اگر یہ لوگ اب بھی واپس (گھروں کو) چلے جائیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا،بصورتِ دیگر کارروائی ہو گی۔انہوں نے کالعدم تحریک کو متنبہ کیا کہ اس  کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں،اور اس کے متعلقین کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ تحریک لبیک کو عسکری تنظیم کے طور پر لے رہے ہیں،اور اس کے ساتھ اسی حوالے سے برتاؤ کیا جائے گا۔ یہ ایک شرپسند گروپ ہے جس نے وطیرہ بنا رکھا ہے کہ کسی نہ کسی بہانے گھر سے نکلو اور سڑکیں بلاک کر دو۔ ریاست کے صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔اس صورتِ حال کو کسی طور برداشت نہیں کیا جائے گا،ہم نے القاعدہ جیسی تنظیم کو دھول چٹائی ہے،پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ پہلے کئی مرتبہ یہ تماشہ لگ چکا ہے۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اب تک پانچ پولیس اہلکار اس تحریک کے لوگوں کے ہاتھ شہید ہو چکے ہیں۔27 کلاشنکوف بردار سادھوکی میں ان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔اب اس تحریک کو دوسری دہشت گرد تنظیموں کی طرح ٹریٹ کریں گے۔پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل راؤ سردار علی نے بھی میڈیا کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایک ہی دن میں سیدھی گولیاں مار کر پولیس کے دو اہلکاروں کو شہید اور309 کو زخمی کر دیا گیا ہے۔اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتے کہ کوئی مذہبی گروہ پور ے ملک کو یرغمال بنا لے۔ وفاقی وزرائے کرام اور پنجاب پولیس کے سربراہ نے حالات و واقعات کی جو تفصیل بیان کی ہے، وہ ہر پاکستانی کے لیے باعث تشویش ہے۔ کالعدم تحریک کے کارکن بہرقیمت اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دینا، اور اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں، جبکہ حکومت ان کا راستہ روکنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ کالعدم تحریک کے قریبی حلقے یہ بتا رہے ہیں کہ ان کے مطالبات اپنے اسیروں کی رہائی،اور تنظیم پر پابندی کے حوالے سے ہیں،اگر یہ مان لیے جائیں تو ان کا احتجاج ختم ہو جائے گا۔جہاں تک فرانسیسی سفیر کا تعلق ہے یہ بات طے پائی تھی کہ اس کا معاملہ پارلیمینٹ کے سامنے پیش ہو گا، وہاں جو بھی فیصلہ ہو گا اسے قبول کر لیا جائے گا، اس لیے فرانسیسی سفارت خارنے کو بند کرانے یا سفیر کو نکالنے کے حوالے سے حکومت جو کچھ کہہ رہی ہے، کالعدم تحریک اسے قبول نہیں کرتی۔

کسی بھی فریق کی بات کو تسلیم یا ردّ کیے بغیر یہ بات بہرحال کہی جا سکتی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے اثرات اچھے نہیں ہوں گے۔تحریک لبیک جذباتی مذہبی نعروں سے وجود میں آئی،اور آج بھی یہی اس کی طاقت ہیں۔ماضی میں ریاستی ادارے اس کی حوصلہ افزائی کے مرتکب بھی ہوتے رہے ہیں۔آج کے حکمرانوں کے اگر ماضی کے بیانات اکٹھے کر لئے جائیں تو ان کی آج کی باتوں کا وزن کم ہو کر رہ جائے گا۔ لیکن اس بحث میں الجھے بغیر یہ گذارش کی جا سکتی ہے کہ حکومت اور کالعدم تحریک کے جذباتی رہنماؤں اور کارکنوں کو تصادم سے گریز کرنا چاہئے۔خون خرابہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہو گا۔ علمائے کرام اور مذہبی سیاسی رہنماؤں کے ذمہ داروں پر لازم ہے کہ زبانی جمع خرچ کے بجائے آگے بڑھیں، اور مفاہمت کا راستہ نکالیں۔جذباتی نوجوانوں کو سمجھائیں، اور حکومت کا ہاتھ بھی روکیں۔طاقت کا استعمال کسی گروہ یا جماعت کو زیب نہیں دیتا۔ ہر جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں ہونی چاہئے،اس حوالے سے دو  رائے پائی نہیں جا سکتیں۔پاکستان کا نظام ایک تحریری دستور کے تحت چل رہا ہے،اس کے مطابق پُرامن احتجاج ہی کی اجازت ہے۔ حکومت مخالف سیاسی رہنماؤں نے تاحال جلتی پر تیل نہیں ڈالا،ذمہ دارانہ انداز میں حالات کو سنبھالنے پر زور دیا ہے۔حکومت کو موثر اور جید علما سے خود بھی رابطہ کرنا چاہیے،تاکہ بڑے تصادم کا خطرہ ٹل جائے۔طاقت کا استعمال کی بھی طرف سے ہو،اس پر مسرت کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -