قلعہ کی بحالی، اقدامات شروع، 7محکموں کو ایک چھتری تلے لانے کا فیصلہ 

قلعہ کی بحالی، اقدامات شروع، 7محکموں کو ایک چھتری تلے لانے کا فیصلہ 

  

   ملتان ( سٹی رپورٹر)قلعہ کہنہ قاسم باغ پر واقع تاریخی ورثے کو اصل حالت میں بحال کرنے کے لئے اقدامات کا آغاز کردیا گیا۔غیر ضروری تعمیرات روکنے کے (بقیہ نمبر29صفحہ6پر)

لئے قلعہ پر کام کرنیوالے7 سرکاری اداروں کو ایک چھتری تلے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ فیصلہ سول سیکرٹریٹ جنوبی پنجاب میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹر اختر ملک، وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ پنجاب کیپٹن ر ثاقب ظفر نے کی۔چئیرمین والڈ سٹی پراجیکٹ محمدندیم قریشی، ایم پی اے جاوید اخترانصاری،کمشنر ڈاکٹر ارشاد احمد، ڈپٹی کمشنر عامرکریم خان،ڈی جی پی ایچ اے،اوقاف اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ پروفیسر ساجدہ حیدر ونڈل نے قلعہ کے پلان بارے بریفنگ دی۔وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹر اختر ملک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کو سیاحوں کے لئے پْر کشش بنایا جائے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ پنجاب کیپٹن(ر) ثاقب ظفر نے کہا کہ قلعہ پر اضافی  تعمیرات روکنے کے لئے فوکل پرسن مقرر کیا جائے گا اور کمیٹی تشکیل دی جائے گی،فوکل پرسن کی منظوری کے بغیر قلعہ پر کوئی ترقیاتی سرگرمی شروع نہیں کی جا سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ حضرت بہاالدین زکریا اور حضرت شاہ رکن عالم کے مزارت کی اصل حالت میں بحالی پر1 کروڑ90 لاکھ روپے خرچ کئے جارہے ہیں، ان مزارات پر ترقیاتی کام یکم نومبر سے محکمہ اوقاف کی نگرانی میں شروع کیا جارہے ہیں۔پی ایچ اے  قلعہ کی خوبصورتی اور لینڈ سکیپنگ پر3 کروڑ روپے صرف کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قاسم فورٹ کو بفر زون قرار دیا جائے گا تاکہ غیر ضروری تعمیرات کا راستہ روکا جا سکے۔وزیر ثقافت پنجاب خیال احمد کاسترو نے کہا کہ حکومت صوبے میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے لئے جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے۔چئیرمین والڈ سٹی پراجیکٹ محمد ندیم قریشی نے بتایا کہ صرافہ بازار، مسافر خانہ اور حرم گیٹ کو اسکی اصل حالت میں بحال کر دیا گیا ہے۔کمشنر ملتان ڈویژن ڈاکٹر ارشاد احمد نے کہا کہ قلعہ کی خوبصورتی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ڈپٹی کمشنر عامر کریم خان نے کہا کہ قلعہ پر واقع تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو تفریح کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -