ڈینگی اور کچھا گروپ

ڈینگی اور کچھا گروپ
ڈینگی اور کچھا گروپ

  

اُمت مسلمہ آزمائش میں ہے، کورونا کی وبا کا زور اللہ اللہ کر کے کم ہوا ہے تو ڈینگی نے ڈیرے ڈال لئے ہیں،روزانہ متاثرہونے والوں کی تعداد بے لگام ہو رہی ہے،سموگ کی تازہ لہر تمام حدود پار کر رہی ہے،ماہرین نے بلاوجہ گھروں سے نکلنے سے منع کر دیا ہے۔غریب اور متوسط طبقہ جس کی سفید پوشی کا بھرم مہنگائی نے توڑ دیا ہے،اب تو امیر بھی بڑھتے ہوئے اخراجات سے سر پکڑے بیٹھا ہے۔پٹرول، بجلی اور گیس کے ساتھ روزمرہ استعمال کی اشیاء گھی، چینی، آٹا کی ایک ماہ بعد بڑھنے کی خبریں دم توڑ گئی ہیں،15 دن بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا خوف حکومت نے یہ کہہ کر پورا کر دیا ہے۔مارچ22 تک پٹرول میں مسلسل اضافہ ہو گا، اہل ِ پاکستان ذہنی طور پر اپنے آپ کو تیار کر لیں، گھی روزانہ 5سے10 روپے مہنگا ہونا معمول بن گیا ہے، بیمار ہونا رحمت الٰہی سمجھا جاتا ہے،گناہوں کے خاتمے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جو حالات پنجاب حکومت بالعموم اور دیگر صوبوں میں بالخصوص ہسپتالوں کے ہو گئے ہیں، غریب تو غریب امیر آدمی کی بھی ہسپتال کے نام سے جان جاتی ہے۔ کورونا  کے مہنگے ٹیسٹ کو ابھی عوام بھول نہیں پائے،اب ڈینگی کا 100روپے کا ٹیسٹ جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ ایک دفعہ 100روپے دے کر ڈینگی ہونے کا سرٹیفکیٹ ملنا ہے اور پھر پلیٹ لیٹس کی اپ ڈیٹ رپورٹ کے حصول کے لئے ڈینگی کے مریض کے ساتھ جو کھلواڑ ہو رہا ہے اس سے موجودہ حکومت کے خلاف نفرت بیزاری اور میاں شہباز شریف کے اقدامات عوام کو یاد آنے لگے ہیں۔

میاں شہباز شریف سے اختلاف رکھنے والے اور کھل کر مخالفت کرنے والے بھی سرعام کہتے نظر آتے ہیں،ڈینگی جتنا خطرناک ہے میاں شہباز شریف نے اس کے خلاف جنگ بھی اتنے ہی بڑے اور منظم انداز میں لڑی ہے۔ مجھے یاد ہے جب ڈینگی شروع ہوا تو گزشتہ حکومت میں بالعموم اور پنجاب حکومت میں بالخصوص میاں برادران کے ہنگامی اقدامات قابل ِ ستائش تھے۔ڈینگی وارڈز  ہر ہسپتال میں قائم کی گئی اور ہر ضلع میں ڈینگی کے لئے ایک ہسپتال مخصوص اور پھر اداروں کو جس انداز میں فعال بنایا،ڈینگی کی ادویات کی ہسپتالوں میں فراہمی کو یقینی بنایا آج ڈینگی کے مریض کو سرکاری ہسپتال میں لے جایا جاتا ہے تو عملے کی پہلی کوشش ہوتی ہے اس کو داخل ہی نہ کیا جائے،مریض اور لواحقین کو راضی کرتے ہیں کہ آپ جناح میں لے جائیں، جناح والے سروسز ہسپتال کا مشورہ دیتے ہیں، ڈینگی کے ہسپتال میں بیڈ نہ ہونے،ادویات نہ ہونے کا رونا رویا جا رہا ہے، اندھیری نگری ڈینگی کا سپرے اگر آپ بڑی سفارشوں کے بعد عملے کو اپنے علاقے میں لانے کے لئے کامیاب ہو جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ پٹرول کے دھواں سے ڈینگی مچھر تو نہیں مرا البتہ گھر والے گلے اور سانس کی بیماری کا شکار ہو گئے۔ اللہ بھلا کرے الخدمت فاؤنڈیشن والوں کا،وہ ایک دفعہ پھر کورونا کے بعد ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے میدان میں آ گئے ہیں۔انہوں نے اس کے لئے لاہور میں ہیلپ لائن قائم کر رہے ہیں، افسوس اس بات کا ہوتا ہے حکومت کہاں ہے اس کے ادارے کہاں ہیں، کیا حکومتی ادارے وزیراعظم کے پروٹوکول کے خاتمے کے اعلان پر عملدرآمد کروانے میں مصروف ہیں۔

کیا وزیراعلیٰ پنجاب کے لاہور میں تجاوزات ختم کرانے کے نعرے پر عمل درآمد کروانے میں مصروف ہیں، کیا بجلی اور گیس کنکشن بغیر رشوت لگنے کے عمل کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں،کیا سرکاری ادارے انصاف کے آسان حصول کے لئے عدلیہ میں اصلاحات میں مصروف ہیں، کیا وفاقی اور صوبائی ادارے منڈیوں میں عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی کے لئے مصروف عمل ہیں، عام آدمی سے سوال کیا جائے اس کا جواب نفی میں ہو گا، محاورہ ہے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، نفسا نفسی کی دوڑ میں ہر فرد دوسرے کو روندتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ بات دوسری طرف نکل گئی، ڈینگی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے ایمرجنسی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔شہباز شریف کے اچھے اقدامات کو دوبارہ نافذ کرنا چاہئے۔حقیقت جانیے عوام بڑی تکلیف میں ہیں، شاید ہمارے اعمال ایسے ہیں ایک کے بعد ایک آزمائش سر اٹھا رہی ہے، کورونا گیا، ڈینگی آ گیا، جتنی تیزی سے لپیٹ میں لے رہا ہے اللہ ہماری حفاظت فرمائے، سموگ پھن پھیلائے کھڑی ہے۔میرے کالم کا عنوان ڈینگی اور کھچا گمروپ دیکھ کر قارئین کو حیران نہیں ہونا چاہئے ہم وہ قوم ہیں جو دوسروں کی نقل  کو اپنی عقل سمجھتے ہیں، پہلے انڈیا کی ثقافت ہمارے اوپر سوار تھی، پھر مغرب مختلف انداز میں ہمارے اوپر حملہ آور ہو رہا ہے، کبھی ہم نیکانوں میں بالیاں ڈال کر،اور کبھی نوجوانوں نے خواتین کا لباس پہن کر اور کبھی بال لمبے کر کے پونیاں باندھ کرہم نے اپنی اخلاقیات کا جنازہ نکالا۔اب ہماری نوجوان نسل تو نوجوان نسل ادھیڑ عمر اور بزرگ بھی مغرب کے رنگ میں رنگنے کے لئے بیہودہ سٹائل کی نیکریں پہن کر گلی محلوں حتیٰ کہ مساجد میں آنے سے  بھی گریز نہیں کرتے۔

دِل دکھانے والی بات 15سالہ بچہ کچھا پہن کر40سالہ نوجوان نیکر پہن کر جب اپنی بیٹی، بہن کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر یا گاڑی میں بٹھا کر سکول یا یونیورسٹی آتے ہیں، ماریکٹ میں شاپنگ کروانے آتے ہیں تو سنجیدہ طبقہ تو اپنی جگہ عام آدمی کے بھی سر شرم سے جھک جاتے ہیں، کون سی ثقافت کے پیروکار ہیں، کس قسم کی اپنے بچوں کی تربیت کر رہے ہیں، ناسمجھی اور سادگی میں ہم معاشرے میں وہ بیج بو رہے ہیں،جس کی فصل ہماری آنے والی نسل کو کاٹنا پڑے گی۔ خدارا اپنے اردگرد ایسے نوجوانوں،بڑوں کو ضرور توجہ دلائیں جو کھچا پہنے اپنی بچی کو سکول کالج لے کر آئیں یہ وہ نوجوان ہیں جو نماز تو دور کی بات ہے منہ بھی نہیں دھوتے،لیکن والدین کی فرمابرداری میں بیٹی اور بہن کو کھچا اور آدھی پینٹ(نیکر) پہن کر کالج چھوڑنے آ جاتے ہیں،یہ ہمارے معاشرے کا ایسا المیہ ہے، جس کو روکنے کے لئے بیدار مہم کی ضرورت ہے،اینکر، دانشور، پرنٹ اور الیکٹروانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا کو ذمہ داری کا ثبوت دینا ہو گا ورنہ ناسمجھی میں مغرب کی نقل میں ہم اپنی آنے والی نسل کو آدھا تتر اندھا بٹیر بنا رہے ہیں،جو اخلاقی  بگاڑ کی بنیاد رکھ رہے ہیں،جس کا خمیازہ ہماری نسل نسل کو بھگتنا پڑے گا۔ اللہ بھلا کرے کورونا کا جس نے بے لباس خواتین کو لباس پہننا سیکھا دیا، دوپٹے کو عذاب سمجھنے والوں کو چہرہ پر نقاب لینے پر مجبور کر دیا،اب ڈینگی کی تباہ کاریاں اپنی جگہ،مگر فائدہ یہ ہوا ہے عارضی طور پر نیکر اور کچھا کے شوقین بڑھتے ہوئے مریضوں سے خوف کھانے لگے ہیں اور پورا لباس پہننا شروع کر دیا ہے، پتہ نہیں ڈنڈے کی زبان سمجھنے والی قوم اپنی حقیقی اقدار کی طرف کب واپس لوٹے گی۔

مزید :

رائے -کالم -