میزانِ عمل کے وزنی اعمال!

  میزانِ عمل کے وزنی اعمال!

  

 مولانا محمد الیاس گھمن

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس سے ہمارا میزان اعمال وزنی ہو جائے اور نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں مل جائے۔ یوں تو قرآن و سنت میں مذکور تمام احکام اسلامیہ ایسے ہیں جن کے کرنے سے میزانِ  اعمال وزنی ہوتا ہے اور نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملنے کی بشارات ہیں لیکن یہاں پر احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مختصراً چنداعمال کا تذکرہ کیا جاتا ہے جن کے تذکرے کے ساتھ میزان اعمال کے وزنی ہونے کی صراحت موجود ہے۔ 

میزان عمل برحق ہے:

قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں:قیامت والے دن میزان عمل کا قیام برحق ہے، جن(کے نیک اعمال)کا پلڑا بھاری ہوگا(یعنی گناہوں سے نیکیاں زیادہ ہوں گی)وہی لوگ حقیقت میں کامیاب ہونے والے ہوں گے اور جن(کے نیک اعمال) کا پلڑا ہلکا ہوگا (یعنی نیکیوں سے گناہ زیادہ ہوں گے)یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری نازل کردہ آیات کے ساتھ بے پرواہی کا معاملہ کرکے خود کو نقصان اٹھانے والا بنایا ہے۔(سورۃ الاعراف، رقم الآیات: 9،8)

میزان عمل برائے عدل وانصاف:

قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں:اور قیامت والے دن ہم ایسی ترازو رقائم کریں گے جو سراپا انصاف ہوں گی چنانچہ کسی پر کچھ بھی ظلم نہیں ہوگا اور کسی کا کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے سب کے سامنے لے آئیں گے اور حساب لینے کے لیے ہم خود ہی کافی ہیں۔(سورۃ الانبیاء، رقم الآیۃ: 47)

میزان عمل کی وسعت و فراخی:

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن(اعمال کا وزن کرنے کے لیے)جومیزان(ترازو)رکھی جائے گی وہ اس قدر بڑی ہوگی کہ اگر اس میں آسمانوں اور زمینوں کو رکھ دیا جائے تو وہ بھی اس ترازو میں سما جائیں۔ فرشتے عرض کریں گے اے پروردگار! یہ ترازو کس کے اعمال کا وزن کرے گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں اپنی مخلوق میں سے جس کے  بارے میں چاہوں گا اس کے اعمال کا وزن کروں گا۔ فرشتے عرض کریں گے کہ تیری ذات پاک ہے ہم نے(اپنی تخلیق کے وقت سے لے کر اب تک مسلسل مصروف عبادت رہ کر بھی)تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے۔(المستدرک علی الصحیحین، رقم الحدیث:8739)

میزان عمل اور کلمہ توحید:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی اے میرے پروردگار!مجھے کوئی ایسا کلمہ بتائیں جس کے ساتھ میں آپ کو یاد کروں اور آپ سے دعا مانگوں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے موسیٰ! لا الہ الا اللہ والے کلمہ کے ساتھ میرا ذکر کرو اور مجھ سے دعا مانگو! حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی کہ اے میرے رب!یہ کلمہ تو آپ کے تمام موحد بندے کہتے ہیں۔میں نے اپنے لیے  بطور خاص آپ سے وظیفہ / ذکر مانگا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میرے موسیٰ!میرے علاوہ اگر ساتوں آسمان اور اس کے آباد کرنے والے ملائکہ اور ساتوں زمینیں میزان عمل کے ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں اور لا الہ الا اللہ کا مبارک کلمہ دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو یقیناً لا الہ الا اللہ والا پلڑا اجر و ثواب کی وجہ سے جھک جائے گا۔(شرح السنۃ للبغوی، رقم الحدیث: 1273)

میزانِ عمل  اور کلمہ شہادت:

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ قیامت والے دن میرے ایک امتی کو تمام لوگوں کے سامنے لائیں گے جس کے ننانوے رجسٹر گناہوں سے بھرے ہوئے ہوں گے اور ہر رجسٹر(اتنا بڑا ہوگا کہ)تاحد ِنگاہ پھیلا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس بندے سے پوچھیں گے اے میرے بندے!ان رجسٹروں میں جو کچھ لکھا ہوا ہے کیا آپ ان میں سے کسی بھی چیز کا انکار کرتے ہو یہ سمجھتے ہوئے کہ میری طرف سے مقرر کردہ لکھنے والے فرشتوں نے تیرے ساتھ کوئی زیادتی کی ہو؟ وہ بندہ عرض کرے گا کہ نہیں میں کسی بھی چیز کا انکار نہیں کرتا(سب کچھ صحیح لکھا گیا ہے)اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھیں گے کہ کیا تیرے پاس ان کے بارے میں کوئی عذر ہے؟ وہ عرض کرے گا کہ اے میرے رب!میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے پاس تیری ایک نیکی باقی ہے اور آج آپ پر کوئی ظلم نہیں ہوگا پھر ایک پرچی نکالی جائے گی جس میں (اخلاص و توبہ کے ساتھ پڑھا ہوا)کلمہ شہادت لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جاؤ میزان عمل میں اس کا وزن کراؤ۔ بندہ گناہوں کے رجسٹروں کے مقابلے میں ایک پرچی کو کم سمجھتے ہوئے عرض کرے گا:اے میرے رب! اتنی چھوٹی سی پرچی کو اتنے بڑے بڑے رجسٹروں کے ساتھ کیا مناسبت؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تیرے ساتھ ذرہ برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔ اس کے بعد میزان عمل میں گناہوں کے رجسٹروں کے مقابلے میں کلمہ شہادت والا پرچہ رکھا جائے گا تو گناہوں والے رجسٹروں کا پلڑا ہلکا اور کلمہ شہادت والا پلڑا بھاری ہوگا۔

میزان عمل اور اخلاقِ حسنہ:

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن مومن کے میزان عمل میں اخلاق حسنہ سے زیادہ کوئی وزنی عمل نہیں ہوگا۔(جامع الترمذی، رقم الحدیث:2002)

میزان عمل اور قربانی:

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: فاطمہ!اپنی قربانی کے جانور کے ذبح ہونے کے وقت موجود رہو۔ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتا ہے تو قربانی کرنے والے کے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ قربانی کے جانور کو قیامت والیدن اس کے گوشت اور خون کے ساتھ لایا جائے گا اور اس کا اجر و ثواب ستر گنا تک بڑھا کرآپ کے میزان عمل میں رکھ دیاجائے گا۔(السنن الکبریٰ للبیہقی، رقم الحدیث:19161)

میزان عمل اور دو کلمے:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسے(مبارک)کلمے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت ہی محبوب ہیں، زبان سے ادائیگی کے وقت انتہائی آسان لیکن میزان عمل میں بہت ہی وزنی ہیں اور وہ یہ ہیں: سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیمِ۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:7563)

قرآن وسنت کی روشنی میں  ایسے اعمال  جن سے نیکیوں کا پلڑا جھک جائے گا

مزید :

ایڈیشن 1 -