خیبر، مختلف چیک پوسٹوں پر اہلکاروں کی برطرفی کے بعد ٹریفک کے مسائل 

  خیبر، مختلف چیک پوسٹوں پر اہلکاروں کی برطرفی کے بعد ٹریفک کے مسائل 

  

        خیبر(بیورورپورٹ) لنڈی کوتل مچینی چیک پوسٹ اور طورخم میں مختلف چیک پوائنٹس سے پولیس اہلکاروں کی برطرفی کے بعد ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہو گیا مچنی چیک پوسٹ سے طورخم تک بد ترین ٹریفک جام ہو گیا  جس کے باعث ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،ڈی پی او خواب خرگوش سو رہے ہیں فوری طور پر پولیس اہلکار تعینات کریں،ٹرانسپورٹ یونین صدر حاجی عظیم اللہ شینواری گزشتہ روز ڈی پی او خیبر نے مچنی چیک پوسٹ اور طورخم بارڈر سے پولیس اہلکاروں کو برطرف کرکے چیک پوسٹ اور چیک پوائنٹس خالی چھوڑ گئے جسکی وجہ سے مچنی چیک سے طورخم تک ٹریفک جام کا بد ترین مسئلہ پیدا ہو گیا ہے ہزاروں چھوٹے بڑی گاڑیاں طورخم تک روزانہ آتے جاتے ہیں جبکہ مال بردار گاڑیاں بھی شاہراہ پر لائنوں میں کھڑی ہوتی ہے جو پولیس اہلکار نمبر پر چھوڑتے ہیں لیکن پولیس اہلکاروں کی برطرفی کے بعد افراتفری پھیل گئی اور مختلف جگہوں پر ٹریفک جام ہو گئی جسکی وجہ سے افغانستان آنے جانے والے مسافر بھی شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے اس حوالے سے طورخم ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی عظیم اللہ شینواری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لنڈی کوتل مچینی چیک پوسٹ سے لیکر طورخم بارڈر تک دونوں اطراف سے مال بردار گاڑیوں کے رش کا  مسئلہ بن گیا ہیں اور ٹریفک جام ہیں انہوں نے کہا کہ مچینی چیک پوسٹ سے لیکر طورخم بارڈر تک پولیس اہلکار نہ ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گئی ہے جبکہ رات کے وقت بھی گاڑیاں کھڑی ہوتی ہے اس لئے ٹرانسپورٹرز کو سیکورٹی دینا بھی ضروری ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز ا، ڈرائیورز اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہیں طورخم ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی عظیم اللہ شینواری نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ لنڈی کوتل پاک افغان شاہراہ مچینی چیک پوسٹ سے لیکر طورخم بارڈر تک ٹریفک جام کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اور سیکورٹی دینے کی خاطر پولیس  اہلکاروں کو تعینات کریں تاکہ طورخم بارڈر پر مال بردار گاڑیوں کی ٹریفک جام کے مسئلے کے ساتھ مسافروں کی رش بھی کنٹرول کریں اور مشکلات بھی کم ہوسکے۔۔۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -