پاکستان ایک امید!

 پاکستان ایک امید!
 پاکستان ایک امید!

  

پاکستان نے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے اپنے پہلے میچ میں روایتی حریف انڈیا کو دس وکٹوں سے شکست دے کر ایسی دھول چٹائی کہ مدتوں یاد رکھے گا۔ یہ میچ جیت کر ٹیم نے پاکستانی عوام کے دل بھی جیت لئے۔ یہ خوشی کا مقام تو ہے ہی‘ اس میں ایک سبق بھی ہے کہ اگر مخالف کا خوف اپنے اعصاب پر طاری نہ ہونے دیا جائے اور حوصلے‘ صبر اور حکمت عملی کے تحت آگے بڑھا جائے تو بڑے سے بڑا معرکہ بھی سر کیا جا سکتا ہے اور بڑی سے بڑی مشکل پر قابو بھی پایا جا سکتا ہے۔ ماضی میں ہونے والے کئی کرکٹ میچ ہماری ٹیم نے محض حوصلہ ہارنے کی وجہ سے کھو دیئے۔ کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن میرا آج کا موضوع کرکٹ نہیں‘ کچھ اور ہے۔ دو روز پہلے ہونے والے میچ میں بھی جب درکار رنز دستیاب بالز سے بیس پچیس زیادہ ہو چکے تھے تو میچ ہاتھ سے جاتا محسوس ہوا‘ لیکن ہمارے دونوں کھلاڑیوں بابر اعظم اور محمد رضوان نے جس طرح سکور بورڈ کو متحرک رکھا وہ سراہے جانے کے قابل ہے۔ انہوں نے چوکے چھکے تو لگائے ہی‘ جہاں ضرورت ہوئی اور موقع ملا سنگل اورڈبل رنز بھی بنائے۔ سوشل میڈیا پر یہ میچ ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔ ٹویٹر پر جہاں صارفین دل کھول کر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو داد اور مبارکبادیں رہے ہیں وہیں کچھ صارفین ایسے بھی ہیں جو انڈیا کی شکست کے بارے میں میمز شیئر کر رہے ہیں۔ بی بی سی کا یہ تبصرہ بالکل درست ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک کرکٹ میچ تو دبئی کے سٹیڈیم میں ہوا لیکن ایک دوسرا میچ سوشل میڈیا پر صارفین کے درمیان بھی جاری رہا۔

میرا آج کا موضوع یہ ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف شاہینوں کی تاریخی فتح پر سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ برطانیہ‘ امریکا‘ جنوبی افریقہ‘ کینیڈا‘ ترکی‘ فرانس‘ جرمنی سمیت دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں نے تو جشن منایا ہی اور مٹھائیاں بھی تقسیم کیں‘ لیکن سکھوں نے جشن کیوں منایا؟ پھر بھارت کے کچھ حصوں میں پاکستان کی جیت کا جشن کیوں منایا گیا اور خوشی میں پٹاخے کیوں چلائے گئے؟ پھر بنگلہ دیش میں بھی بڑی سکرینوں پر میچ دیکھا گیا اور بھارت کی شکست کا جشن منایا گیا۔ ڈھاکہ میں شائقین کرکٹ نے پاکستان کی جیت کی خوشی کیوں منائی؟ آخر کیا وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی پاکستان کی جیت کا جشن منایا گیا اور پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی گئی؟ ان سب علاقوں میں پاکستان کی جیت کا جشن اس لئے منایا گیاکہ ان لوگوں کے لئے پاکستان ایک امید ہے‘ ایک روشنی اور حوصلے کی ایک علامت۔ اس کی ایک وجہ تو پاکستان کی اعتدال پر مبنی پالیسیاں ہیں اور دوسری وجہ بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی ہے جس نے بھارت میں کسی اقلیت کے لئے چین سے رہنا ناممکن بنا دیا ہے۔ پڑوسی ملک میں ہندو انتہا پسندی کس قدر بڑھ چکی‘ اس کا اس امر سے لگائیں کہ کچھ عرصہ قبل اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مسلم انتہا پسندی کے خطرے کے بارے میں دنیا بھر کے سربراہوں سے گفت گو کر رہے ہیں، لیکن بھارت کو لاحق حقیقی خطرہ انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے ہے جن کی بدتمیزیوں اور اسلام مخالف تعصب سے خود مودی کی اپنی جماعت بھی محفوظ نہیں ہے۔ اب اسرائیل کی مسلم دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس کے باوجود اسرائیلی اخبار اگر یہ کمنٹس دے رہا ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت میں انتہا پسند کی شدت کیا ہو گی۔ اسی طرح کچھ عرصہ پہلے امریکی کانگریس کی کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ چند دہائیوں سے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلتے ہوئے پُرتشدد واقعات سے بھارت میں سیکولرازم کی جڑیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور ہندو انتہا پسندی اور پرتشدد واقعات سمیت ریاستی سطح پر قانون سازی، گاؤ رکشک بل، غیر سرکاری تنظیموں کو حاصل آزادی پر قدغن بھارتی ریاست کے بنیادی نظریے کو مسخ کر رہے ہیں۔ اسی بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی کی وجہ سے بھارت میں اقلیتیں پاکستان کو اپنے لئے ایک امید‘ ایک روشنی تصور کرتی ہیں۔

بنگلہ دیش کے یوں تو بھارت کے ساتھ تعلقات دوستانہ نظرآتے ہیں لیکن دونوں کے مابین سرحدی تنازعات بھی چل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں بنگلہ دیش سے بھارت آ کر کام کرنے والوں کو بھی ہندو انتہا پسندی کی وجہ سے مسائل اور دشواریوں کا سامنا ہے۔ پھر بنگلہ دیش ایک مسلم آبادی والا ملک ہے جو بھارت میں ہونے والے سلوک کو محسوس کرتا ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دیش بھی بھارت میں ان مسلمانوں کے بارے میں بہت تشویش میں مبتلا ہے جنہیں شہریت ایکٹ 1955 میں ترمیم کے تحت امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ ان سارے حالات میں بنگلہ عوام بھی پاکستان کو ہی بھارتی انتہا پسندی کا سدِباب سمجھتے ہیں۔ ترکی اور سعودی عرب تو ہیں ہی پاکستان کے فطری اتحادی۔ پاکستان کی فتح پر وہ جشن نہیں منائیں تو کون منائے گا؟ 

اس ساری بات چیت کا مقصود یہ بتانا ہے کہ پاکستان اس خطے اوراس خطے سے باہر بھی کروڑوں بلکہ اربوں افراد کے لئے ایک امید ہے‘ روشنی کی ایک کرن ہے۔ اس کرن کو بجھنے سے بچانا ہے بلکہ مزید اجاگر کرنا ہے۔ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پاکستان نہ ہو تو اس خطے میں بسنے والے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کا ہندو انتہا پسند کیا حشرکر دیں۔ ضروری ہو چکا کہ اس ملک کو پس ماندگی کے اندھیروں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا: 

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

میرے خیال میں تو ان کا یہ شعر پاکستان پر بالکل ٹھیک بیٹھتا ہے۔ ہمارے ملک میں سب کچھ موجود ہے۔ ضرورت صرف اسے منظم اور مرتب کرنے کی ہے۔ یہ ہو جائے تو پاکستان کو ترقی کی اس راہ گامزن کیا جا سکتا ہے جس کا خواب اس ملک کی بنیادیں رکھنے والوں نے دیکھا تھا۔ یہ ناممکن نہیں‘ بالکل ممکن ہے۔ ہمیں کرنا یہ ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر ملک کے مجموعی مفاد کو پیشِ نظر رکھیں اور ایسی زیرک قیادت کا انتخاب کریں جو ویژن رکھتی ہو کہ ملک کو آگے کیسے بڑھایا جا سکتا ہے اور عالمِ اسلام کی رہنمائی کیسے کی جا سکتی ہے۔ ان گھروں میں روشنی کیسے کی جا سکتی ہے، جس کے باسی پاکستان کو امید کی کرن سمجھتے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -